ٹیگ کے محفوظات: نشانہ

سازشوں کا وُہی نشانہ رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
جس شجر پر بھی آشیانہ رہا
سازشوں کا وُہی نشانہ رہا
آنکھ اُٹھی نہیں اِدھر سے اُدھر
سر پہ اپنے وُہ تازیانہ رہا
اُس جنوں کو سلام جس کے طفیل
ہم سے مانوس اِک زمانہ رہا
ہم سے مالی کا مثل بچّوں کے
پھل نہ پکنے کا ہی بہانہ رہا
ہم کہاں کے ہیں محترم ماجدؔ
کیا ہے اپنا بھرم رہا نہ رہا
ماجد صدیقی

ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
دیارِ یار جو اپنا کبھی ٹھکانہ تھا
ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا
مجھی پہ اُس کا نزولِ غضب ہوا کیونکر
مرا ہی خطۂ جاں اُس کا کیوں نشانہ تھا
اثر پکار میں کچھ تھا نہ گھر کے جلنے تک
پھر اُس کے بعد تو ہمدرد اک زمانہ تھا
کبھی نہ دل سے گیا قُربِ رعد کا کھٹکا
بلند شاخ پہ جس دن سے آشیانہ تھا
اُنہی کے سامنے جھکتے تھے عدل والے بھی
سلوک جن کا سرِ ارض غاصبانہ تھا
کسی کو دیکھتے ماجدؔ بصدقِ دل کیسے
وہ جن کا اپنا چلن ہی منافقانہ تھا
ماجد صدیقی

حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے

دیوان چہارم غزل 1523
دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے
حال اگر ہے ایسا ہی تو جی سے جانا جانا ہے
اس کی نگاہ تیز ہے میرے دوش و بر پر ان روزوں
یعنی دل پہلو میں میرے تیرستم کا نشانہ ہے
دل جو رہے تو پائوں کو بھی دامن میں ہم کھینچ رکھیں
صبح سے لے کر سانجھ تلک اودھر ہی جانا آنا ہے
سرخ کبھو آنسو ہیں ہوتے زرد کبھو ہے منھ میرا
کیا کیا رنگ محبت کے ہیں یہ بھی ایک زمانہ ہے
اس نومیدی بے غایت پر کس مقدار کڑھا کریے
دو دم جیتے رہنا ہے تو قیامت تک مر جانا ہے
فرصت کم ہے یاں رہنے کی بات نہیں کچھ کہنے کی
آنکھیں کھول کے کان جو کھولو بزم جہاں افسانہ ہے
فائدہ ہو گا کیا مترتب ناصح ہرزہ درائی سے
کس کی نصیحت کون سنے ہے عاشق تو دیوانہ ہے
تیغ تلے ہی اس کے کیوں نہ گردن ڈال کے جا بیٹھیں
سر تو آخرکار ہمیں بھی خاک کی اور جھکانا ہے
آنکھوں کی یہ مردم داری دل کو کسو دلبر سے ہے
طرزنگہ طراری ساری میر تمھیں پہچانا ہے
میر تقی میر

اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا

دیوان سوم غزل 1070
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا
پامالی عزیزوں کی رکھنی تھی نظر میں ٹک
اتنا بھی تمھیں آ کر یاں سر نہ اٹھانا تھا
اک محوتماشا ہیں اک گرم ہیں قصے کے
یاں آج جو کچھ دیکھا سو کل وہ فسانہ تھا
کیونکر گلی سے اس کی میں اٹھ کے چلا جاتا
یاں خاک میں ملنا تھا لوہو میں نہانا تھا
جو تیر چلا اس کا سو میری طرف آیا
اس عشق کے میداں میں میں ہی تو نشانہ تھا
جب تونے نظر پھیری تب جان گئی اس کی
مرنا ترے عاشق کا مرنا کہ بہانہ تھا
کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ
کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا
کب اور غزل کہتا میں اس زمیں میں لیکن
پردے میں مجھے اپنا احوال سنانا تھا
میر تقی میر

جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے

دیوان اول غزل 550
قبر عاشق پر مقرر روز آنا کیجیے
جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے
رات دارو پیجیے غیروں میں بے لیت و لعل
یاں سحر سر دکھنے کا ہم سے بہانہ کیجیے
ٹک تمھارے ہونٹ کے ہلنے سے یاں ہوتا ہے کام
اتنی اتنی بات جو ہووے تو مانا کیجیے
گوشۂ چشم بتاں یا کنج لب اس وقت میں
جا کہیں ہو تو دل اپنے کا ٹھکانا کیجیے
سیکھیے غیروں کے ہاں چھپ چھپ کے علم تیر پھر
سارے عالم میں ہمارے تیں نشانہ کیجیے
رفتہ رفتہ قاصدوں کو رفتگی اس سے ہوئی
جی میں ہے اب کے مقرر اپنا جانا کیجیے
نکلے ہے آنکھوں سے تو گرد کدورت جاے اشک
تا کجا تیری گلی میں خاک چھانا کیجیے
آبشار آنے لگے آنسو کے پلکوں سے تو میر
کب تلک یہ آب چادر منھ پہ تانا کیجیے
میر تقی میر

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 325
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
چمک رہا ہے افق تک غبارِ تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآلِ سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے
فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے
کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
عرفان صدیقی

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی