ٹیگ کے محفوظات: نکور

جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 590
دکھا رہا ہے بدن پھر نیا نکور مجھے
جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے
مقابلہ کا کہے موسموں کی وحشت سے
نکل کے دھوپ کی پیٹنگ سے تازہ تھور مجھے
میں رات رات نہاتا تھا جس کی کرنوں سے
وہ بھولتا ہی نہیں ہے سیہ بلور مجھے
مثالِ مصرعِ غالب مرے بدن پہ اتر
لبِ سروش صفت اور کر نہ بور مجھے
یا مری ذات کا کوئی وجودہے ہی نہیں
یا زندگی میں ملے لوگ چشم کور مجھے
عجب ہیں میری محبت مزاجیاں منصور
سمجھ رہا ہے کوئی چاند پھر چکور مجھے
منصور آفاق

کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 537
بھر گئی تھی بیسمنٹ نیکیوں کے شور سے
کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے
نیم گرم دودھ کے ٹب میں میرے جسم کا
روشنی مساج کر اپنی پور پور سے
زاویہ وصال کا رہ نہ جائے ایک بھی
شاد کام جسم ہو لمس کے سکور سے
فاختہ کے خون سے ہونٹ اپنے سرخ رکھ
فائروں کے گیت سن اپنی بارہ بور سے
بام بام روشنی پول پول لائٹیں
رابطے رہے نہیں چاند کے چکور سے
وحشتِ گناہ سے نوچ لے لباس کو
نیکیوں کی پوٹلی کھول زور زور سے
واعظوں کی ناف پر کسبیوں کے ہاتھ ہیں
کوتوالِ شہر کی دوستی ہے چور سے
شیر کے شکار پر جانے والی توپ کی
رات بھر بڑی رہی بات چیت مور سے
خوابِ گاہِ یاد کی ایک الف داستاں
سُن پرانی رات میں اُس نئی نکور سے
منصور آفاق

راتیں اوہدے پیار دا نشہ ہور دا ہور سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 77
کمرہ سی مشکاوندا، یا فر چپ دا شور سی
راتیں اوہدے پیار دا نشہ ہور دا ہور سی
مَیں وی کھچ نہ سکیا، کوئی تصویر اُس یار دی
قدسی ویل خیال جیہی عجب جیہی کجھ ٹور سی
چلنا کھُریوں پب تے، مر گئے لوگ ایس ڈھب تے
مہکی ہوئی بہار دا، کیہ چوطرفہ زور سی
اِک دوجاگھیں کھِچ توں، ہے سی کُجھ بے آبیا
جامہ اوہدے پیار دا، اُنج تے نواں نکور سی
ڈٹھا ماجدُ یار وی، اکھیوں نِیر چوآوندا
مَیں تے ایہو سی جانیا، اینویں جیہا کوئی چھوہر سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)