ٹیگ کے محفوظات: نکال

جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی

تہِ خاک خواب و خیال آسمانی
جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی
مرے من پہ طاری مرے تن پہ جاری
محبت زمینی، دھمال آسمانی
ہمیں گرمئ روز و شب سے بچا لے
زمیں پر بچھا! برشگال آسمانی
پریشان ہو کر نہ دیکھو مجھے تم
نہیں دے رہا میں مثال آسمانی
زمیں بوس ہونے کو تیار ہوں میں
کہاں تک چلے گا تو چال آسمانی؟
قدم ڈولنے تک خبرگیر لمحے
مرے دل سے کانٹا نکال آسمانی!
شبِ قدر کے قدرداں جانتے ہیں
فلک تیرا جاہ و جلال آسمانی
افتخار فلک

دل کے شیشے میں جتنے بال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 122
جی جلانے نہ اِتنے سال آئے
دل کے شیشے میں جتنے بال آئے
دشت میں کچھ رہا نہیں شاید
رات بستی میں پھر شغال آئے
کس پہ برسیں جُز اپنے پیکر کے
بُلبلوں کو گر اشتعال آئے
اے غمِ جاں! ترے کہے پر ہم
آج دل کا کہا بھی ٹال آئے
جن سے ہوتی تھی برہمی اُن کو
پھر نہ ہونٹوں پہ وہ سوال آئے
سانپ بھی تو لگے مہذّب ہی
زہر دانتوں سے جب نکال آئے
جس کے بس میں ہو کچھ ضرر ماجدؔ
ہاتھ اُسی کے ہی اب کمال آئے
ماجد صدیقی

چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
نظر میں رنج ہے سہلا رہا ہوں گال اپنے
چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے
اجُڑ گئے کسی بیوہ کے گیسوؤں کی طرح
وہ جن پہ ناز تھا، ہاں ہاں وہ ماہ و سال اپنے
ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ
جنوں کے مُرغ! نہ تو بال و پر پر نکال اپنے
اِدھر تو کاہِ نشیمن نہ چونچ تک پہنچا
اُٹھا کے دوش پہ نکلے اُدھر وہ جال اپنے
اُڑان ہی سے تھے فیضان سارے وابستہ
پروں کے ساتھ سمٹتے گئے کمال اپنے
دبا نہ اور ابھی تُو گلوئے ہم جِنساں
یہ سارے بوجھ خلاؤں میں اب اُچھال اپنے
بہ شاخِ نطق ہیں پہرے اگر یہی ماجدؔ
کوئی خیال نہ لفظوں میں تو بھی ڈھال اپنے
ماجد صدیقی

سو دوسروں کے لئے تجربے مثال کے رکھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 85
فقط ہنر ہی نہیں عیب بھی کمال کے رکھ
سو دوسروں کے لئے تجربے مثال کے رکھ
نہیں ہے تاب تو پھر عاشقی کی راہ نہ چل
یہ کارزار جنوں ہے جگر نکال کے رکھ
سبھی کے ہاتھ دلوں پر نگاہ تجھ پر ہے
قدح بدست ہے ساقی قدم سنبھال کے رکھ
فراز بھول بھی جا سانحے محبت کے
ہتھیلیوں پہ نہ اِن آبلوں کو پال کے رکھ
احمد فراز

گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 73
ڈرا رہا ہے مسلسل یہی سوال مجھے
گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے
بچھڑتے وقت اضافہ نہ اپنے رنج میں کر
یہی سمجھ کہ ہوا ہے بہت ملال مجھے
وہ شہرِ ہجر عجب شہرِ پُر تحیر تھا
بہت دنوں میں تو آیا ترا خیال مجھے
تُو میرے خواب کو عجلت میں رائگاں نہ سمجھ
ابھی سخن گہِ امکاں سے مت نکال مجھے
کسے خبر کہ تہِ خاک آگ زندہ ہو
ذرا سی دیر ٹھہر ، اور دیکھ بھال مجھے
کہاں کا وصل کہ اس شہرِ پُر فشار میں اب
ترا فراق بھی لگنے لگا محال مجھے
اِسی کے دم سے تو قائم ابھی ہے تارِ نفس
یہ اک امید کہ رکھتی ہے پُر سوال مجھے
کہوں میں تازہ غزل اے ہوائے تازہ دلی
ذرا سی دیر کو رکھے جو تُو بحال مجھے
خرامِ عمر کسی شہرِ پُر ملال کو چل
کیے ہوئے ہے یہ آسودگی نڈھال مجھے
کہاں سے لائیں بھلا ہم جوازِ ہم سفری
تجھے عزیز ترے خواب، میرا حال مجھے
اُبھر رہا ہوں میں سطحِ عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مجھے
یہاں تو حبس بہت ہے سو گردِ بادِ جنوں
مدارِ وقت سے باہر کہیں اچھال مجھے
پھر اس کے بعد نہ تُو ہے، نہ یہ چراغ، نہ میں
سحر کی پہلی کرن تک ذرا سنبھال مجھے
عرفان ستار

