ٹیگ کے محفوظات: نوا

تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے
بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی
مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے
کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی
کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ، مِل گیا مجھے
وہ کہ مثالِ مہر ہے، وہ کہ ہے رشکِ ماہ بھی
اے مرے نطق و لب کی ضو! سامنے اُس کے لا مجھے
دست درازیِ خزاں! ہے تجھے مجھ پہ اختیار
کر تو دیا برہنہ تن، اور نہ اَب ستا مجھے
اے مری ماں! مری زمیں! تجھ سے کہوں تو کیا کہوں؟
چھین کے گود سے تری، لے گئی کیوں خلا مجھے
جب سے جلے ہیں باغ میں برق سے بال و پر مرے
کہنے لگی ہے خلق بھی ماجدِؔ بے نوا مجھے
ماجد صدیقی

لوگ مر جائیں بلا سے تیری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 90
تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
لوگ مر جائیں بلا سے تیری
کوئی نسبت کبھی اے جان سخن
کسی محروم نوا سے تیری
اے مرے ابر گریزاں کب تک
راہ تکتے ہی رہیں پیاسے تیری
تیرے مقتل بھی ہمیں سے آباد
ہم بھی زندہ ہیں دعا سے تیری
تو بھی نادم ہے زمانے سے فراز
وہ بھی نا خوش ہیں وفا سے تیری
احمد فراز

انفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 21
کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا
انفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھا
اس قوم کی سرشت میں ہے کم محبتی
شکوہ جو اس سے تھا مجھے ہرگز بجا نہ تھا
تاثیرِ نالہ نکتۂ بعد الوقوع ہے
یاں غیرِ رسم اور کوئی مدعا نہ تھا
وحشت تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ تپش نہ تھی
شورش تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ مزا نہ تھا
ان کی نگاہِ ناز عجب تازیانہ تھی
مقدور پھر اُدھر نظرِ شوق کا نہ تھا
افسوس وہ مظاہرِ کونی میں پھنس گیا
جو عالمِ عقول سے نا آشنا نہ تھا
شرماتے اس قدر رہے کیوں آپ رات کو
مدت سے گو ملے تھے مگر میں نیا نہ تھا
بے پردہ ان کے آنے سے حیرت ہوئی مجھے
وصلِ عدو کی رات تھی روزِ جزا نہ تھا
نان و نمک کی تھی ہمیں توفیق شیفتہ
ساز و نوا کے واسطے برگ و نوا نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 176
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
آج ہم اپنی پریشانئِ خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں
دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے
اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
خارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیا کہتے ہیں
اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیا
آگ مطلوب ہے ہم کو ،جو ہَوا کہتے ہیں
دیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اُس کی ہر بات پہ ہم ’نامِ خدا‘ کہتے ہیں
وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شاید
مر گیا غالب آشفتہ نوا، کہتے ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

سو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے

دیوان ششم غزل 1884
بے لطف یار ہم کو کچھ آسرا نہیں ہے
سو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے
سن عشق جو اطبا کرتے ہیں چشم پوشی
جانکاہ اس مرض کی شاید دوا نہیں ہے
جس آنکھ سے دیا تھا ان نے فریب دل کو
اس آنکھ کو جو دیکھا اب آشنا نہیں ہے
جب دیکھو آئینے کو تب روبرو ہے اس کے
بے چشم و رو اسے کچھ شرم و حیا نہیں ہے
میں برگ بند اگرچہ زیر شجر رہا ہوں
فقر مکب سے لیکن برگ و نوا نہیں ہے
شیریں نمک لبوں بن اس کے نہیں حلاوت
اس تلخ زندگی میں اب کچھ مزہ نہیں ہے
اعضا گداز ہوکر سب بہ گئے ہیں میرے
ہجراں میں اس کے مجھ میں اب کچھ رہا نہیں ہے
سن سانحات عشقی ہنس کیوں نہ دو پیارے
کیا جانو تم کسو سے دل ٹک لگا نہیں ہے
دل خوں جگر کے ٹکڑے جب میر دیکھتا ہوں
اب تک زباں سے اپنی میں کچھ کہا نہیں ہے
میر تقی میر

بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں

دیوان ششم غزل 1848
اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں
بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں
غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر
آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں
اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی
برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں
بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی
اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں
جانا کہ تن میں ہر جا نازک ہے اور دلکش
ہم رفتۂ سراپا اس کے بجا ہوئے ہیں
تھے غنچے جتنے زیر دیوار باغ طائر
شب باشی چمن سے شاید خفا ہوئے ہیں
صرفہ قمیص کا ہے کیا وقر اس گلی میں
ترک لباس کر واں شاہاں گدا ہوئے ہیں
خاموش اس کے در پر ہوکر فقیر بیٹھے
یعنی کہ عاشقی میں ہم بے نوا ہوئے ہیں
عہد شباب گذرا شرب مدام ہی میں
ہم کہنہ سال ہوکر اب پارسا ہوئے ہیں
اظہار کم فراغی ہردم کی بے دماغی
ان روزوں میر صاحب کچھ میرزا ہوئے ہیں
میر تقی میر

اس آرزو نے مارا یہ بھی خدا کی خواہش

دیوان پنجم غزل 1634
رکھتے رہے بتوں سے مہر و وفا کی خواہش
اس آرزو نے مارا یہ بھی خدا کی خواہش
بیماری دلی پر میں صبر کر رہا ہوں
جی کو نہیں ہے میرے مطلق دوا کی خواہش
شب وصل کی میسر آئی نہ ایک دن بھی
دل کو یہی ہمارے اکثر رہا کی خواہش
چاہت بہت کسو کی اے ہمنشیں بری ہے
سو جان کی ہے کاہش اک اس ادا کی خواہش
مشتاق عاشقی کا عاقل کوئی نہ ہو گا
ابلہ کسو کو ہو گی اس بدبلا کی خواہش
عجز و انابت اپنی یوں ہی تھی صبح گہ کی
درویشوں سے کریں گے اب ہم دعا کی خواہش
حیران کار الفت اے میر چپ ہوں میں تو
پوچھا کرو ہو ہردم کیا بے نوا کی خواہش
میر تقی میر

لے خاک کی کوئی چٹکی اکسیر بنا دیں گے

دیوان چہارم غزل 1499
مل اہل بصیرت سے کچھ وے ہی دکھا دیں گے
لے خاک کی کوئی چٹکی اکسیر بنا دیں گے
پانی کی سی بوندیں تھیں سب اشک نہ میں جانا
کپڑوں پہ گریں گے تو وے آگ جلا دیں گے
سرگشتہ سا پھرتا ہے کہتے ہیں بیاباں میں
گر خضر ملے گا تو ہم راہ بتا دیں گے
اے کاش قیامت میں دیویں اسے عاشق کو
گر حسن عمل کی واں لوگوں کو جزا دیں گے
حاصل کڑی ہونے کا ابرو کی کمان اس کی
دیکھیں گے چڑھی جس دم ہم سر کو نوا دیں گے
ایدھر نہیں آتا وہ آوے تو تصدق کر
جی جامہ اٹھا دیں گے گھر بار لٹا دیں گے
معشوقوں کی گرمی بھی اے میر قیامت ہے
چھاتی میں گلے لگ کر ٹک آگ لگا دیں گے
میر تقی میر

خوبی رہا کرے ہے مری جان کیا ہمیش

دیوان دوم غزل 828
ہم پر روا جو رکھتے ہو جور و جفا ہمیش
خوبی رہا کرے ہے مری جان کیا ہمیش
کس اعتبار دل کے تئیں گل کہیں ہیں لوگ
مجھ پاس تو مندی ہی کلی سا رہا ہمیش
کچھ عہد میں ہمارے محبت ہوئی ہے ننگ
آپس میں ورنہ رسم تھی مہر و وفا ہمیش
فرصت مرض سے دل کے ہمیں کب ہوئی تنک
تھوڑی بہت چلی ہی گئی ہے دوا ہمیش
اب عید بھی بغیر ملے اس کے ہے دہا
رہتا تھا جو ہمارے گلے ہی لگا ہمیش
ہم تو جو رفتنی ہیں ملے ہی رہیں تو خوب
رہتا نہیں ہے کوئی بغیر از خدا ہمیش
واقف نہیں ہوں میر سے تو پر تمام شب
کرتا ہے شور آن کے اک بے نوا ہمیش
میر تقی میر

