ٹیگ کے محفوظات: نورد

پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے

میں وہ نہیں جو ہار گیا موجِ درد سے
پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے
لوگوں کو تھا گمان کہ جاتا ہے قافلہ
رہ رَو تو نکلا ایک ہی دیوارِ گرد سے
جھپٹے نہ میرے بعد کسی بھی چراغ پر
یہ سوچ کر میں لڑتا رہا بادِ سرد سے
دھاگے میں کیا پروئیے ذرّوں کو ریت کے
یوں بھی جُدا رہے گا یہاں فرد فرد سے
واقف کسی سے کون، جہاں ہم طرح ہوں سب
بستی کا حال پوچھیے صحرا نورد سے
پتھر کے بند باندھ کے بیٹھے ہیں کب جری
کرتا ہے چھیڑ موجہِ طوفاں بھی مرد سے
دل میں کُھلا ہے روشنی کا بادباں شکیبؔ
آگے ملوں گا اب میں ستاروں کی گرد سے
شکیب جلالی

پھانکتی ہے کہاں کی گرد ہَوا

برگِ دل کی طرح ہے زرد ہَوا
پھانکتی ہے کہاں کی گرد ہَوا
دل میں یادوں کا زہر گھول دیا
کتنی قاتل ہے بن کی سرد ہَوا
روز لاتی ہے ان کہے پیغام
شہرِ خوباں سے کوچہ گرد ہَوا
دَم نہ مارے مری طرح جو سہے
اس زمانے کے گرم و سرد ہَوا
میں ہوں شعلہ بجاں، چراغ بدست
کس خلا کی ہے رہ نورد ہَوا
شکیب جلالی

عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 96
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی !
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا
یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے

دیوان دوم غزل 1033
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے
مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں مناسبت
میں شہر بند ہوں وہ بیاباں نورد ہے
کیا جانیے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ
چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے
واصل بحق ہوئے نہ جو ہم جان سے گئے
غیرت ہو کچھ مزاج میں جس کے وہ مرد ہے
ممکن نہیں کہ وصف علیؓ کوئی کر سکے
تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے
ٹھہرے نہ چرخ نیلی پہ انجم کی چشم شوخ
اس قصر میں لگا جو ہے کیا لاجورد ہے
کس سے جدا ہوئے ہیں کہ ایسے ہیں دردمند
منھ میر جی کا آج نہایت ہی زرد ہے
میر تقی میر

یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد

دیوان اول غزل 197
کیا ہے یہ جو گاہے آجاتی ہے آندھی کوئی زرد
یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد
شوق میں یہ محمل لیلیٰ کے ہو کر بے قرار
اک نہاد وادی مجنوں سے اٹھ چلتی ہے گرد
وجہ دم سردی نہیں میں جانتا رونے کے بعد
مینھ برسا ہے کہیں شاید ہوا آتی ہے سرد
مار رکھا باطن پیر مغاں نے شیخ کو
مل گیا اس پیر زن کو غیب سے ایک پیرمرد
ایک شب پہلو کیا تھا گرم ان نے تیرے ساتھ
رات کو رہتا ہے اکثر میر کے پہلو میں درد
میر تقی میر

سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا

دیوان اول غزل 136
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں
پھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیس
لیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیں
معشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
کیا میر ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا
نمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
میر تقی میر

اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا

دیوان اول غزل 126
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ
کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں
واں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا
دل بھی مرا جریدئہ عالم میں فرد تھا
تھا پشتہ ریگ بادیہ اک وقت کارواں
یہ گردباد کوئی بیاباں نورد تھا
گذری مدام اس کی جوانان مست میں
پیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
عاشق ہیں ہم تو میر کے بھی ضبط عشق کے
دل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
میر تقی میر

ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
آخرِکار سمیٹیں گے اسے اہلِ نبرد
ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد
ایک ہی جور پہ انداز دگر برپا ہے
مژدہ کیا لائے کہیں سے بھی ترا شہر نورد
موسموں کا یہ بدلنا بھی مقدر ٹھہرا
زرد سے سبز کبھی اور کبھی سبز سے زرد
جان دینے سے بھی آگے کا کوئی معرکہ ہو
طے کرے جو میرے اس مثبت و منفی کی نبرد
آفتاب اقبال شمیم