ٹیگ کے محفوظات: نغمات

لے اُڑی جانے کہاں صر صرِ حالات ہمیں

قریہِ دل تھا کبھی شہرِ طلسمات ہمیں
لے اُڑی جانے کہاں صر صرِ حالات ہمیں
آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اُڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجیے
دوستو! اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی کوئی ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کُنجِ خیالات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تُو، سایہِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے ساتھ ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پایل سے چرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

اب جمالات سے بغاوت ہے

رقص و نغمات سے بغاوت ہے
اب جمالات سے بغاوت ہے
غم کا ماحول جو بدل نہ سکیں
ایسے نغمات سے بغاوت ہے
میرے احساس کے اجالوں کو
چاندنی رات سے بغاوت ہے
حسن سے انتقام لینا ہے
دل کی ہر بات سے بغاوت ہے
جن سے اعصاب مُضمحل ہو جائیں
ان غزلیات سے بغاوت ہے
قلب کی واردات جن میں نہ ہو
ان حکایات سے بغاوت ہے
جو کہ فکر و عمل سے عاری ہوں
ان روایات سے بغاوت ہے
وقت کے ساتھ جو بدل نہ سکیں
ایسے حالات سے بغاوت ہے
جو نہ سمجھیں نئے تقاضوں کو
ان خیالات سے بغاوت ہے
غم کی خودداریاں، شکیبؔ، نہ پوچھ
اب شکایات سے بغاوت ہے
شکیب جلالی

مری توبہ کی خیر برسات آئی

نظر پھر حضورِ خرابات آئی
مری توبہ کی خیر برسات آئی
اُدھر ان کے لب پر مری بات آئی
اِدھر رقص میں روحِ نغمات آئی
وہ جب سے گئے ہیں خدا جانتا ہے
نہ وہ چاند نکلا، نہ وہ رات آئی
کبھی صبحِ خنداں نے آنسو بہائے
کبھی مُسکراتی ہوئی رات آئی
ہر اک گام پر جُرأتیں کہہ رہی ہیں
یہ منزل بطورِ نشانات آئی
صراحی اٹھائی نہ ساغر سنبھالے
عجب شان سے اپنی برسات آئی
وہ خود راز داں بن کے آئے تھے لیکن
زباں تک نہ دل کی کوئی بات آئی
مجھے ان کے وعدے پہ بالکل یقیں تھا
مگر جب ستاروں بھری رات آئی
نہ کہتا، شکیبؔ، ان سے حالِ غمِ دل
مگر کیا کروں بات پَر بات آئی
شکیب جلالی

لے اُڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں

اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
لے اُڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
آج وہ یُوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بُھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اُڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
دوستو! اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی‘ کوئی ہجومِ گُل و لالہ‘ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کُنجِ خیالات ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کرے
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تُو‘ سایہِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے ساتھ ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پائل سے چُرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
تھی غنچۂ دل میں جو وُہی بات رُکی ہے
کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے
کب ریت کی دیوار سے سیلاب ہے ٹھٹکا
فریاد سے کب یورشِ آفات رُکی ہے
ژالہ سا ہر اِک برگ لپکتا ہے زمیں کو
کیسی یہ بھلا باغ میں برسات رُکی ہے
کچھ اور بھی مچلے گی ابھی بُعدِ سحر سے
پلکوں پہ ستاروں کی جو بارات رُکی ہے
عجلت میں رواں، مالِ غنیمت کو سنبھالے
کب موجِ ہوا پاس لئے پات، رُکی ہے
بوندوں نے قفس میں بھی یہی دی ہے تسلی
صیّاد سے کب بارشِ نغمات رُکی ہے
ماجدؔ یہ کرم ہم پہ کہاں موسمِ گل کا
کب ہاتھ میں لینے کو صبا ہات رُکی ہے
ماجد صدیقی

خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
پت جھڑ کی رُت میں پیڑوں پر پات کہاں
خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں
لفظوں میں جھنکار کہاں اَب جذبوں کی
ہونٹوں پر جھرنوں جیسے نغمات کہاں
جھُول رہے ہیں جسکے تُند بہاؤ پر
دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں
اپنی دُھن میں اُڑنے والا کیا جانے
کون کھڑا ہے اُس کی لگائے گھات کہاں
گُم سُم ہو جائیں مہمان کی دستک پر
گھر والوں کو لے آئے حالات کہاں
اُٹھے ہیں جو فرعونی دستاروں پر
کٹنے سے بچ سکتے ہیں وُہ ہات کہاں
ماجدؔ بنیاؤں سا حصّہ، جیون سے
لینے سے باز آتے ہیں صدمات کہاں
ماجد صدیقی