ٹیگ کے محفوظات: نمی

بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 5
محبت میں عبادت کا تصّور لازمی لاؤ
بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ
بدن کی آیتیں پڑھ کر فراموشی گنہ بدتر
تمھیں ایمان لانا ہے تو مجھ پر دائمی لاؤ
مری مٹی کی دہری ہجرتوں کا بانٹنے کو غم
نہیں ملتا اگر دریا تو کوئی دشت ہی لاؤ
ارے!! تم نے نہیں دیکھا ستارے ساتھ ٹوٹے تھے
اگر پھر دیکھنا چاہو تو آنکھوں میں نمی لاؤ
مقدس ہیں صحیفوں کی طرح یہ جاگتی آنکھیں
تلاوت کے لیے ان کی طہارت سرمدی لاؤ
ذرا سی موج لے کر آدمی کو ڈوب جاتی ہے
سمندر میں اترنا ہے تو کشتی نوح کی لاؤ
سبھی پہلے پہل ملتے ہیں بے حد گرم جوشی سے
ہمارے سامنے اپنا رویہ آخری لاؤ
نینا عادل

تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 150
دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے
اب کے جانے کا نہیں موسم گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے
عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟
کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے
کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے
احمد فراز

کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 22
کوئی نغمہ بُنو، چاندنی نے کہا، چاندنی کے لیے ایک تازہ غزل
کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل
زخمِ فرقت کو پلکوں سے سیتے ہوئے، سانس لینے کی عادت میں جیتے ہوئے
اب بھی زندہ ہو تم، زندگی نے کہا، زندگی کے لیے ایک تازہ غزل
اُس کی خواہش پہ تم کو بھروسہ بھی ہے، اُس کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا بھی ہے
لطف آیا تمہیں، گمرہی نے کہا، گمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں، تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں
رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل
منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں
دل کو روشن کرو، روشنی نے کہا، روشنی کے لیے ایک تازہ غزل
میں عبادت بھی ہوں، میں محبت بھی ہوں، زندگی کی، نمو کی علامت بھی ہوں
میری پلکوں پہ ٹھہری نمی نے کہا، اس نمی کے لیے ایک تازہ غزل
آرزوئوں کی مالا پرونے سے ہیں، یہ زمیں آسماں میرے ہونے سے ہیں
مجھ پہ بھی کچھ کہو، آدمی نے کہا، آدمی کے لیے ایک تازہ غزل
اپنی تنہائی میں رات میں تھا مگن، ایک آہٹ ہوئی دھیان میں دفعتاً
مجھ سے باتیں کرو، خامشی نے کہا، خامشی کے لیے ایک تازہ غزل
جب رفاقت کا ساماں بہم کر لیا، میں نے آخر اسے ہم قدم کر لیا
اب مرے دکھ سہو، ہمرہی نے کہا، ہمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
عرفان ستار

بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 72
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے
ابھر کے ڈوب گئی کشتیِٔ خیال کہیں
یہ چاند ایک بھنور، چاندنی سمندر ہے
جو داستاں نہ بنے دردِ بیکراں ہے وہی
جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے
نہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیلِ حیات
جو سوچیے تو یہی زندگی سمندر ہے
تو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی
مرے حبیب مری خامشی سمندر ہے
شکیب جلالی

دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 224
عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے
دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے
ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے
جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ
اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے
یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے
ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آ گہی سے خطرہ ہے
شہر غدار جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے
ہے عجب طورِ حالتِ گریہ
کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے
حال خوش لکھنو کا دلّی کا
بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے
آسمانوں میں ہے خدا تنہا
اور ہر آدمی سے خطرہ ہے
میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے
تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے
آج بھی اے کنارِ بان مجھے
تیری اک سانولی سے خطرہ ہے
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ہی تو ہے جون کے درپے
میر کو میر ہی سے خطرہ ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا

یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 169
مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے
یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے
یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب
کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے
میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں
چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟
اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد
آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے
اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں
جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے
اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے
کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں
کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
جون ایلیا

پیو، کہ اور زیادہ ہو روشنی روشن

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 13
کرے ہے آنکھ کے گوشوں کی تیرگی روشن
پیو، کہ اور زیادہ ہو روشنی روشن
تمام صحن شبِ یاد جگمگا اُٹھا
ہوئی جو آنکھ میں اشکوں کی پھلجھڑی روشن
تو کیا چراغ ہوں میں طاقِ روزمرہ کا
کبھی بجھا ہوا ہوتا ہوں اور کبھی روشن
سرور دینے لگا ہے مجھے اندھیرا بھی
لگے کہ اُس کے بدن میں ہے چاندنی روشن
مٹے نہ فرقِ سفید و سیاہ سورج سے
مٹے لہو سے، کرے جس کو آدمی روشن
جما ہے تن کے رہِ برف و باد میں کیسے
رکھو، مثالِ شجر جان کی نمی روشن
آفتاب اقبال شمیم

اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 6
جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا
اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں
وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا
کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو
میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا
آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر
ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا
اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے
شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا
موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں
اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا
آفتاب اقبال شمیم

