ٹیگ کے محفوظات: نفس

اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 221
اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے
اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے
حال اس صید کا سنایئے کیا ؟
جس کا صیاد خود قفس میں ہے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہیں چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
غیر سے رہیو تُو ذرا ہشیار
وہ ترے جسم کی ہوس میں ہے
پاشکستہ پڑا ہوں مگر
دل کسی نغمہِ جرس میں ہے
جون ہم سب کی دسترس میں ہیں
وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے
جون ایلیا

اے ابر تر آکر ٹک ایدھر بھی برس ظالم

دیوان دوم غزل 857
اب سوکھی ہی جاتی ہے سب کشت ہوس ظالم
اے ابر تر آکر ٹک ایدھر بھی برس ظالم
صیاد بہار اب کے سب لوٹوں گا کیا میں ہی
ٹک باغ تلک لے چل میرا بھی قفس ظالم
کس طور کوئی تجھ سے مقصود کرے حاصل
نے رحم ترے جی میں نے دل میں ترس ظالم
کیوں سر چڑھے ہے ناحق ہم بخت سیاہوں کے
مت پیچ میں پگڑی کے بالوں کو گھڑس ظالم
جوں ابر میں روتا تھا جوں برق تو ہنستا تھا
صحبت نہ رہی یوں ہی ایک آدھ برس ظالم
کیا کھولے ہوئے محمل یاں گرم حکایت ہے
چل راہ میں کچھ کہتا مانند جرس ظالم
مطلق نہیں گنجائش اب حوصلے میں اپنے
آزار کوئی کھینچے یوں کب تئیں بس ظالم
سررشتۂ ہستی کو ہم دے چکے ہاتھوں سے
کچھ ٹوٹے ہی جاتے ہیں اب تار نفس ظالم
تاچند رہے گا تو یوں داغ غم اس مہ کا
چھاتی تو گئی تیری اے میر بھلس ظالم
میر تقی میر

اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی

دیوان اول غزل 464
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک
آتی اگرچہ دیر صداے جرس رہی
لطف قباے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز
دیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے
برسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی
ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوں
گردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے
فرصت رہی جو میر بھی سو یک نفس رہی
میر تقی میر

اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس

دیوان اول غزل 236
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس
اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مژگاں بھی بہ گئیں مرے رونے سے چشم کی
سیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا
روتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
حیراں ہوں میر نزع میں اب کیا کروں بھلا
احوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
میر تقی میر

نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر

دیوان اول غزل 206
نہ ہو ہرزہ درا اتنا خموشی اے جرس بہتر
نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے
نظر اے ابر تر آپھی نہ آوے گا برس بہتر
سدا ہو خار خار باغباں گل کا جہاں مانع
سمجھ اے عندلیب اس باغ سے کنج قفس بہتر
برا ہے امتحاں لیکن نہ سمجھے تو تو کیا کریے
شہادت گاہ میں لے چل سب اپنے بوالہوس بہتر
سیہ کر دوں گا گلشن دود دل سے باغباں میں بھی
جلا آتش میں میرے آشیاں کے خار و خس بہتر
کیا داغوں سے رشک باغ اے صد آفریں الفت
یہ سینہ ہم کو بھی ایسا ہی تھا درکار بس بہتر
قدم تیرے چھوئے تھے جن نے اب وہ ہاتھ ہی سر ہے
مرے حق میں نہ ہونا ہی تھا یاں تک دسترس بہتر
عبث پوچھے ہے مجھ سے میر میں صحرا کو جاتا ہوں
خرابی ہی پہ دل رکھا ہے جو تونے تو بس بہتر
میر تقی میر

لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 67
نہیں کہ آگ تری انگلیوں کے مس میں نہیں
لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں
کروں زبانِ غزل میں اسے ادا کیوں کر؟
وہ راز جو کہ اشاروں کی دسترس میں نہیں
یہ فصلِ گل ہے، مگر اے ہوائے آوارہ
وہ خوشبوؤں کا ترنم ترے نفس میں نہیں
برائے سیر، خزاں کو کہاں پسند آئے
وہ راستہ کہ گزرگاہِ خار و خس میں نہیں
سمٹ گیا مرے اندر کا ریگ زار کہ اب
جو تھی کبھی وہ کسک نغمۂِ جرس میں نہیں
آفتاب اقبال شمیم

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 106
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام کرتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خار و خس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی، بس چشمۂ ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا، حرکتِ عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
منصور آفاق

ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 215
الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے
ممکن ہے آ ملے کوئی گم گشتہ راہرو
تھوڑی سی دور اور صدائے جرس چلے
کیوں چھا رہی ہے بزم جہاں پر فسردگی
دو دن تو اور ساغر سوز نفس چلے
اے خالق بہار یہ کیسی بہار ہے
ہم اک تبسم گل تر کو ترس چلے
ہر سمت ہیں بہار پہ پہرے لگے ہوئے
باد صبا چلے تو قفس تا قفس چلے
یا اس طرح کسی کو پیام سفر نہ دے
یا ہم کو ساتھ لے کے صدائے جرس چلے
باقیؔ یہ اختلاف یہ نفرت یہ حادثے
ہم تو نہ ہوں جہاں میں جو دنیا کا بس چلے
باقیؔ وہی تپش ہے وہی رنگ و بو کی پیاس
کہنے کو جھوم جھوم کے بادل برس چلے
باقی صدیقی

جینے کے لئے ترس رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 133
ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
جینے کے لئے ترس رہے ہیں
گلشن میں انہیں بھی ہم نہیں یاد
جو ساتھ قفس قفس رہے ہیں
آئی ترے قہقہوں کی آواز
یہ پھول کہاں برس رہے ہیں
کس رنگ میں زندگی کو ڈھالیں
ہر رنگ مں ی آپ بس رہے ہیں
ہم سے بھی زمانہ آشنا ہے
ہم بھی ترے ہم نفس رہے ہیں
شبنم کی طرح اڑے ہیں باقیؔ
بادل کی طرح برس رہے ہیں
باقی صدیقی