کیا جانیے کہ کیا ہے یارو خدا کی خواہش

دیوان دوم غزل 827
مطلق نہیں ہے ایدھر اس دلربا کی خواہش
کیا جانیے کہ کیا ہے یارو خدا کی خواہش
دیکھیں تو تیغ اس کی اب کس کے سر چڑھے ہے
رکھتے ہیں یار جی میں اس کی جفا کی خواہش
لعل خموش اپنے دیکھو ہو آرسی میں
پھر پوچھتے ہو ہنس کر مجھ بے نوا کی خواہش
اقلیم حسن سے ہم دل پھیر لے چلے ہیں
کیا کریے یاں نہیں ہے جنس وفا کی خواہش
خون جگر ہی کھانا آغاز عشق میں ہے
رہتی ہے اس مرض میں پھر کب غذا کی خواہش
وہ شوخ دشمن جاں اے دل تو اس کا خواہاں
کرتا ہے کوئی ظالم ایسی بلا کی خواہش
میرے بھی حق میں کر ٹک ہاتھوں کو میر اونچا
رکھتا ہے اہل دل سے ہر اک دعا کی خواہش
میر تقی میر

بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا

دیوان دوم غزل 683
نظر میں طور رکھ اس کم نما کا
بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا
گلوں کے پیرہن ہیں چاک سارے
کھلا تھا کیا کہیں بند اس قبا کا
پرستش اب اسی بت کی ہے ہر سو
رہا ہو گا کوئی بندہ خدا کا
بلا ہیں قادرانداز اس کی آنکھیں
کیا یکہ جنازہ جس کو تاکا
بجا ہے عمر سے اب ایک حسرت
گیا وہ شور سر کا زور پا کا
مداوا خاطروں سے تھا وگرنہ
بدایت مرتبہ تھا انتہا کا
لگا تھا روگ جب سے یہ تبھی سے
اثر معلوم تھا ہم کو دوا کا
مروت چشم رکھنا سادگی ہے
نہیں شیوہ یہ اپنے آشنا کا
کہیں اس زلف سے کیا لگ چلی ہے
پڑے ہے پائوں بے ڈھب کچھ صبا کا
نہ جا تو دور صوفی خانقہ سے
ہمیں تو پاس ہے ابر و ہوا کا
نہ جانوں میر کیوں ایسا ہے چپکا
نمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا
کرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو
نہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا
میر تقی میر

چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 92
الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر
چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر
غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو‘ یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
میں اپنے سینے سے شرمندہ ہونے والا تھا
کہ آگیا کوئی تیرِ جفا نشانے پر
خدا سے آخری رشتہ بھی کٹ نہ جائے کہیں
کہ اب کے ہے مرا دستِ دُعا نشانے پر
وہ شعلہ اپنی ہی تیزی میں جل بجھا ورنہ
رکھا تھا خیمۂ صبر و رضا نشانے پر
میں انتظار میں ہوں کون اسے شکار کرے
بہت دنوں سے ہے میری نوا نشانے پر
عرفان صدیقی

کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہر ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں
اور مرے ہونے سے مجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دکھلاتا تھا مجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اک خلا آنکھوں سے منظر کو جدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو‘ وہ کون تھا
مجھ سے اک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں‘ ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفۂ حیرت سے کرتی تھی نزول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آکر خواب میں
جاگتے میں پھر مجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صبح سورج نے اسی حجرے میں پھر پایا مجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفان صدیقی

وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ایک ضد تھی مرا پندارِ وفا کچھ بھی نہ تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
تھا بہت کچھ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
یوں کسی شخص کے چہرے پہ لکھا کچھ بھی نہ تھا
اَب بھی چپ رہتے تو مجرم نظر آتے وَرنہ
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں شوقِ نوا کچھ بھی نہ تھا
یاد آتا ہے کئی دوستیوں سے بھی سوا
اِک تعلق جو تکلف کے سوا کچھ بھی نہ تھا
سب تری دین ہے، یہ رنگ، یہ خوشبو، یہ غبار
میرے دَامن میں تو اَے موجِ ہوا کچھ بھی نہ تھا
اور کیا مجھ کو مرے دیس کی دَھرتی دیتی
ماں کا سرمایہ بجز حرفِ دُعا کچھ بھی نہ تھا
لوگ خود جان گنوا دینے پہ آمادہ تھے
اِس میں تیرا ہنر اَے دستِ جفا کچھ بھی نہ تھا
سبز موسم میں ترا کیا تھا، ہوا نے پوچھا
اُڑ کے سوکھے ہوئے پتّے نے کہا کچھ بھی نہ تھا
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 265
اپنے لفظوں کی مہک باد صبا سے پاؤں
ٹوٹ کر نعت لکھوں داد خدا سے پاؤں
ٹافیاں جیب میں برسوں سے لئے پھرتا ہوں
کاش گلیوں میں کہیں تیرے نواسے پاؤں
میرے صحرائے عرب کے اے کرم ور بادل
دور تک بھٹکے ہوئے آدمی پیاسے پاؤں
انگلیاں تیرے وسیلے کی مہک دیتی ہیں
اپنی بخشش کا یقیں دستِ دعا سے پاؤں
ایک تندور میں محراب کی تعمیر کروں
سایۂ ابر سے منصور دلاسے پاؤں
منصور آفاق

جاعدالت میں اُس بے وفا کے خلاف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 206
کیس ، ممکن ہے مکرو ریا کے خلاف
جاعدالت میں اُس بے وفا کے خلاف
یہ جنارہ بھی دراصل ہے اک جلوس
نیستی کے مقامِ فنا کے خلاف
تیری آواز بھی سلب ہوسکتی ہے
گفتگو کر نہ قحطِ نوا کے خلاف
پھر رہا ہے برہنہ کوئی شہر میں
پھر رعونت زدہ بادشہ کے خلاف
یہ کرشمہ مسلسل گھٹن سے ہوا
ہو گئے پھول تازہ ہوا کے خلاف
اک یہی زندگی کا سہارا ہے بس
میں نہیں ہوں وجودِ خدا کے خلاف
خوشبوئے یارسے یہ معطر نہیں
بات کر کوئی بادِ صبا کے خلاف
خاک پر مجھ کو منصور بھیجا گیا
میری مرضی کے میری رضاکے خلاف
منصور آفاق

خشک پتوں کو ہوا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 94
مضمحل ہوتے قویٰ کا درد تھا
خشک پتوں کو ہوا کا درد تھا
جان لیوا بس وہی ثابت ہوا
جو مسیحا کی دوا کا درد تھا
رک گیا، آہیں سُروں پر دیکھ کر
ساز کو بھی ہم نوا کا درد تھا
کچھ برس پہلے مرے احساس میں
تھا، سلوکِ ناروا کا درد تھا
مجھ کو دکھ تھا کربلائے وقت کا
اس کو خاکِ نینوا کا درد تھا
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

رات بھر کیا صدائے پا سنتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 197
سو گئے دل کا ماجرا سنتے
رات بھر کیا صدائے پا سنتے
گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے
کارواں بھی گریز پا نکلا
ورنہ کیا کیا شکستہ پا سنتے
غم ہستی کا روگ کیا معنی
چل کے نغمہ بہار کا سنتے
کسی کنج طرب میں دم لیتے
مرغ آزاد کی نوا سنتے
حسن سرو و سمن کے پردے ہیں
داستان غم صبا سنتے
جرس غنچۂ امید کے ساتھ
طوق و زنجیر کی صدا سنتے
گاؤں جا کر کرو گے کیا باقیؔ
شور کچھ دیر شہر کا سنتے
باقی صدیقی