تیرے ہوتے ہوئے ہو جاتے کسی کے کیسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 552
جام کے بادہ کے خوشبو کے کلی کے کیسے
تیرے ہوتے ہوئے ہو جاتے کسی کے کیسے
زخم مرہم کی تمنا ہی نہیں کر سکتا
ہیں یہ احسان تری چارہ گری کے کیسے
نقشِ پا تیرے نہ ہوتے تو سرِ دشتِ وفا
جاگتے بخت یہ آشفتہ سری کے کیسے
اپنے کمرے میں ہمیں قید کیا ہے تُو نے
سلسلے تیرے ہیں آزاد روی کے کیسے
اتنے ناکردہ گناہوں کی سزا باقی تھی
ہائے در کھلتے بھلا بخت وری کے کیسے
صفر میں صفر ملاتے تھے تو کچھ بنتا تھا
جمع کر لیتے تھے اعداد نفی کے کیسے
جیپ آتی تھی تو سب گاؤں نکل آتا تھا
کیا کہوں بھاگ تھے اس بھاگ بھری کے کیسے
ہجر کی رات ہمیں دیکھ رہی تھی دنیا
بند ہو جاتے درے بارہ دری کے کیسے
ڈاک کے کام میں تو کوئی رکاوٹ ہی نہیں
سلسلے ختم ہوئے نامہ بری کے کیسے
موت کی اکڑی ہوئی سرد رتوں میں جی کر
یہ کھنچے ہونٹ کھلیں ساتھ خوشی کے کیسے
کون روتا ہے شبِ ہجر کی تنہائی میں
پتے پتے پہ ہیں یہ قطرے نمی کے کیسے
موج اٹھتی ہی نہیں کوئی سرِ چشمِ وفا
یہ سمندر ہیں تری تشنہ لبی کے کیسے
موت کی شکل بنائی ہی نہیں تھی اس نے
نقش تجسیم ہوئے جان کنی کے کیسے
آ ہمیں دیکھ کہ ہم تیرے ستم پروردہ
کاٹ آئے ہیں سفر تیرہ شبی کے کیسے
بس یہی بات سمجھ میں نہیں آتی اپنی
جو کسی کا بھی نہیں ہم ہیں اسی کے کیسے
آنکھ کہ چیرتی جاتی تھی ستاروں کے جگر
موسم آئے ہوئے ہیں دیدہ وری کے کیسے
کجکلاہوں سے لڑائی ہے ازل سے اپنی
دوست ہو سکتے ہیں ہم لوگ کجی کے کیسے
ہم چٹانوں کے جگر کاٹنے والے منصور
سیکھ بیٹھے ہیں ہنر شیشہ گری کے کیسے
منصور آفاق

دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 381
دیکھتے لپک تیرے طنز کی تو ہم بھی ہیں
دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں
کھلتے کھلتے کھلتے ہیں اپنی اپنی دنیا میں
تم اگر تجسس ہو سنسنی تو ہم بھی ہیں
تم سہی سیہ بدلی آنسوئوں کے موسم کی
آس پاس مژگاں کے کچھ نمی تو ہم بھی ہیں
عشق کی شریعت میں کیا جو قیس پہلے تھے
ہجر کی طریقت میں آخری تو ہم بھی ہیں
جانتے ہیں دنیا کو درد کا سمندر ہے
اور اس سمندر میں اک گلی تو ہم بھی ہیں
پیڑ سے تعلق تو ٹوٹ کے بھی رہتا ہے
سوختہ سہی لیکن شبنمی تو ہم بھی ہیں
دو گھڑی کا قصہ ہے زندگی محبت میں
دو گھڑی تو تم بھی ہو دو گھڑی تو ہم بھی ہیں
جیل کی عمارت ہے عاشقی کی صحبت بھی
بیڑیاں اگر تم ہو ہتھکڑی تو ہم بھی ہیں
نام وہ ہمارا پھر اک کرن کے ہونٹوں پر
وقت کے ستارے پر۔ ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
کیا ہوا جو ہجراں کی رہ رہے ہیں مشکل میں
یار کے شبستاں میں یاد سی تو ہم بھی ہیں
دیدنی زمانے میں بے خبر بہاروں سے
گلستانِ حیرت کی اک کلی تو ہم بھی ہیں
مانا عشق کرنے کا کچھ پتہ نہیں تم کو
دلبری کی بستی میں اجنبی تو ہم بھی ہیں
یہ الگ گوارا ہم وقت کو نہیں لیکن
جس طرح کے ہوتے ہیں آدمی تو ہم بھی ہیں
کربلا کی وحشت سے، سلسلہ نہیں لیکن
ساحلوں پہ دریا کے تشنگی تو ہم بھی ہیں
ہیر تیرے بیلے میں آنسوئوں کے ریلے میں
خالی خالی بیلے میں بانسری تو ہم بھی ہیں
تم چلو قیامت ہو تم چلو مصیبت ہو
بے بسی تو ہم بھی ہیں ، بے کسی تو ہم بھی ہیں
صبح کے نکلتے ہی بجھ تو جانا ہے ہم کو
رات کی سہی لیکن روشنی تو ہم بھی ہیں
دیکھتے ہیں پھولوں کو، سوچتے ہیں رنگوں کو
خوشبوئوں کے مکتب میں فلسفی تو ہم بھی ہیں
ایک الف لیلیٰ کی داستاں سہی کوئی
دوستو کہانی اک متھ بھری تو ہم بھی ہیں
منصور آفاق