ٹیگ کے محفوظات: نکالنے

میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 59
ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا
میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا
اسی کے وار نے ہشیار تر کیا مجھ کو
مرا عدو ہی مری تیغ اجالنے آیا
میں گر چکا تھا کہ نصرت کا رہوار لیے
مجھے مصاف سے کوئی نکالنے آیا
پھر اک رفیق ملا بے اماں مسافت میں
ہوا کا جھونکا بدن کو سنبھالنے آیا
میں شب اداس بہت تھا تو مہرباں موسم
گلے میں بازوئے مہتاب ڈالنے آیا
عرفان صدیقی

سیاہ رات سے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
سیاہ رات سے سورج نکالنے والا
مرا خدا مرے شیشے اُجالنے والا
شب کیسہ سے ہے ورج نکالنے والا
سنہری فصلوں کے بادل میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح کوئی چیز اس کے ہاتھ میں تھی
مرا بدن تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
زمیں کا درد اُٹھانے کا ظرف تو دیتا
یہ بوجھ بھی مرے شانوں پہ ڈالنے والا
عرفان صدیقی

سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مرا خدا، مرے شیشے اُجالنے والا
سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا
سن اے ہرے بھرے موسم میں تجھ سے کیا مانگوں
کہ تو نہیں مرے بچوں کو پالنے والا
دھنک کی طرح بدن میں اُتر گئی کوئی چیز
میں اِس قدر تو نہ تھا رنگ اُچھالنے والا
مجھے ملی تو سپر بن گئی ہے میرے لیے
وہ شئے کہ جس سے وہ تھا تیغ ڈھالنے والا
کسی کے نام میں یہ درد کیا لکھوں کہ یہاں
ہر ایک ہے یہ امانت سنبھالنے والا
میں ان کو بانٹتا جاؤں مجھے یہ ظرف بھی دے
محبتیں مری جھولی میں ڈالنے والا
عرفان صدیقی

قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 209
بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے والے
قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے
شب فراق کا احساس ہی نہ مٹ جائے
شب فراق کو ہنس ہنس کے ٹالنے والے
بہار بزم میں تحلیل ہو گیا ہوں میں
کہاں ہیں بزم سے مجھ کو نکالنے والے
غم حیات کی منزل ارے معاذ اﷲ
سنبھل سکے نہ جہاں کو سنبھالنے والے
نہ بھول جائیں کہیں اپنے آپ کو باقیؔ
خوشی کو ٹالیں مصیبت کو ٹالنے والے
باقی صدیقی