ٹیگ کے محفوظات: نمایاں

چنگاری کو رقصاں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
اُس کا حسنِ درخشاں دیکھا
چنگاری کو رقصاں دیکھا
تھوڑ ہی تھوڑ رہی خوشیوں کی
رنج ہی رنج فراواں دیکھا
چاند اُسے ہی رگیدنے آیا
جو تارا بھی نمایاں دیکھا
جسم پگھل کے چٹختا لاگے
روح کو جب سے پرِیشاں دیکھا
گل پہ نجانے اوس پڑی کیا
صبح اسے بھی گریاں دیکھا
بام و افق سے ہم نے اکثر
حسن کو آنکھ پہ عریاں دیکھا
وجد سے پھر نکلا نہ وہ جس نے
ماجد! تجھ کو غزلخواں دیکھا
ماجد صدیقی

آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 124
اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے
آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے
دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں
ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے
دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد
پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے
اے چمن والو! جنوں کی عظمت دیکھ لی
اِن گلوں کو واقفِ چاکِ گریباں کر چلے
اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں
اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے
اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا
داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
قمر جلالوی

پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں

دیوان دوم غزل 898
اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں
صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر
تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں
کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ
بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں
چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار
ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں
رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں
رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ
کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں
شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ
کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں
بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر
کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں
جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک
وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں
میر تقی میر

اے چشمِ اعتبار پریشاں نہ کر مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 294
جب وہم ہے وہ شکل تو حیراں نہ کر مجھے
اے چشمِ اعتبار پریشاں نہ کر مجھے
اس روشنی میں تیرا بھی پیکر نظر نہ آئے
اچھا یہ بات ہے تو فروزاں نہ کر مجھے
آئینہ سکوت نہ رکھ سب کے روبرو
میں دل پہ نقش ہوں تو نمایاں نہ کر مجھے
یوسف نہیں ہوں مصر کے بازار میں نہ بیچ
میں تیرا انتخاب ہوں ارزاں نہ کر مجھے
کون ایسی بستیوں سے گزرتا ہے روز روز
میرے کرشمہ ساز‘ بیاباں نہ کر مجھے
میں برگ ریزِ ہجر میں زندہ نہ رہ سکوں
اتنا امیدوارِ بہاراں نہ کر مجھے
عرفان صدیقی

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق