ٹیگ کے محفوظات: نکالے

یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیا
یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا
رسیاں اُن کے لئے جیسے فلک بھیجے گا
ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا
کب کوئی سانپ دبا لے، کوئی شاہیں آلے
چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا
جانے والے، ہیں بس اتنے سا پتہ چھوڑ گئے
دیکھ لے بند کواڑوں پہ ہیں جالے کیا کیا
چاہتیں وقفِ غرض، نیّتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
کب سے شہباز ہیں جو، محو اسی فکر میں ہیں
چیونٹیوں نے بھی یہاں، پَر ہیں نکالے کیا کیا
سَر اُٹھانے کی ہوئی جب بھی جسارت ہم سے
ہم پہ ماجدؔ نہ تنے طیش کے بھالے کیا کیا
ماجد صدیقی

گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے

دیوان اول غزل 488
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
وہ کالا چور ہے خال رخ یار
کہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرالے
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم
خدا ہی اس مصیبت سے نکالے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے
کبھو تو پاس ہم کو بھی بلالے
دلا بازی نہ کر ان گیسوئوں سے
نہیں آساں کھلانے سانپ کالے
طپش نے دل جگر کی مار ڈالا
بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
نہ مہکے بوے گل اے کاش یک چند
ابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
کسے قید قفس میں یاد گل کی
پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
ستایا میر غم کش کو کنھوں نے
کہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
میر تقی میر

آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے

دیوان اول غزل 480
کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے
آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے
سو ظلم اٹھائے تو کبھو دور سے دیکھا
ہرگز نہ ہوا یہ کہ ہمیں پاس بلا لے
اس شوخ کی سرتیز پلک ہیں کہ وہ کانٹا
گڑ جائے اگر آنکھ میں سر دل سے نکالے
عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتن
کرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے
وے دن گئے جو ضبط کی طاقت تھی ہمیں بھی
اب دیدئہ خوں بار نہیں جاتے سنبھالے
احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبت
اب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھالے
دعواے قیامت کا مرے خوف اسے کیا
اک لطف میں وہ مجھ سے تنک رو کو منالے
کہتے ہیں حجاب رخ دلدار ہے ہستی
دیکھیں گے اگر یوں ہے بھلا جان بھی جا لے
میر اس سے نہ مل آہ کہ ڈرتے ہیں مبادا
بیباک ہے وہ شوخ کہیں مار نہ ڈالے
میر تقی میر

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی