ٹیگ کے محفوظات: نظارا

کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟

نام مڑ مڑ کے بھلا کس نے پکارا تھا مرا؟
کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟
نقش کس طور سے اور کس نے ابھارا تھا مرا
ہاتھ کب میرے تھے؟ بس چاک پہ گارا تھا مرا
وہ جو بپھرا سا سمندر تھا۔۔۔ کنارہ تھا مرا
جس میں سب ڈوب گئے وہ تو نظارا تھا مرا
دھوپ میں جلتا پرندہ مجھے یوں دیکھتا تھا
بارشوں، سایوں پہ جیسے کہ اجارا تھا مرا
وہ لہو جیسے سمندر میں اترتا سورج
شام نے گویا کوئی عکس اتارا تھا مرا
کسی امید کی امید ہی اک دن ہو گی
اسی امید پہ پوچھو تو گزارا تھا مرا
پہلے ہاتھوں سے لکیریں مٹیں رفتہ رفتہ
کل جو پھر ٹوٹ گرا پل میں، ستارہ تھا مرا
تھا نشہ سارا زیاں میں مرا یاؔور ماجد
فائدہ کوئی بھی ہو، اس میں خسارہ تھا مرا
یاور ماجد

یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا

یہ کہہ رہا ہے دیارِ طرب کا نظارا
یہیں ملے گا مجھے میرا انجمن آرا
خیالِ حسن میں کتنا بہار پرور ہے
شبِ خزاں کی خنک چاندنی کا نظارا
چلے تو ہیں جرسِ گل کا آسرا لے کر
نہ جانے اب کہاں نکلے گا صبح کا تارا
چلو کہ برف پگھلنے کی صبح آ پہنچی
خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارا
چلے چلو اِنھی گمنام برف زاروں میں
عجب نہیں یہیں مل جائے درد کا چارا
کسے مجال کہ رُک جائے سانس لینے کو
رواں دواں لیے جاتا ہے وقت کا دھارا
بگولے یوں اُڑے پھرتے ہیں خشک جنگل میں
تلاشِ آب میں جیسے غزالِ آوارہ
ہمیں وہ برگِ خزاں دیدہ ہیں جنھیں ناصر
چمن میں ڈھونڈتی پھرتی ہے بوئے آوارہ
ناصر کاظمی

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 39
اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا؟
رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
تم تھے کہ اک ستار بجاتا ستارا تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
دنیا کے اس بھنورسے جب ابھرے دکھوں کے بھید
اک اک اتھاہ بھید خود اپنا کنارا تھا
پھر لوٹ کر نہ آیا، زمانے گزر گئے
وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا
مجید امجد