ٹیگ کے محفوظات: نمک

کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 8
یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا
صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحد مطلق
نہ کوئی تیرا ثانی کوئی مشترک تیرا
جمال احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے
ملاحت تجھ سے شیریں حسن شیریں میں نمک تیرا
ترے فیض و کرم سے نار و نور آپس میں یکدل ہیں
ثنا گر یک زبان ہر ایک ہے جن و ملک تیرا
نہ جلتا طور کیونکر کس طرح موسی نہ غش کھاتے
کہاں یہ تاب و طاقت جلوہ دیکھئے مر دیک تیرا
دعا یہ ہے کہ وقت مرگ اسکی مشکل آساں ہو
زباں پر داغ کے نام آئے یا رب یک بہ یک تیرا
داغ دہلوی

منحصر لوگوں کی کمک پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 616
شہر کی فتح بابِ شک پر ہے
منحصر لوگوں کی کمک پر ہے
کلمہ کا ورد کر رہے ہیں لوگ
آخری شو کا رش سڑک پر ہے
فیملی جا رہی ہے لے کے اسے
گھر کا سامان بھی ٹرک پر ہے
پڑھ رہا ہوں ہزار صدیوں سے
کیا کسی نے لکھا دھنک پر ہے
بھیج مت پرفیوم جانِ جاں
حق مرا جسم کی مہک پر ہے
چاند ہے محوِ خواب پہلو میں
یعنی بستر مرا فلک پر ہے
میری پلکوں کی ساری رعنائی
موتیوں کی چمک دمک پر ہے
آس کا شہر ہے سمندر میں
اور بنایا گیا نمک پر ہے
دل کی موجودگی کا افسانہ
بادلوں کی گرج چمک پر ہے
چاند کی ہاتھ تک رسائی بھی
دلِ معصوم کی ہمک پر ہے
کس نے ہونا ہے شہر کا حاکم
فیصلہ بوٹ پر دھمک پر ہے
کون قاتل ہے فیصلہ، منصور
فائروں کی فقط لپک پر ہے
منصور آفاق

یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 409
یا بدن کے سرخ گجروں کی مہک محدود رکھ
یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ
دھن کوئی کومل سی بس ترتیب کے لمحے میں ہے
اے محافظ کالے بوٹوں کی دھمک محدود رکھ
سو رہا ہے تیرے پہلو میں کوئی غمگین شخص
چوڑیوں کی رنگ پروردہ کھنک محدود رکھ
باغباں ہر شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں زرد سانپ
گھونسلوں تک اپنی چڑیوں کی چہک محدود رکھ
جاگنے لگتے ہیں گلیوں میں غلط فہمی کے خواب
آئینے تک اپنی آنکھوں کی چمک محدود رکھ
لوگ چلنے لگتے ہیں قوسِ قزح کی شال پر
اپنے آسودہ تبسم کی دھنک محدود رکھ
منصور آفاق