ٹیگ کے محفوظات: نکل

وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

دمِ صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دُھن میں تیری دوستی کو چھوڑا
کوئی تجھ سا بھی نہ پایا تِرے شہر سے نکل کے
وہی رسمِ کم نگاہی وہی رات کی سیاہی
مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے
نئے خواب میری منزل تہِ آب میرا ساحل
تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے
سرِ شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہے
کوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے
یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہے
اِسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے
یہ مشاہدہ ہے میرا رہِ زندگی میں باصرِؔ
وہی منہ کے بَل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے
باصر کاظمی

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 76
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں
یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں
یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر
چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 77
چپ ہے آغاز میں، پھر شورِ اجل پڑتا ہے
اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے
ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری
ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے
یاد کا پھول مہکتے ہی نواحِ شب میں
کوئی خوشبو سے ملاقات کو چل پڑتا ہے
حجرہِٗ ذات میں سنّاٹا ہی ایسا ہے کہ دل
دھیان میں گونجتی آہٹ پہ اچھل پڑتا ہے
روک لیتا ہے ابد وقت کے اُس پار کی راہ
دوسری سمت سے جاوٗں تو ازل پڑتا ہے
ساعتوں کی یہی تکرار ہے جاری پر دم
میری دنیا میں کوئی آج، نہ کل پڑتا ہے
تابِ یک لحظہ کہاں حسنِ جنوں خیز کے پیش
سانس لینے سے توجّہ میں خلل پڑتا ہے
مجھ میں پھیلی ہوئی تاریکی سے گھبرا کے کوئی
روشنی دیکھ کے مجھ میں سے نکل پڑتا ہے
جب بھی لگتا ہے سخن کی نہ کوئی لوَ ہے نہ رَو
دفعتاً حرف کوئی خوں میں مچل پڑتا ہے
غم چھپائے نہیں چھپتا ہے کروں کیا عرفان
نام لوں اُس کا تو آواز میں بل پڑتا ہے
عرفان ستار

مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 93
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے
پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے
کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے
آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے
پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے
پروین شاکر

یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 135
باغباں برق کا جب طور بدل جاتا ہے
یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے
کچھ وہ کہہ دیتے ہیں بیمار سنبھل جاتا ہے
وقت کا ٹالنے والا ہو تو ٹل جاتا ہے
عشق اور حسن سے مانوس یہ کیسے مانیں
شمع کو دیکھ کہ پروانہ تو جل جاتا ہے
کون ساحل پہ دعا مانگ رہا ہے یا رب
بچ کے طوفان مری کشتی سے نکل جاتا ہے
اب بھی سنبھلا نہیں او ٹھوکریں کھانے والے
ٹھوکریں کھا کہ تو انسان سنبھل جاتا ہے
ہجر کی رات ہے وہ رات کہ یا رب توبہ
شام سے صبح تک انسان بدل جاتا ہے
یاس و امید کا عالم ہے یہ شامِ وعدہ
کبھی بجھتا ہے چراغ اور کبھی جل جاتا ہے
عہد کرتے ہیں کہ اب ان سے ملیں گے نہ قمر
کیا کریں دیکھ کہ دل ان کو مچل جاتا ہے
قمر جلالوی

یہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 26
موسیٰؑ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گا
یہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گا
میری بالیں پہ رونے سے کیا فائدہ
کی مری موت کس وقت ٹل جائے گا
کیا عیادت کو اس وقت آؤ گے تم
جب ہمارا جنازہ نکل جائے گا
کم سنی میں ہی کہتی تھی تیری نظر
تو جواں ہو کے آنکھیں بدل جائے گا
سب کو دنیا سے جانا ہے اک دن قمر
رہ گیا آج کوئی تو کل جائے گا
قمر جلالوی

ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 24
جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا
ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا
پروانہ بنا میرے جلانے کو وفادار
محفل میں کوئی شمع بدل جائے تو اچھا
کس چین سے نظارۂ ہر دم ہو میسر
دل کوچۂ دشمن میں بہل جائے تو اچھا
تم غیر کے قابو سے نکل آؤ تو بہتر
حسرت یہ مرے دل کی نکل جائے تو اچھا
سودا زدہ کہتے ہیں، ہوا شیفتہ افسوس
تھا دوست ہمارا بھی، سنبھل جائے تو اچھا
مصطفٰی خان شیفتہ

کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا

دیوان چہارم غزل 1325
شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا
کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا
بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا
دے گل کو آگ چار طرف میں نہ جل گیا
اس آہوے رمیدہ کی شوخی کہیں سو کیا
دکھلائی دے گیا تو چھلاوا سا چھل گیا
دن رات خوں کیا ہی کیے ہم جگر کو پھر
گر پھول گل سے کوئی گھڑی جی بہل گیا
تیور بدلنے سے تو نہیں اس کے بے حواس
اندیشہ یہ ہے طور ہی اس کا بدل گیا
ہرچند میں نے شوق کو پنہاں کیا ولے
ایک آدھ حرف پیار کا منھ سے نکل گیا
کرتے ہیں نذر ہم کہ نہ الفت کریں کہیں
گر دل ضعیف اب کے ہمارا سنبھل گیا
چلنے لگے تھے راہ طلب پر ہزار شکر
پہلے قدم ہی پائوں ہمارا بچل گیا
میں دہ دلا تو آگے ہی تھا فرط شوق سے
طور اس کا دیکھ اور بھی کچھ دل دہل گیا
سر اب لگے جھکانے بہت خاک کی طرف
شاید کہ میرجی کا دماغی خلل گیا
میر تقی میر

رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا

دیوان دوم غزل 720
مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا
رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا
خواب میں کل پائوں اپنے دوست کے ملتا تھا میں
آنکھ دشمن کھل گئی سو ہاتھ مل کر رہ گیا
ہم تو تھے سرگرم پابوسی خدا نے خیر کی
نیمچہ کل خوش غلاف اس کا اگل کر رہ گیا
ہم بھی دنیا کی طلب میں سر کے بل ہوتے کھڑے
بارے اپنا پائوں اس رہ میں بچل کر رہ گیا
کیا کہوں بیتابی شب سے کہ ناچار اس بغیر
دل مرے سینے میں دو دو ہاتھ اچھل کر رہ گیا
کیا ہمیں کو یار کے تیغے نے کھاکر دم لیا
ایسے بہتیروں کو یہ اژدر نگل کر رہ گیا
دو قدم ساتھ اس جفا جو کے چلا جاتا ہے جی
بوالہوس عیار تھا دیکھا نہ ٹل کر رہ گیا
آنکھ کچھ اپنی ہی اس کے سامنے ہوتی نہیں
جن نے وہ خونخوار سج دیکھی دہل کر رہ گیا
ایک ڈھیری راکھ کی تھی صبح جاے میر پر
برسوں سے جلتا تھا شاید رات جل کر رہ گیا
میر تقی میر

مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا

دیوان دوم غزل 679
مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا
مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا
پہنچے ہے کوئی اس تن نازک کے لطف کو
گل گو چمن میں جامے سے اپنے نکل پڑا
میں جو کہا اک آگ سی سلگے ہے دل کے بیچ
کہنے لگا کہ یوں ہی کوئی دن تو جل پڑا
بل کیوں نہ کھائیے کہ لگا رہنے اب تو واں
بالوں میں اور پیچ میں پگڑی کے بل پڑا
تھے اختلال اگرچہ مزاجوں میں کب سے لیک
ہلنے میں اس پلک کے نہایت خلل پڑا
رہتا نہیں ہے آنکھ سے آنسو ترے لیے
دیکھی جو اچھی شے تو یہ لڑکا مچل پڑا
سر اس کے پائوں سے نہیں اٹھتے ستم ہے میر
گر خوش غلاف نیمچہ اس کا اگل پڑا
میر تقی میر

