ٹیگ کے محفوظات: نرگس

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

دیوان اول غزل 12
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ میخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میر سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
میر تقی میر

نرگس

میں نے حسرت بھری نظروں سے تجھے دیکھا ہے

جب تو روز، اک نئے بہروپ میں، روز اک نئے انداز کے ساتھ

اپنی ان گاتی ہوئی انکھڑیوں کی چشمکِ طنّاز کے سات

روز اک تازہ صنم خانۂ آہنگ میں در آئی ہے!

ایکٹریس! روپ کی رانی! تجھے معلوم نہیں

کس طرح تیرے خیالوں کے بھنور میں جی کر

کن تمناؤں کا تلخابۂ نوشیں پی کر

میں نے اک عمر ترے ناچتے سایوں کی پرستش کی ہے

تو نے اک عظمتِ صد رنگ سے جس جذبے کو

آج تک اپنے لیے مُزدِ ہزار اشک سمجھ رکھا ہے

وہ محبت مرے سینے میں تڑپتی ہوئی اک دنیا ہے

جو ترے قدموں کی ہر چاپ پہ چونک اٹھتی ہے

کاش میں بھی وہی اک عکسِ درخشاں ہوتا

دلِ انساں سے ابھرتی ہوئی موہوم تمناؤں کا عکس

ایک مانگی ہوئی اچکن میں سمایا ہوا مامورِ فغاں شخص

جس کے پہلو میں تری روح دھڑک سکتی ہے

مجید امجد

میرا کمرہ کرے سخن کس کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 574
کون درزوں سے آئے رس رس کے
میرا کمرہ کرے سخن کس کے
میں گلی میں سلگتا پھرتا ہوں
جل رہے ہیں چراغ مجلس کے
بازوئوں پر طلوع ہوتے ہی
کٹ گئے دونوں ہاتھ مفلس کے
کیا ہے میک اپ زدہ طوائف میں
جز ترے کیا ہیں رنگ پیرس کے
میں بھی شاید مُہِنجو داڑو ہوں
اب بھی سر بند راز ہیں جس کے
متحرک ہیں غم کی تصویریں
چل رہے ہیں بدن حوادث کے
دیکھ چھو لے مجھے ذرا اے دوست
دیکھنا پھر کرشمے پارس کے
وقت کے ساتھ میرے سینے پر
بڑھتے جاتے ہیں داغ نرگس کے
تم سمجھ ہی کہاں سکے منصور
مسئلے عشق میں ملوث کے
بنامِ میر
منصور آفاق