ٹیگ کے محفوظات: نسب

گھر ہی جاسکتے تھے آوارہءِ شب، کیا کرتے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 67
مجلسِ غم، نہ کوئی بزمِطرب، کیا کرتے
گھر ہی جاسکتے تھے آوارہءِ شب، کیا کرتے
یہ تو اچھا کیا تنہائی کی عادت رکھّی
تب اِسے چھوڑ دیا ہوتا تو اب کیا کرتے
روشنی، رنگ، مہک، طائرِ خوش لحن، صبا
تُو نہ آتا جو چمن میں تو یہ سب کیا کرتے
دل کا غم دل میں لیے لوٹ گئے ہم چپ چاپ
کوئی سنتا ہی نہ تھا شور و شغب کیا کرتے
بات کرنے میں ہمیں کون سی دشواری تھی
اُس کی آنکھوں سے تخاطب تھا سو لب کیا کرتے
کچھ کیا ہوتا تو پھر زعم بھی اچھا لگتا
ہم زیاں کار تھے، اعلانِ نسب کیا کرتے
دیکھ کر تجھ کو سرہانے ترے بیمارِ جنوں
جاں بلب تھے، سو ہوئے آہ بلب، کیا کرتے
تُو نے دیوانوں سے منہ موڑ لیا، ٹھیک کیا
ان کا کچھ ٹھیک نہیں تھا کہ یہ کب کیا کرتے
جو سخن ساز چراتے ہیں مرا طرزِ سخن
ان کا اپنا نہ کوئی طور، نہ ڈھب، کیا کرتے
یہی ہونا تھا جو عرفان ترے ساتھ ہُوا
منکرِ میر بھلا تیرا ادب کیا کرتے
عرفان ستار

کیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغ

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 28
روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ
کیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغ
وہ دن نہیں کرن سے کرن میں لگے جو آگ
وہ شب کہاں چراغ سے جلتے تھے جب چراغ
تیرہ ہے خاکداں، تو فلک بے نجوم ہے
لائے کہاں سے مانگ کے دست طلب چراغ
روشن ضمیر آج بھی ظلمت نصیب ہیں
تم نے دیے ہیں پوچھ کے نام و نسب چراغ
وہ تیرگی ہے دشتِ وفا میں کہ الاماں
چمکے جو موجِ ریگ تو پائے لقب چراغ
دن ہو اگر تو رات سے تعبیر کیوں کریں
سورج کو اہلِ ہوش دکھاتے ہیں کب چراغ
اے بادِ تند وضع کے پابند ہم بھی ہیں
پتھر کی اوٹ لے کے جلائیں گے اب چراغ
شکیب جلالی

مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو

دیوان دوم غزل 930
مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو
مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو
پھرتے ہیں چنانچہ لیے خدام سلاتے
درویشوں کے پیراہن صد چاک قصب کو
کیا وجہ کہیں خوں شدن دل کی پیارے
دیکھو تو ہو آئینے میں تم جنبش لب کو
برسوں تئیں جب ہم نے تردد کیے ہیں تب
پہنچایا ہے آدم تئیں واعظ کے نسب کو
ہے رحم کو بھی راہ دل یار میں بارے
جاگہ نہیں یاں ورنہ کہیں اس کے غضب کو
کیا ہم سے گنہگار ہیں یہ سب جو موئے ہیں
کچھ پوچھو نہ اس شوخ کی رنجش کے سبب کو
دل دینے سے اس طرح کے جی کاش کے دیتے
یوں کھینچے کوئی کب تئیں اس رنج و تعب کو
حیرت ہے کہ ہے مدعی معرفت اک خلق
کچھ ہم نے تو پایا نہیں اب تک ترے ڈھب کو
ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
میر تقی میر

