ٹیگ کے محفوظات: نشیمن

گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 72
ہمیں کیا جبکہ رہنا ہی منظور نہیں گلشن میں
گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں
جنوں میں بھی یہاں تک ہے کسی کا پاسِ رسوائی
گریباں پھاڑتا ہوں اور رکھ لیتا ہوں دامن میں
ہمارا گھر جلا کہ تجھ کو کیا ملے گا اے بجلی
زیادہ سے زیادہ چار تنکے ہیں نشیمن میں
قمر جن کو بڑے مجھ سے وفاداری کے دعوے تھے
وہی احباب تنہا چھوڑ کر جاتے ہیں مدفن میں
قمر جلالوی

مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 37
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب
مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب
میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اداس
ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب
اب سے ذرا فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں
آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب
وہ تو یوں کہیئے سرِ محشر خیال آ ہی گیا
ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب
میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا
برق تھی گلشن کے اندر میں تھا گلشن کے قریب
کیا کہی گی اے قمر تاروں کی دنیا دیکھ کر
چاندنی شب میں وہ کیوں روتے ہیں مدفن کے قریب
قمر جلالوی

بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 219
اپنے بدن کو آگ کامدفن بنائیں ہم
بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم
کس واسطے سنائیں تباہی کی پھر وعید
سارا دیار کس لئے دشمن بنائیں ہم
بدذات شہر رہنے کے قابل نہیں رہا
ویرانے میں کہیں جا مسکن بنائیں ہم
کالے سمندروں کے زمانے گزر گئے
تاریک سب جزیرے روشن بنائیں ہم
منصور جس کے ساتھ منورہے سارا شہر
اُس خوبرو چراغ کوساجن بنائیں ہم
منصور آفاق