ٹیگ کے محفوظات: نمو

کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 177
میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھہرے
کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے
نہ گزرنے پہ زندگی گزری
نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھہرے
ہے مری بزمِ بے دلی بھی عجیب
دلِ پُر خوں جہاں سبو ٹھہرے
میں یہاں مدتوں میں آیا ہوں
ایک ہنگامہ کُو بہ کُو ٹھہرے
محفلِ رخصتِ ہمیشہ ہے
آؤ اک حشر ہا و ہو ٹھہرے
اک توجہ عجب ہے سمتوں میں
کہ نہ بولوں تو گفتگو ٹھہرے
کج ادا تھی بہت اُمید مگر
ہم بھی جون ایک حیلہ جو ٹھہرے
ایک چاکِ برہنگی ہے وجود
پیرہن ہو تو بے رفو ٹھہرے
میں جو ہوں۔۔کیا نہیں ہوں میں خود بھی
خود سے بات آج دُوبدو ٹھہرے
باغِ جاں سے مِلا نہ کوئی ثمر
جون ہم تو نمو نمو ٹھہرے
جون ایلیا

سراپا آرزو ہوں آرزو بن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 58
بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن
سراپا آرزو ہوں آرزو بن
کوئی اس شہر کو تاراج کر دے
ہوئی ہے میری وحشت ہائے و ہو بن
یہ سب معجز نمائی کی ہوس ہے
رفو گر آئے ہیں تار رفو بن
معاش بے دلاں پوچھو نہ یارو
نمو پاتے رہے رزق نمو بن
گزارے شوق اب خلوت کی راتیں
گزارش بن گلہ بن گفتگو بن
جون ایلیا

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1720
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
مستی میں شیخ شہر سے صحبت عجب رہی
سر پھوڑتے رہا کیے اکثر سبو کے ساتھ
تھا عکس اس کی قامت دلکش کا باغ میں
آنکھیں چلی گئیں ہیں لگی آب جو کے ساتھ
نازاں ہو اس کے سامنے کیا گل کھلا ہوا
رکھتا ہے لطف ناز بھی روے نکو کے ساتھ
ہم زرد کاہ خشک سے نکلے ہیں خاک سے
بالیدگی نہ خلق ہوئی اس نمو کے ساتھ
گردن بلند کرتے ہی ضربت اٹھا گئے
خنجر رکھے ہے اس کا علاقہ گلو کے ساتھ
ہنگامے جیسے رہتے ہیں اس کوچے میں سدا
ظاہر ہے حشر ہو گی نہ ایسے غلو کے ساتھ
مجروح اپنی چھاتی کو بخیہ کیا بہت
سینہ گتھا ہے میر ہمارا رفو کے ساتھ
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 95
صدائے شام سر آب جو ہے کتنی دیر
یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر
بدن دریدہ شجر‘ مہربان سوزنِ برگ
مگر یہ زحمتِ دستِ رفو ہے کتنی دیر
وہ ابر پھر کبھی آیا ادھر تو کیا حاصل
میں سبزہ ہوں مری تابِ نمو ہے کتنی دیر
مرے زوال کے ساتھی‘ مرے ستارۂ ہجر
افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر
پھر اک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک
یہ کارزارِ کمان و گلو ہے کتنی دیر
نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا
ہوا کی لہر‘ بدن کا لہو ہے کتنی دیر
غبارِ شب مرے چہرے پہ چھایا جاتا ہے
یہ آئینہ بھی ترے روبرو ہے کتنی دیر
صہبا وحید کے نام
عرفان صدیقی

اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 85
خاک سے لہر سی اٹھتی ہے لہو کی صورت
اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت
کس طرح راہ بدل دے گا یہ چھوٹا ہوا تیر
میں اگر دیکھ بھی لوں اپنے عدو کی صورت
اب بھی سنیے تو اک آسیبِ صدا باقی ہے
شہر ویران نہیں وادیِ ہو کی صورت
زندگی، تیری کرامت ہے کہ ہر زخم کے بعد
کوئی حیلہ نکل آتا ہے رفو کی صورت
آج اس لذتِ یکجائی سے ہولیں سیراب
کل پھر ایجاد کریں گے من و تو کی صورت
عرفان صدیقی