فرد فرد

عرفان صدیقی ۔ فرد فرد
اب خدا چاہے تو کچھ اور ہوا چاہتا ہے
آج تک تو وہ ہوا ہے جو عدو نے چاہا
خدا نے ذہن میں لفظ و بیاں کو بھیج دیا
جو کچھ کمایا تھا میں نے سو ماں کو بھیج دیا

غزال آتے بھی ہیں زیر دام جانتا ہوں
مگر یہ رزق میں خود پر حرام جانتا ہوں

شہر نے اُمید کی چادر اوڑھی دُور اذان شام ہوئی
سوچ کی کہنہ سرائے میں روشن مشعل بام ہوئی

میرے انکار پرستش نے بچایا ہے مجھے
سر جھگا دوں تو ہر انسان خدا ہو جائے

کون پاگل اپنا سر دینے کی سرشاری میں ہے
فائدہ تو صرف اعلان وفاداری میں ہے

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہوتا
نہ ہوا ورنہ یہ نظارہ غضب کا ہوتا

میرا میدان غزل نیزہ و سر کا ٹھہرا
رہنے والا جو شہیدوں کے نگر کا ٹھہرا

غزل میں ہم سے غم جاں بیاں کبھی نہ ہوا
تمام عمر جلے اور دھواں کبھی نہ ہوا

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہو گا
کبھی ہو گا تو یہ نظارہ غضب کا ہو گا

ہوا کے ہاتھ میں رکھ دی کسی نے چنگاری
تمام شہر اسے حادثہ سمجھتا رہا

کوئے قاتل کو تماشا گاہ سمجھا ہے حریف
کشتنی میری رقابت میں یہاں بھی آگیا

زمین گھوم رہی ہے ہمارے رُخ کے خلاف
اشارہ یہ ہے کہ سمت سفر بدل دیں ہم

اس کا پندار رہائی نہیں دیتا اس کو
نقش دیوار دکھائی نہیں دیتا اس کو

میں اک دعا ہوں تو دروازہ آسمان کا بھی کھول
اور اک نوا ہوں تو حسن قبول دے مجھ کو

سوچتے سوچتے زندگی کٹ گئی اس نے چاہا مجھے
وہم بھی ایک شئے ہے مگر اس کے لیے کچھ قرینہ تو ہو

وہاں ہونے کو ہو گی برف باری
پرندے پھر ادھر آنے لگے ہیں

شاعری سے کوئی قاتل راہ پر آتا نہیں
اور ہم کو دوسرا کوئی ہنر آتا نہیں

مری غزل کا یہ مضموں بدلنے والا نہیں
وہ ملنے والا نہیں، دل سنبھلنے والا نہیں

میں بھی تنہائی سے ڈرتا ہوں کہ خاکم بدہن
آدمی کوئی خدا ہے، کہ اکیلا رہ جائے

حکم یہ ہے کہ مجھے دشت کی قیمت دی جائے
میرے زنداں کے در و بام کو وسعت دی جائے

موتیوں سے منہ بھرے دیکھو تو یہ مت پوچھنا
لوگ کیوں چپ ہو گئے تاب سخن ہوتے ہوئے

آگ میں رقص کیا، خاک اُڑا دی ہم نے
اب کے تو شہر میں اک دھوم مچا دی ہم نے
آگ میں رقص کیا خاک اُڑا دی ہم نے
موج میں آئے تو اک دھوم مچا دی ہم نے

دل اک تپش میں پگھلتا رہے تو اچھا ہے
چراغ طاق میں جلتا رہے تو اچھا ہے

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچاتے تو زیاں نام و نسب کا ہوتا

موج خوں بھرتی رہی دشت کی تصویر میں رنگ
کبھی دریا نہ مرے دیدۂ تر کا ٹھہرا

کبھی طلب ہی نہ کی دوستوں سے قیمت دل
سو کاروبار میں ہم کو زیاں کبھی نہ ہوا

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچائیں تو زیاں نام و نسب کا ہو گا