کیا جی تدرو کا جو ترے آگے چل سکے

دیوان اول غزل 586
تیرا خرام دیکھے تو جا سے نہ ہل سکے
کیا جی تدرو کا جو ترے آگے چل سکے
اس دل جلے کی تاب کے لانے کو عشق ہے
فانوس کی سی شمع جو پردے میں جل سکے
کہتا ہے کون تجھ کو کہ اے سینہ رک نہ جا
اتنا تو ہو کہ آہ جگر سے نکل سکے
گر دوپہر کو اس کو نکلنے دے نازکی
حیرت سے آفتاب کی پھر دن نہ ڈھل سکے
کیا اس غریب کو ہو سرسایۂ ہما
جو اپنی بے دماغی سے مکھی نہ جھل سکے
ہے جاے حیف بزم جہاں مل لے اے پتنگ
اپنے اپر جو کوئی گھڑی ہاتھ مل سکے
ہے وہ بلاے عشق کہ آئے سو آئے ہے
کلول نہیں ہے ایسی محبت کہ ٹل سکے
کس کو ہے آرزوے افاقت فراق میں
ایسا تو ہو کہ کوئی گھڑی جی سنبھل سکے
مت ابر چشم کم سے مری چشم تر کو دیکھ
چشمہ ہے یہ وہ جس سے کہ دریا ابل سکے
کہتا ہے وہ تو ایک کی دس میر کم سخن
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکے
تغئیرقافیہ سے یہ طرحی غزل کہوں
تا جس میں زور کچھ تو طبیعت کا چل سکے
میر تقی میر

راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا

دیوان اول غزل 39
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
تیوری چڑھائی تونے کہ یاں جی نکل گیا
گرمی عشق مانع نشوونما ہوئی
میں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میں
لغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب
چل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار
یاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا
عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میر
مجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا
میر تقی میر

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

دیوان اول غزل 21
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری
میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ
اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو
پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں
واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ
آنکھوں کو غزالوں کی پائوں تلے مل جاتا
بے تاب و تواں یوں میں کا ہے کو تلف ہوتا
یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی
وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
مارا گیا تب گذرا بوسے سے ترے لب کے
کیا میر بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
میر تقی میر

کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کثرتِ جلوۂ امکان کو چل کر دیکھیں
کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں
اپنی پس ماندگیاں ، راحتیں لگتی ہیں جنہیں
تکیۂ عادت تکرار بدل کر دیکھیں
جنبشِ لطف سے دستار نہ گر جائے کہیں
بام سے منظر دنیا کو سنبھل کر دیکھیں
پا فتادہ سرِ دریا ہوں کھڑا برسوں سے
اور لہریں مجھے دریا سے اُچھل کر دیکھیں
گرمیِٔ مے سے ہوں شفاف یہ سیسہ آنکھیں
آؤ اِس شعلۂ شب تاب میں جل کر دیکھیں
زندگی کوئی کلیشے تو نہیں جینے کا
اسکی صد زاویہ راہوں میں نکل کر دیکھیں
عمرِ کوتاہ گزرنے کو ہے آؤ! آؤ!
اسکے ہر نور میں ہر نار میں ڈھل کر دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی
جب تجھے یاد کرلیا، صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی
دل سے تو ہر معاملہ کرکے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
آخرِ شب کے ہمسفر فیض نجانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا، صبح کدھر نکل گئی
جناح ہسپتال کراچی
فیض احمد فیض

کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 163
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات
تو اب طلوع بھی ہوجا کہ ڈھل رہا ہوں میں
بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو
تو آج پیرہنِ جاں بدل رہا ہوں میں
غبارِ راہ گزر کا یہ حوصلہ بھی تو دیکھ
ہوائے تازہ ترے ساتھ چل رہا ہوں میں
میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکارتا ہے
اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں میں
عرفان صدیقی

میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 60
زندہ رہنا تھا سو جاں نذرِ اجل کر آیا
میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا
میں نے کی تھی صفِ اعدا سے مبارز طلبی
تیر لیکن صفِ یاراں سے نکل کر آیا
تو نے کیا سوچ کے اس شاخ پہ وارا تھا مجھے
دیکھ میں پیرہن برگ بدل کر آیا
یہ ہوس ہو کہ محبت ہو، مگر چہرے پر
اک نیا رنگ اسی آگ میں جل کر آیا
عرفان صدیقی

زندگی ساتھ چل محبت کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 577
پاس ہیں چار پل محبت کے
زندگی ساتھ چل محبت کے
نت نئے دائرے بناتے ہیں
پانیوں میں کنول محبت کے
کیسے کیسے گلاب کھلتے ہیں
کیا ہیں سندر عمل محبت کے
شاہزادی نکلنے والی ہے
سج چکے ہیں محل محبت کے
جب بھی نروان کے سفر پہ نکل
داغ لے کے نکل محبت کے
یہی خونِ جگرکا حاصل ہے
ہے لبوں پر غزل محبت کے
اب کہانی کو موڑ دے منصور
زاویے کچھ بدل محبت کے
منصور آفاق

