ٹیگ کے محفوظات: نوحہ

مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 17
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا
مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا
میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
قریب تیر رہا تھا بطخوں کا ایک جوڑا
میں آب جو کے کنارے اداس بیٹھا تھا
شب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے
کہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا
بنی نہیں جو کہیں پر، کلی کی تربت تھی
سنا نہیں جو کسی نے ، ہوا کا نوحہ تھا
یہ آڑی ترچھی لکیریں بنا گیا ہے کون
میں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا
میں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
اتر گیا ترے دل میں تو شعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیرِ سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا
میں ساحلوں میں اترا کر شکیبؔ کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
شکیب جلالی

آدم زاد خدا بن جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 55
پل میں کیا سے کیا بن جائے
آدم زاد خدا بن جائے
ظرفِ نظر کم کر کے دیکھو
قطرہ بھی دریا بن جائے
مات زمانے بھر کی کھا کر
شاید وہ ہم سا بن جائے
تُو جانے اے طائر تنہا!
نغمہ کیوں نوحہ بن جائے
اثنا بھی بے آس نہ ہونا
جینا ایک سزا بن جائے
وقت کا بھید ملا ہو جس کو
عہد بہ عہد نیا بن جائے
بس اک پہل ضروری ہے
پھر خود ہی رستا بن جائے
آفتاب اقبال شمیم

نوحہ

مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جانتے ہوئے

لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں

اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے

اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی ، یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں

مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال

آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوسِ جواب

آکے لے جاو تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول

مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

فیض احمد فیض

لشکر بھی ہے، خنجر بھی ہے، پہرا بھی ہے، دریا بھی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 344
منظر وہی، پیکر وہی، دیکھیں کوئی پیاسا بھی ہے
لشکر بھی ہے، خنجر بھی ہے، پہرا بھی ہے، دریا بھی ہے
پیروں میں ہے زنجیر کیوں، ہے خاک دامن گیر کیوں
رخصت بھی ہے، مہلت بھی ہے، ناقہ بھی ہے، رستہ بھی ہے
کچھ رقص کر، کچھ ہائے ہو، اے دل ہمیں دکھلا کہ تو
قیدی بھی ہے، وحشی بھی ہے، زخمی بھی ہے، زندہ بھی ہے
آشفتگاں، کیا چاہیے اس حرف کے کشکول میں
نعرہ بھی ہے، نالہ بھی ہے، نغمہ بھی ہے، نوحہ بھی ہے
صدیوں سے ہے اک معرکہ لیکن یہ سرکارِ وفا
قائم بھی ہے، دائم بھی ہے، برحق بھی ہے، برپا بھی ہے
عرفان صدیقی

یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 231
اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو
اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو
پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو
وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو
کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو
اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو
ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو
منصور آفاق