ٹیگ کے محفوظات: نمبر

آئینہ خانے میں سوبر تو کئی تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 585
بزمِ مے نوشاں کے ممبر تو کئی تھے
آئینہ خانے میں سوبر تو کئی تھے
دل ہی کچھ کرنے پہ آمادہ نہیں تھا
ڈائری میں فون نمبر تو کئی تھے
میں نے بچپن میں کوئی وعدہ کیا تھا
ورنہ گاؤں میں حسیں بر تو کئی تھے
صبح تنہائی تھی اور خالی گلاس
ہم زباں ہم رقص شب بھر تو کئی تھے
تیرے آتش دان کی رُت ہی نہیں تھی
لمس کے دھکے دسمبر تو کئی تھے
ایک اک کمرے میں بستر موت کا تھا
آس کی بلڈنگ میں چیمبر تو کئی تھے
گیسوئوں کے آبشار آنکھوں کی جھیلیں
ہم پکھی واسوں کے امبر تو کئی تھے
خاک کا الہام تنہا ایک تُو تھا
آسمانوں کے پیمبر تو کئی تھے
شہر میں منصور بس کوئی نہیں تھا
رونقِ محراب و منبر تو کئی تھے
منصور آفاق

اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 290
مسلسل چاک کے محور پہ میں ہوں
اے حرفِ کُن تری ٹھوکر پہ میں ہوں
تُو مجھ کو دیکھ یا صرفِ نظر کر
مثالِ گل ترے کالر پہ میں ہوں
سبھی کردار واپس جا چکے ہیں
اکیلا وقت کے تھیٹر پہ میں ہوں
صلائے عام ہے تنہائیوں کو
محبت کے لیے منظر پہ میں ہوں
پھر اس کے بعد لمبا راستہ ہے
ابھی تو شام تک دفتر پہ میں ہوں
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
مجھے بھی رنگ کر لینا کسی دن
ابھی کچھ دن اسی نمبر پہ میں ہوں
بجا تو دی ہے بیل میں نے مگر اب
کہوں کیسے کہ تیرے در پہ میں ہوں
ازل سے تیز رو بچے کے پیچھے
کسی چابی بھری موٹر پہ میں ہوں
پڑا تمثیل سے باہر ہوں لیکن
کسی کردار کی ٹھوکر پہ میں ہوں
کہے مجھ سے شبِ شہر نگاراں
ابھی تک کس لیے بستر پہ میں ہوں
یہی ہر دور میں سوچا ہے میں نے
زمیں کے آخری پتھر پہ میں ہوں
ہلا منصور مت اپنی جگہ سے
پہاڑ ایسا خود اپنے سر پہ میں ہوں
منصور آفاق

یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 78
یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا
یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا
مجھ سے لپٹی جا رہی ہے اک حسیں آکاس بیل
یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا
موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
کھڑکیوں کو بند کر، جلدی سے اور ہیٹر لگا
بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی
روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر، پتھر لگا
کیا بلندی بخش دی بس ایک لمحے نے اسے
جیسے ہی سجدے سے اٹھا، آسماں سے سر لگا
پھیر مت بالوں میں میرے، اب سلگتی انگلیاں
مت کفِ افسوس میرے، مردہ چہرے پر لگا
گر محبت ہے تماشا تو تماشا ہی سہی
چل مکانِ یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا
بہہ رہی ہے جوئے غم، سایہ فگن ہے شاخِ درد
باغِ ہجراں کو نہ اتناآبِ چشمِ تر لگا
اتنے ویراں خواب میں تتلی کہاں سے آئے گی
پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا
اک قیامت خیز بوسہ اس نے بخشا ہے تجھے
آج دن ہے، لاٹری کے آج چل نمبر لگا
منصور آفاق