یہ کہاں تک آ گئے ہیں ساتھ چل کے آئینے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 568
دیکھتا ہوں خواب میں تیرے محل کے آئینے
یہ کہاں تک آ گئے ہیں ساتھ چل کے آئینے
میں نے دیواروں پہ تیری شکل کیا تصویر کی
آ گئے کمرے میں آنکھوں سے نکل کے آئینے
آدمی نے اپنی صورت پر تراشے دیوتا
آپ اپنی ہی عبادت کی، بدل کے آئینے
ساڑھی کے شیشوں میں میرا لمسِ تازہ دیکھ کر
تیرے شانوں سے نظر کے ساتھ ڈھلکے آئینے
آخری نقطے تلک دیکھا تھا اپنی آنکھ میں
اور پھر دھندلا گئے تھے ہلکے ہلکے آئینے
ایک سورج ہے ترے مد مقابل آج رات
دیکھ اس کو دیکھ لیکن کچھ سنبھل کے آئینے
سینہء شب میں حرارت تھی کچھ اتنی چاند کی
پارہ پارہ ہو گئے ہیں دو پگھل کے آئینے
پھر برہنہ شخصیت ہونے لگی دونوں طرف
جب شرابوں سے بھرے کچھ دیر چھلکے آئینے
منصور آفاق

دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 14
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہو جائے دنیا اُدھر کو
زمانے کو بدلو نہ آنکھیں بدل کر
وہ کرتے ہیں باتیں عجب چکنی چکنی
یہ مطلب کہ چوپٹ ہو کوئی پھسل کر
وہ مضطر ہوں، میں کیا مرے ساتھ گھڑیوں
تڑپتا ہے سایہ بھی کروٹ بدل کر
یہ کہتی ہے وہ زلف عمر خضر سے
کہ مجھ سے کہاں جائے گی تو نکل کر
گلستاں نہیں ہے یہ بزم سخن ہے
کہو شاعروں سے کہ پھولیں نہ پھل کر
غضب اوج پر ہے مری بے قراری
زمین آسماں بن گئی ہے اُچھل کر
پڑا تیر دل پر جو منہ تو نے پھیرا
نشانہ اُڑایا ہے کیا رخ بدل کر
نہ آئیں گے وہ آج کی شب بھی شاید
کہ تارے چھپے پھر فلک پر نکل کر
چلو وحشیو بزم گلزار مہکے
گل آئے ہیں پوشاک میں عطر مل کر
چھپا کب ، بہت خاک ظالم نے ڈالی
شفق بن گیا خون میرا اُچھل کر
کمر بال سی ہے ، نہ لچکے یہ ڈر ہے
جوانی پر اے ترک اتنا نہ بل کر
حضور اس کی باتیں جو کیں ڈرتے ڈرتے
کھڑا ہو رہا دور مطلب نکل کر
چھپے حرف گیری سے سب عیب میرے
ہوئی پردہ ہر بات میں تہ نکل کر
وہ ہوں لالہ ساں سوختہ بخت میکش
کہ مے ہو گئی داغ ساغر میں جل کر
کہے شعر امیر اُس کمر کے ہزاروں
مگر رہ گئے کتنے پہلو نکل کر
امیر مینائی

بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 131
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں
آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں
پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں
ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں
آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں
حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں
کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
باقی صدیقی

چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 89
کی ہویا، توُں نہ آئیوں وَل کے
چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے
کل دے دعویدار، عشقے دے
بہہ گئے اج، سواہ منہ مل کے
بے سمتے سہئی، ٹُرپئے آں تے
ہن کی مڑنا، دُور نکل کے
بِڑکاں تے، کن لاندا رہناں
واواں ہتھ، سنہیوڑے گھل کے
جیون پندھ سی، دُوں قدماں دا
کٹیا تُدھ، پر نال نہ چل کے
ماجدُ ایہہ گل، جانے کیہڑا
اج کی اے، کی ہوسی بھل کے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)