ٹیگ کے محفوظات: نقیب

جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے

تائید زندگی کی اُسی کو نصیب ہے
جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے
مڑ مڑ کے دیکھتے ہو چراغانِ نقشِ پا
یہ بھی خبر ہے! آمدِ طوفاں قریب ہے
ہر تازہ انکشاف لیے ہے ہزار بھید
یا رب ترے جہاں کی پہیلی عجیب ہے
مُڈبھیڑ ہو گئی ترے کوچے میں آج بھی
پونم کا چاند میرا پرانا رقیب ہے
پھر کیا ہے، میں جو ڈر گیا پتّوں کے شور سے
سُنسان جنگلوں کا سفر ہی مُہیب ہے
رکھنا چھپا کے درہم و دینارِ داغِ دل
یاں پر کسی کسی کو یہ دولت نصیب ہے
اس کو حُدودِ باغ سے باہر نہ پھینکیے
یہ برگِ زرد موسمِ گل کا نقیب ہے
اک سر پھرے کی رائے خریدی نہ جا سکی
دولت سرائے دہر بھی کتنی غریب ہے
آنکھوں کے آئنوں میں چمک آ گئی، شکیبؔ
شاید طلوعِ شعر کی ساعت قریب ہے
شکیب جلالی

روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی
روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی
حیران کن تھی چُپ بھی تمہاری مرے لیے
بولے ہو اب تو بات بھی تم نے عجیب کی
سامانِ عیش دیکھ کے بزمِ نشاط میں
رہتی ہے یاد کس کو نصیحت طبیب کی
کب تک کرو گے اہلِ سیاست پہ اعتبار
یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی
ہو جن کی سب توجہ سمندر کے اُس طرف
اُن کو صدا سنائی نہ دے گی قریب کی
سینہ بہ سینہ کرتی ہے یہ ہر طرف سفر
حق بات کو نہیں ہے ضرورت نقیب کی
باصِرؔ بلا مقابلہ وہ منتخب ہوا
میری شکستہ پائی ہے محسن رقیب کی
باصر کاظمی