بجا حضور، یہ ساری زمین آپ کی ہے
میں آج تک اسے ملک خدا سمجھتا رہا

میں نے تو اپنے ہی بام جاں پہ ڈالی تھی کمند
اتفاقاً اس کی زد میں آسماں بھی آگیا

اب آفتاب تو محور بدل نہیں سکتا
تو کیوں نہ زاویۂ بام و در بدل دیں ہم

کیا کسی خواب میں ہوں میں تہہ خنجر کہ یہاں
چیختا ہوں تو سنائی نہیں دیتا مجھ کو
نہ گرم دوستیاں ہیں نہ نرم دشمنیاں
میں بے اصول ہوں کوئی اصول دے مجھ کو

ہم ہوا کے سوا کچھ نہیں اس پہ یہ حوصلہ دیکھئے
آدمی ٹوٹنے کے لیے کم سے کم آبگینہ تو ہو

مرا گھر پاس آتا جا رہا ہے
وہ مینارے نظر آنے لگے ہیں

شہسوارو، اپنے خوں میں ڈوب جانا شرط ہے
ورنہ اس میدان میں نیزے پہ سر آتا نہیں

لہو میں لو سی بھڑکنے لگی، میں جانتا ہوں
کہ یہ چراغ بہت دیر جلنے والا نہیں

دل افسردہ کے ہر سمت ہے رشتوں کا ہجوم
جیسے انسان سمندر میں بھی پیاسا رہ جائے

کب تلک کوئی کرے حلقۂ زنجیر میں رقص
کھیل اگر دیکھ لیا ہو تو اجازت دی جائے

اب بدن سے موج خوں گزری تو اندازہ ہوا
کیا گزر جاتی ہے صحرا پہ چمن ہوتے ہوئے

درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم ہی دنیا سے اُٹھا دی ہم نے
درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم بہرحال اُٹھا دی ہم نے

وہ عشق ہو کہ ہوس ہو مگر تعلق کا
کوئی بہانہ نکلتا رہے تو اچھا ہے
عرفان صدیقی

چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 181
ذرا سا وقت کہیں بے سبب گذارتے ہیں
چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں
تو اک چراغِ جہانِ دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گذارتے ہیں
ہمارا عشق ہی کیا ہے‘ گذارنے والے
یہاں تو نذر میں نام و نسب گذارتے ہیں
خراج مانگ رہی ہے وہ شاہ بانوئے شہر
سو ہم بھی ہدیۂ دستِ طلب گذارتے ہیں
سنا تو ہو گا کہ جنگل میں مور ناچتا ہے
ہم اس خرابے میں فصلِ طرب گذارتے ہیں
عرفان صدیقی

اپنے ہونے کا سبب معلوم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 173
آدمی کے جدو اب معلوم کر
اپنے ہونے کا سبب معلوم کر
پوچھ شجرہ زندگی سے جا کہیں
جاکے مٹی کا نسب معلوم کر
فیصلے یک طرفہ کرنے چھوڑ دے
مجھ سے بھی میری طلب معلوم کر
اپنی پہچانیں کہاں کھوئی گئیں
گم ہوئے کیوں چشم و لب معلوم کر
اور کتنے قوس جلنا ہے ہمیں
اے چراغ دشتِ شب معلوم کر
موت کے منصور شہرِ خوف میں
زندگی کا کوئی ڈھب معلوم کر
منصور آفاق

یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 161
ہجراں کے سیہ داغِ طلب سے ماخوذ
یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ
ہم چُنتے رہے فرش و فلک کے الہام
ہم دونوں جہانوں کے ادب سے ماخوذ
ہے رات تری زلف دوتا سے نکلی
ہے صبح ترے عارض و لب سے ماخوذ
دھڑکن کی طرح چیخ رہی ہیں کب سے
نظمیں ہیں دلِ مہر بلب سے ماخوذ
ہم رات کے پرودہ نہیں ہیں منصور
ہم خواب ہیں صبحوں کے نسب سے ماخوذ
منصور آفاق