دل کلیجا نکال لیتے ہیں

دیوان سوم غزل 1203
جس کا خوباں خیال لیتے ہیں
دل کلیجا نکال لیتے ہیں
کیا نظرگاہ ہے کہ شرم سے گل
سر گریباں میں ڈال لیتے ہیں
دیکھ اسے ہو ملک سے بھی لغزش
ہم تو دل کو سنبھال لیتے ہیں
کھول کر بال سادہ رو لڑکے
خلق کا کیوں وبال لیتے ہیں
تیغ کھینچے ہیں جب یہ خوش ظاہر
ماہ و خور منھ پہ ڈھال لیتے ہیں
دلبراں نقد دل کو عاشق کے
جان کر اپنا مال لیتے ہیں
ہیں گدا میر بھی ولے دوجہاں
کرکے اک ہی سوال لیتے ہیں
میر تقی میر

جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا

دیوان سوم غزل 1088
وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
ہم کیا کریں علاقہ جس کو بہت ہے اس سے
رکھ دیتے ہیں گلے پر خنجر نکال اس کا
بس ہو تو وام کر بھی اس پر نثار کریے
یک نقد دل رکھے ہیں سو تو ہے مال اس کا
یہ جانتا تو اس سے ہم خواب میں نہ ہوتا
پکا خیال جی کا ایسا خیال اس کا
ان زلفوں سے نہ لگ کر چل اے نسیم ظالم
تاریک ہے جہاں پھر بکا جو بال اس کا
جس داغ سے کہ عالم ہے مبتلا بلا میں
سو داغ جان عاشق منھ پر ہے خال اس کا
مستانہ ساتھ میرے روتی پھرے ہے بلبل
گل سے جو دل لگا ہے ابتر ہے حال اس کا
میری طرح جھکے ہیں بے خود ہو سرو و گل بھی
دیکھا کہیں چمن میں شاید جمال اس کا
کیا تم کو پیار سے وہ اے میر منھ لگاوے
پہلے ہی چومے تم تو کاٹو ہو گال اس کا
میر تقی میر

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

دیوان اول غزل 541
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
صید بندوں نے جال ڈال رکھے
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ
یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
رہرو راہ خوفناک عشق
چاہیے پائوں کو سنبھال رکھے
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے
وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب
ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک
مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
سمجھے انداز شعر کو میرے
میر کا سا اگر کمال رکھے
میر تقی میر

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل

دیوان اول غزل 268
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل
اک آن میں بدلتی ہے صورت جہان کی
جلد اس نگارخانے سے کر انتقال چل
سالک بہر طریق بدن ہے وبال جاں
یہ بوجھ تیرے ساتھ جو ہے اس کو ڈال چل
آوارہ میرے ہونے کا باعث وہ زلف ہے
کافر ہوں اس میں ہووے اگر ایک بال چل
دنیا ہے میر حادثہ گاہ مقرری
یاں سے تو اپنا پائوں شتابی نکال چل
میر تقی میر

کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا

دیوان اول غزل 82
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بھل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے
گلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
بتاں کی میر ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
میر تقی میر

غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 1
زمیں کی کشت میں بو، آندھیوں میں پال مجھے
غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے
میں اپنے ظرف میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا
چھلک رہا ہوں ، ذرا دے میرے مثال مجھے
جلا چراغ تو شب سائیں سائیں کرنے لگی
ذرا سی موجِ طرب کر گئی نڈھال مجھے
میں اپنی اصل کو دیکھوں تری نگاہوں سے
مرے وجود سے باہر ذرا نکال مجھے
میں پیش وقت ہوں مجرم ہوں اِس زمانے کا
نئی سیاستیں شاید کریں بحال مجھے
کسی کے ہارے ہوئے عزم کی ضمانت ہوں
بنا رکھا ہے زمانے نے یرغمال مجھے
میں اپنی ذات میں ہوں سرحدوں کا باشندہ
منافقت نے سکھایا ہے اعتدال مجھے
آفتاب اقبال شمیم

پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 572
ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے
میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے
دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے
بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے
تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے
پازیب کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے
اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے
سر پہ سجا لیے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لیے ہیں درندوں کی کھال کے
آنکھوں تلک پہنچ گئی، دلدل تو کیا کروں
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے
حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے
میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے
منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
منصور آفاق

دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 254
بل کھاتے موڑ تیرے ، تیرا یہ مال روڈ
دیکھا ہوا ہے میں نے تیرامنال روڈ
وہ وجد و حال و مستی جانے کہاں گئے ہیں
خالی پڑا ہوا ہے کب سے دھمال روڈ
رہ جائے گی یہ پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ
اے زندگی یہاں سے کوئی نکال روڈ
بارش برس رہی ہے آنکھوں کے آس پاس
سیلاب میں گھری ہے اپنی کنال روڈ
نکلے نفی کے شہر سے اثبات کی سڑک
جائے جو آسماں کو من کی قتال روڈ
ناراض موسموں سے آئی ہے کوئی کال
منصور ہو گئی ہے گھر کی بحال روڈ
منصور آفاق

اک نئے عم کی طرح ڈال گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اک نئے غم کی طرح ڈال گیا
زیست کس مرحلے پہ آ پہنچی
وضعداری کا بھی سوال گیا
غم دل پر غم جہاں کا گماں
چھوڑئیے لطف عرض حال گیا
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا
درد اٹھا کچھ اس طرح باقیؔ
دل کی سب حسرتیں نکال گیا
باقی صدیقی