ٹیگ کے محفوظات: نمٹ

چُوزے ہوں جیسے ماں کے پروں میں سمٹ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یوں لوگ اب کے جادۂ گرگاں سے ہٹ گئے
چُوزے ہوں جیسے ماں کے پروں میں سمٹ گئے
پنچھی شکار ہو کے نشیمن میں آ گرا
اور خواب، عافیت کے بدن سے چمٹ گئے
کھانے لگا فضا میں لہو ان کا بازیاں
بِلّی کے سامنے تھے کبوتر جو ڈٹ گئے
مجروح کب ہوئے ہیں نہتّوں سے اہلِ تیغ
کب یوں ہوا کہ دانت زبانوں سے کٹ گئے
جھاڑا نہیں کسی نے اِنہیں حادثہ یہ ہے
دل آئنے تھے گردِ زمانہ سے اٹ گئے
ماجد ہر آن جیسے اذّیت پہ ہوں تُلے
کانٹے لباس سے ہیں کچھ ایسے چمٹ گئے
ماجد صدیقی

آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
آروں سے موج موج کے، کیا کیا نہ کٹ گئے
آہن صفت درخت بھی، ریشوں میں بٹ گئے
دیکھا ہمیں قفس میں، تو پوچھی نہ خیر بھی
جھونکے مہک کے آئے اور آ کر، پلٹ گئے
مُٹھی میں بند جیسے، مہاجن کی سیم و زر
کھیتوں کے حق میں ابر، کچھ ایسے سمٹ گئے
سیلاب نے جب اپنے قدم، تیز کر لئے
بادل بھی آسمان سے، اِتنے میں چھٹ گئے
جتنے ہرے شجر تھے، لرزنے لگے تمام
خاشاک تھے کہ سامنے دریا کے ڈٹ گئے
جانے نہ دیں گے، رزق کے بن باس پر کبھی
بچّے کچھ ایسے باپ سے ماجدؔ، چمٹ گئے
ماجد صدیقی

لکھنے لگے تو لفظ قلم سے چمٹ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
لائے زبان پر تو لبوں میں سمٹ گیا
لکھنے لگے تو لفظ قلم سے چمٹ گیا
طوفاں سے قبل جس پہ رہا برگِ سبز سا
چھُو کر وہ شاخ آج پرندہ پلٹ گیا
غافل ہمارے وار سے نکلا بس اِس قدر
پٹنے لگا تو سانپ چھڑی سے لپٹ گیا
جھپٹا تو جیسے ہم تھے سرنگوں کے درمیاں
دشمن ہماری رہ سے بظاہر تھا ہٹ گیا
ہوتا اُنہیں شکستِ تمنّا کا رنج کیا
بچّے کے ہاتھ میں تھا غبارہ سو پھٹ گیا
ماجدؔ خلا نورد وُہ سّچائیوں کا ہے
اپنی زمیں سے رابطہ جس کا ہو کٹ گیا
ماجد صدیقی

وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 94
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے
خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں
ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے
ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد
بادل جو آسمان پہ چھائے تھے،چھٹ گئے
کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل
آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے
شہرِ وفا میں دُھوپ کا ساتھی کوئی نہیں
سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں
جھونکے ہَوا کے،کیسے گلے سے لپٹ گئے
دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی
اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے
پروین شاکر

کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 293
مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں
تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی
پہاڑ مجھ سے محبت کریں تو پھٹ جائیں
ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں
میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں
اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں
زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں
چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں
گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں
اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں
ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں
مرا تو مشورہ اتنا ہے صاحبانِ قلم
قصیدہ لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں
وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں
منصور آفاق