ٹیگ کے محفوظات: نشیں

ہم تم پائے تخت کے ہیں اور تخت نشیں کوئی اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
ذرّوں سے پہچان ہے ضو کی، ماہِ مبیں کوئی اور
ہم تم پائے تخت کے ہیں اور تخت نشیں کوئی اور
بال یہ پُوچھے منکرِ یزداں ہیں جو ہیں اور کثیر
اُنکے نصیبوں میں بھی ہے کیا فردوسِ بریں کوئی اور
آتی جاتی سانسوں کا بھی رکھ نہ سکیں جو حساب
دشمن ہیں تو ایک ہمِیں اپنے ہیں ،نہیں کوئی اور
چاند کو بس گھٹتا ہی دیکھیں اور رہیں رنجور
اِس دنیا میں شاید ہی ہو ہم سا حزیں کوئی اور
دل جس کو دینا تھا دیا اور اب ہے کہاں یہ تاب
دل کی لگن میں دیکھ لیا ہے جیسے حسیں کوئی اور
ہم ذی جوہر ہیں، یہ گماں ماجدؔ تھا گمانِ محض
اوج کی انگوٹھی میں سجا ہے دیکھ! نگیں کوئی اور
ماجد صدیقی

لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جب سے وُہ بدن، اپنے قریں ہونے لگا ہے
لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے
وُہ پاس ہے جس دم سے، منوّر ہے نظر اور
آنگن ہے کہ خود، ماہِ مبیں ہونے لگا ہے
پھر دیکھ پرندوں کی اُڑانوں میں، ٹھٹھک ہے
کُچھ سانحہ، پھر زیرِ زمیں، ہونے لگا ہے
قشقہ ہے غلامی کا یہی، نام ہمارے
ظلمت کا عَلم، زیبِ جبیں ہونے لگا ہے
ماجدؔ ہو طلب، گرگ سے کیا، لُطف و کرم کی
سوچو تو بھلا، ایسا کہیں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

چھب جو بھی ہے اُس کی آتشیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
زہر اب ہے، مے ہے، انگبیں ہے
چھب جو بھی ہے اُس کی آتشیں ہے
انوار ہی پھُوٹتے ہیں اُس سے
زرخیز بڑی وُہ سرزمیں ہے
جو ناز کرے اُسے روا ہے
وُہ شوخ ہے، شنگ ہے، حسیں ہے
ہالہ ہے کہ اُس کا ہے گریباں
مطلع ہے کہ اُس کی آستیں ہے
کیا ذکر ہو اُس کے آستاں کا
جو لطف ہے جانئے وہیں ہے
نسبت ہے یہی اب اُس سے اپنی
ہم خاتمِ چشم، وہ نگیں ہے
حرفوں سے جو منعکس ہے ماجدؔ
یہ بھی تو جمالِ ہم نشیں ہے
ماجد صدیقی

اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 14
دنیا سے دور ہو گیا، دیں کا نہیں رہا
اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا
رگ رگ میں موجزن ہے مرے خوں کے ساتھ ساتھ
اب رنج صرف قلبِ حزیں کا نہیں رہا
دیوار و در سے ایسے ٹپکتی ہے بے دلی
جیسے مکان اپنے مکیں کا نہیں رہا
تُو وہ مہک، جو اپنی فضا سے بچھڑ گئی
میں وہ شجر، جو اپنی زمیں کا نہیں رہا
سارا وجود محوِ عبادت ہے سر بہ سر
سجدہ مرا کبھی بھی جبیں کا نہیں رہا
پاسِ خرد میں چھوڑ دیا کوچہءِ جنوں
یعنی جہاں کا تھا میں، وہیں کا نہیں رہا
وہ گردبادِ وہم و گماں ہے کہ اب مجھے
خود اعتبار اپنے یقیں کا نہیں رہا
اب وہ جواز پوچھ رہا ہے گریز کا
گویا محل یہ صرف نہیں کا نہیں رہا
میرا خدا ازل سے ہے سینوں میں جاگزیں
وہ تو کبھی بھی عرشِ بریں کا نہیں رہا
ہر ذرۤہءِ زمیں کا دھڑکتا ہے اس میں غم
دل کو مرے ملال یہیں کا نہیں رہا
آخر کو یہ سنا تو بڑھا لی دکانِ دل
اب مول کوئی لعل و نگیں کا نہیں رہا
عرفان، اب تو گھر میں بھی باہر سا شور ہے
گوشہ کوئی بھی گوشہ نشیں کا نہیں رہا
عرفان ستار

ہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 23
میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا
ہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھا
یاں سبک حرفِ ملامت، واں گراں عرضِ نیاز
سخت جاں میں کب نہ تھا اور نازنیں تو کب نہ تھا
ناصح و واعظ کے مطعوں اے صنم ہم کب نہ تھے
آفتِ جان و بلائے عقل و دیں تو کب نہ تھا
انتہا کی بات ہے یاں ابتدائے عشق ہے
ہم نہ تھے کب عجز گستر، خشمگیں تو کب نہ تھا
جستجو میں سرمۂ تسخیر کی ہم کب نہ تھے
چشمِ افسوں ساز سے سحر آفریں تو کب نہ تھا
تجھ کو شک الفت میں اپنی، ہم کو وہمِ ربطِ غیر
بدگماں ہم کب نہ تھے اور بے یقیں تو کب نہ تھا
نا شکیبا، مضطرب، وقفِ ستم، ہم کب نہ تھے
بے مروت، بے وفا، مصروفِ کیں تو کب نہ تھا
تیری ان باتوں پہ ہم طعنے اٹھاتے کب نہ تھے
اے ستم گر شیفتہ کا ہم نشیں تو کب نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

شمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 22
آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھا
شمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھا
آج ہی دعویٰ ہے کیا تجھ کو بتانِ دہر سے
غیرتِ غلمان و رشکِ حورِ عیں تو کب نہ تھا
آج ہی ہر بات پر بے وجہ کیا رکتا ہے تو
اے ستم گر! برسرِ پرخاش و کیں تو کب نہ تھا
آج ہی تیری جگہ کچھ سینہ و دل میں نہیں
مثلِ تیرِ غمزہ ظالم! دل نشیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا شرم و شوخی کو ملایا ہے بہم
غیر سے بے باک، مجھ سے شرمگیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا ہے فلک پر شکوۂ فریادِ خلق
اے ستم گر! آفتِ روئے زمیں تو کب نہ تھا
آج ہی کیا دشمنوں سے قتل کی تدبیر ہے
اے جفا جو! در پئے جانِ حزیں تو کب نہ تھا
آج ہی باتیں بنانی یاں کے آنے میں نہیں
حیلہ گر تو کب نہ تھا، عذر آفریں تو کب نہ تھا
آج ہی اٹھ کر یہاں سے کیا عدو کے گھر گیا
مہر وش شب کو کہیں، دن کو کہیں تو کب نہ تھا
آج ہی ٹیکہ لگانے سے لگے کیا چار چاند
بے تکلف، بے تکلف مہ جبیں تو کب نہ تھا
آج ہی کچھ سوزِ ہجراں سے نہیں پروانہ وار
شیفتہ بے تابِ روئے آتشیں تو کب نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ بیں سے ہم

دیوان دوم غزل 863
کب تک رہیں گے پہلو لگائے زمیں سے ہم
یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ بیں سے ہم
تلواریں کتنی کھائی ہیں سجدے میں اس طرح
فریادی ہوں گے مل کے لہو کو جبیں سے ہم
فتراک تک یہ سر جو نہ پہنچا تو یا نصیب
مدت لگے رہے ترے دامان زیں سے ہم
ہوتا ہے شوق وصل کا انکار سے زیاد
کب تجھ سے دل اٹھاتے ہیں تیری نہیں سے ہم
چھاجے جو پیش دستی کرے نور ماہ پر
دیکھی عجب سفیدی تری آستیں سے ہم
یہ شوق صید ہونے کا دیکھو کہ آپ کو
دکھلایا صیدگہ میں یسار و یمیں سے ہم
تکلیف درد دل کی نہ کر تنگ ہوں گے لوگ
یہ بات روز کہتے رہے ہم نشیں سے ہم
اڑتی ہے خاک شہر کی گلیوں میں اب جہاں
سونا لیا ہے گودوں میں بھر کر وہیں سے ہم
آوارہ گردی اپنی کھنچی میر طول کو
اب چاہیں گے دعا کسو عزلت نشیں سے ہم
میر تقی میر

ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

دیوان اول غزل 440
یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی
ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ
ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے
گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ
جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے
آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے
آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا
ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے
رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں
رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے
ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
میر تقی میر

اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں

دیوان اول غزل 304
کوئی نہیں جہاں میں جو اندوہگیں نہیں
اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں
کرتا ہے ابر دعوی دریادلی عبث
دامن نہیں مرا تو مری آستیں نہیں
آگے تو لعل نو خط خوباں کے دم نہ مار
ہر چند اے مسیح وے باتیں رہیں نہیں
یہ درد اس کے کیونکے کروں دل نشیں کہ آہ
کہتا ہوں جس طرح سے کہے ہے نہیں نہیں
ماتھا کیا ہے صرف سجود در بتاں
مانند ماہ نو کے مری اب جبیں نہیں
کہتا ہوں حال دل تو کہے ہے کہ مت بکے
کیوں نئیں تری تو بات مرے دل نشیں نہیں
گھر گھر ہے ملک عشق میں دوزخ کی تاب و تب
بھڑکا نہ ہم کو شیخ یہ آتش یوہیں نہیں
ضائع کیا میں اپنے تئیں تونے کی خوشی
بے مہر کیونکے جانیے تجھ میں کہ کیں نہیں
فکربلند سے میں کیا آسماں اسے
ہر یک سے میر خوب ہو یہ وہ زمیں نہیں
میر تقی میر

کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر

دیوان اول غزل 210
قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر
نہ دیکھا آخر اس آئینہ رو نے
نظر سے بھی نگاہ واپسیں پر
گئے دن عجز و نالہ کے کہ اب ہے
دماغ نالہ چرخ ہفتمیں پر
ہوا ہے ہاتھ گلدستہ ہمارا
کہ داغ خوں بہت ہے آستیں پر
خدا جانے کہ کیا خواہش ہے جی کو
نظر اپنی نہیں ہے مہروکیں پر
پر افشانی قفس ہی کی بہت ہے
کہ پرواز چمن قابل نہیں پر
جگر میں اپنے باقی روتے روتے
اگرچہ کچھ نہیں اے ہم نشیں پر
کبھو جو آنکھ سے چلتے ہیں آنسو
تو بھر جاتا ہے پانی سب زمیں پر
قدم دشت محبت میں نہ رکھ میر
کہ سر جاتا ہے گام اولیں پر
میر تقی میر

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

دیوان اول غزل 2
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں
کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے
کل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا
میر تقی میر

ریت سے جھُلسے ہوئے روئے زمیں کو دھو دیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 37
اُس نے اک اقرار میں ہاں سے نہیں کو دھو دیا
ریت سے جھُلسے ہوئے روئے زمیں کو دھو دیا
آخرش وہ اور اس کی بوریا ہی رہ گئے
دل کی طغیانی نے شاہ و شہ نشیں کو دھو دیا
دل میں اُسکی شکل کے سو عکس اب بنتے نہیں
ایک ہی آنسو نے چشمِ بے یقیں کو دھو دیا
دھوپ کو ابرِ مقدس ارغوانی کر گیا
بوسۂ باراں نے ہر شے کی جبیں کو دھو دیا
ظلم برپا تو ہوا لیکن کہاں برپا ہوا
میری غفلت نے کسی کی آستیں کو دھو دیا
جسم پر چھائی ہوئی شہوت کے ابرِ نار کا
قہر وُہ برسا کہ ہر نقشِ حسیں کو دھو دیا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی خنجر رگ گردن کے قریں آگیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 326
شور کرنا ہمیں بے وجہ نہیں آگیا ہے
کوئی خنجر رگ گردن کے قریں آگیا ہے
کو بہ کو صید چلے آتے ہیں گردن ڈالے
شہر میں کون شکاری سرزیں آگیا ہے
اور کیجیے ہنر خوش بدناں کی تعریف
وہ بدن آگ لگانے کو یہیں آگیا ہے
دل برباد زمانے سے الگ ہے شاید
سارا عالم تو ترے زیر نگیں آگیا ہے
ان کے نزدیک یہ ساری سخن آرائی تھی
تجھ کو دیکھا ہے تو لوگوں کو یقیں آگیا ہے
اب کسی خیمہ گہ ناز میں جاتے نہیں ہم
بیچ میں کب سے کوئی خانہ نشیں آگیا ہے
عرفان صدیقی

پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 167
بہت دنوں تو رہا اپنا نکتہ چین بھی میں
پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں
مری طرف ہی دواں ہے مری کمندِ ہوس
یہاں غزال بھی میں ہوں سبکتگین بھی میں
عذاب مجھ سے مجھی پر اترتے رہتے ہیں
فرازِ عرش بھی میں‘ پستیِ زمین بھی میں
اب اپنے آپ کو کس طرح بے بہا کہیے
نگیں شناس بھی میں‘ دانۂ نگین بھی میں
گدا و شاہ سے میرا تپاک ایک سا ہے
کہ کج کلاہ بھی میں‘ بوریا نشیں بھی میں
مجھے وہ آنکھ نہ دیکھے تو میں ہی سب سے خراب
وہ انتخاب جو کر لے تو بہترین بھی میں
عرفان صدیقی

ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 202
حسنِ خلدِ بریں! خدا حافظ
ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ
موت کا وار کامیاب ہوا
خنجرِ آستیں! خدا حافظ
جسم پر بار اب ہے زہرِ مگس
شہد کی سرزمیں! خدا حافظ
دل مچلتاہے سجدہ کرنے کو
سرکشیدہ جبیں! خدا حافظ
بھوک ہے قحط ہے، تمہارا بھی
پرورِ عالمیں! خدا حافظ
ہم نے انگشتری بدل لی ہے
آسماں کے نگیں! خدا حافظ
ہم اِدھر بھی نہیں اُدھر بھی نہیں
اے چناں اے چنیں! خدا حافظ
خوش رہو تم جہاں رہو ساتھی
کہہ رہے ہیں ہمیں! خدا حافظ
چھوڑدی پوجا آفتابوں کی
دینِ مہرِ مبیں! خدا حافظ
ہم حصارِ نظر سے باہر تھے
دیدہِ دل نشیں! خدا حافظ
اس کو دیکھا بھی ہے ٹٹولا بھی
صحبتِ بے یقیں! خدا حافظ
آرہا ہے قیام کو کوئی
اے غمِ جا گزیں! خدا حافظ
ہے لبِ یار پر تبسم سا
سوزِ طبعِ حزیں! خدا حافظ
زندگی سے لڑائی کیا کرنی
اے کمان و کمیں! خدا حافظ
تم مخالف نہیں حکومت کے
حلقۂ مومنیں! خدا حافظ
شاخ کی طرح خالی ہونا تھا
اے گلِ آخریں! خدا حافظ
چھوڑ آئے ہیں ہم بھرا میلہ
نغمۂ آفریں! خدا حافظ
یاد کے دشت نے پکارا ہے
چشمۂ انگبیں! خدا حافظ
آگ تم سے بھی اب نہیں جلتی
اے مئے آتشیں! خدا حافظ
تم کو بالشتیے مبارک ہوں
رفعتِ ملک و دیں! خدا حافظ
یہ تعلق نہیں ، نہیں منصور
تم کہیں ، ہم کہیں! خدا حافظ
منصور آفاق

برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 54
جب قریہء فراق مری سرزمیں ہوا
برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا
جا کر تمام زندگی خدمت میں پیش کی
اک شخص ایک رات میں اتنا حسیں ہوا
میں نے کسی کے جسم سے گاڑی گزار دی
یہ حادثہ بھی روح کے اندر کہیں ہوا
ڈر ہے کہ بہہ نہ جائیں در و بام آنکھ کے
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا
ہمت ہے میرے خانہء دل کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا
منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا
کھڑکی سے آرہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا
چھونے لگی ہے روح کا پاتال کوئی سانس
منصور کون یاد کے اتنے قریں ہوا
منصور آفاق

میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 20
کھینچ لی میرے پاؤں سے کس نے زمیں ، میں نہیں جانتا
میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا
کیوں نہیں کانپتا بے یقینی سے پانی پہ چلتے ہوئے
کس لیے تجھ پہ اتنا ہے میرا یقیں ، میں نہیں جانتا
ایک خنجر تو تھا میرے ٹوٹے ہوئے خواب کے ہاتھ میں
خون میں تر ہوئی کس طرح آستیں ، میں نہیں جانتا
کچھ بتاتی ہیں بندوقیں سڑکوں پہ چلتی ہوئی شہر میں
کس طرح، کب ہوا، کون مسند نشیں ، میں نہیں جانتا
لمحہ بھر کی رفاقت میں ہم لمس ہونے کی کوشش نہ کر
تیرے بستر کا ماضی ہے کیا میں نہیں ، میں نہیں جانتا
اس کے بے مہر دوزخ میں اپنی تو گزری ہیں تنہائیاں
اُس مبارک گلی کا بہشتِ بریں ، میں نہیں جانتا
کیا مرے ساتھ منصور چلتے ہوئے راستے تھک گئے
کس لیے ایک گھر چاہتا ہوں کہیں ، میں نہیں جانتا
منصور آفاق

کتنے حسیں ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 97
چیں بہ جبیں ہو
کتنے حسیں ہو
اتنی خموشی
گویا نہیں ہو
وہ مہرباں ہیں
کیونکر یقیں ہو
دنیا سے کھیلو
ناز آفریں ہو
یہ بے حجابی
پردہ نشیں ہو
جیسا سنا تھا
ویسے نہیں ہو
سوچو تو باقیؔ
سب کچھ تمہیں ہو
باقی صدیقی