ٹیگ کے محفوظات: نظراں

بڑا اداس سماں ہے قریب آ جاؤ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 3
سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
بڑا اداس سماں ہے قریب آ جاؤ
نہ تم کو خود پہ بھروسا نہ ہم کو زعمِ وفا
نہ اعتبارِ جہاں ہے قریب آ جاؤ
رہِ طلب میں کسی کو کسی کا دھیان نہیں
ہجومِ ہم سفراں ہے قریب آ جاؤ
جو دشتِ عشق میں بچھڑے وہ عمر بھر نہ ملے
یہاں دھواں ہی دھواں ہے قریب آ جاؤ
یہ آندھیاں ہیں تو شہرِ وفا کی خیر نہیں
زمانہ خاک فشاں ہے قریب آ جاؤ
فقیہِ شہر کی مجلس نہیں کہ دور رہو
یہ بزمِ پیرِ مغاں ہے قریب آ جاؤ
فراز دور کے سورج غروب سمجھے گئے
یہ دورِ کم نظراں ہے قریب آ جاؤ
احمد فراز

ہم کسی شے کو بھی موجود کہاں چاہتے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 46
سرِ صحرائے یقیں شہرِ گماں چاہتے ہیں
ہم کسی شے کو بھی موجود کہاں چاہتے ہیں
جس سے اٹھتے ہیں قدم راہِ جنوں خیز میں تیز
ہم بھی شانے پہ وہی بارِ گراں چاہتے ہیں
رُخ نہ کر جانبِ دنیا کہ اسیرانِ نظر
تجھ کو ہر دم اسی جانب نگراں چاہتے ہیں
ایسے گرویدہ کہاں ہیں لب و رخسار کے ہم
ہم تو بس قربتِ شیریں سخناں چاہتے ہیں
چاہتے ہیں کہ وہ تا عمر رہے پیشِ نظر
ایک تصویر سرِ آبِ رواں چاہتے ہیں
جس میں سیراب ہیں آنکھیں جہاں آباد ہیں دل
ہم اُسی شہرِ تخیل میں مکاں چاہتے ہیں
رازِ ہستی سے جو پردہ نہیں اُٹھتا، نہ اُٹھے
آپ کیوں اپنے تجسس کا زیاں چاہتے ہیں
شام ہوتے ہیں لگاتے ہیں درِ دل پہ صدا
آبلہ پا ہیں، اکیلے ہیں، اماں چاہتے ہیں
دُور عرفانؔ رہو اُن سے کہ جو اہلِ سخن
التفاتِ نگۂ کم نظراں چاہتے ہیں
عرفان ستار

تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 103
تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
تیرے حضور، تجھ سے دور، جلتی رہے گی زندگی
شعلہ بجاں رہا ہوں میں، شعلہ بجاں رہوں گا میں
تجھ کو تباہ کر گئے، تیری وفا کے ولولے
یہ مرا غم ہے میرا غم، اس میں تپاں رہوں گا میں
حیف نہیں ہے دیکھ بھال میری نصیب میں ترے
یعنی متاعِ بردہ ءِ کم نظراں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
ہم ہیں جدا جدا مگر، فن کی بساطِ رنگ پر
رقص کناں رہے گی تو، زمزمہ خواں رہوں گا میں
جون ایلیا