ٹیگ کے محفوظات: نمائی

مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 124
وحشتِ دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے
عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے
دل نے ہر بار کہا، آگ پرائی لے لے
میں تو اس صبحِ درخشاں کو تونگر جانوں
جو مرے شہر سے کشکولِ گدائی لے لے
تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط میری
یہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے
اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں
ہے کوئی جو ہنرِ زخم نمائی لے لے
احمد فراز

ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 261
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہے
از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مری بخت آزمائی ہوچکی بس

دیوان سوم غزل 1143
امیروں تک رسائی ہوچکی بس
مری بخت آزمائی ہوچکی بس
بہار اب کے بھی جو گذری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہوچکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہوچکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہوچکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہوچکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہوچکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہوچکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہوچکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دی ٹک دکھائی ہوچکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میر
تمھاری میرزائی ہوچکی بس
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

دیوان دوم غزل 768
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں
یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک
کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی
تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گذری وعدے کی شب وہ نہ آپھرا
ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گذر جائیں سو کہاں
بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے
دیتے رہے ہیں میر دکھائی تمام شب
میر تقی میر

گل کفِ شاخ کو حنائی کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 62
جب وہ اقرارِ آشنائی کرے
گل کفِ شاخ کو حنائی کرے
جس کو کم کم نیازِ جاں ہو نصیب
کوئی اقدام انتہائی کرے
پھر سے تالیفِ دل ہو، پھر کوئی
اِس صحیفے کی رُو نمائی کرے
ہائے یہ نازنینِ مرد افگن
کون دنیا سے آشنائی کرے
آفتاب اقبال شمیم

گل کفِ شاخ کو حنائی کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
جب وہ اقرارِ آشنائی کرے
گل کفِ شاخ کو حنائی کرے
جس کو کم کم نیازِ جاں ہو نصیب
کوئی اقدام انتہائی کرے
پھر سے تالیفِ دل ہو، پھر کوئی
اِس صحیفے کی رُو نمائی کرے
ہائے یہ نازنینِ مرد افگن
کون دنیا سے آشنائی کرے
آفتاب اقبال شمیم

کی بھی اور کسی سے آشنائی کی

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 8
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کسی سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں
صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن
ہم سے باتیں کرو صفائی کی
دل رہا پائے بند الفت دام
تھی عبث آرزو رہائی کی
دل بھی پہلو میں ہو یاں کسی سے
رکھئے امید دلربائی کی
شہر و دریا سے باغ و صحرا سے
بو نہیں آتی آشنائی کی
نہ ملا کوئی غارتِ ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے
ساعت آن پہنچی اس جدائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
الطاف حسین حالی