ٹیگ کے محفوظات: ندامت

مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 83
یہاں تکرارِ ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے
تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کردیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
اذیّت تھی مگر لذّت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیّت ہے اذیّت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب اُن کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
شمار و بے شماری کے تردّد سے گزر کر
مآلِ عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے
عرفان ستار

کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 267
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
کشاد و بستِ مژہ ، سیلئِ ندامت ہے
نہ جانوں ، کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بد عہدی
تجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تابِ ہوس ، سِلکِ عافیت مت توڑ
نگاہِ عجز سرِ رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعوائے عشق بے بُنیاد
جنونِ ساختہ و فصلِ گُل ، قیامت ہے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے

دیوان پنجم غزل 1776
عشق بلاانگیز مفتن یہ تو کوئی قیامت ہے
جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے
موسم گل میں توبہ کی تھی واعظ کے میں کہنے سے
اب جو رنگ بہار کے دیکھے شرمندہ ہیں ندامت ہے
شیخ کی ادنیٰ حرکت بھی میں خرق عادت جانوں ہوں
مسجد سے میخانے آیا یہ بھی اس کی کرامت ہے
ایک طرف میں عشق کیا تھا رسوائی یہ کہاں سے ہوئی
اب جو گھر سے نکل آتا ہوں چاروں طرف سے ملامت ہے
تو ہی کر انصاف صبا ٹک باغوں باغوں پھرے ہے تو
روے گل اس کا ساروہے سرو کا ایسا قامت ہے
صبح کو خورشید اس کے گھر پر طالع ہوکر آتا ہے
دیکھ لیا جو ان نے کبھو تو اس سادہ کی شامت ہے
چھوڑو اس اوباش کا ملنا ورنہ سر کٹوائوگے
چاہ رہو گے بہتیروں کو سر جو میر سلامت ہے
میر تقی میر

مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

دیوان اول غزل 5
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدئہ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
میر تقی میر

عرفانؔ تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 252
دستِ تہی میں گوہرِ نصرت کہاں سے لائے
عرفانؔ تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے
سب دین ہے خدا کی سو ہر دودمانِ شوق
چادر کہاں سے لائے ولایت کہاں سے لائے
پانی نہ پائیں ساقی کوثر کے اہلِ بیتؑ
موج فرات اشک ندامت کہاں سے لائے
لو ہاتھ اہلِ صبر و رضا نے کٹا دیے
اب ظلم سوچتا ہے کہ بیعت کہاں سے لائے
میں آلِ خانہ زاد علیؑ ، اُن کا ریزہ خوار
قسمت نہ ہو تو کوئی یہ نسبت کہاں سے لائے
ہاں اہلِ زر کے پاس خزانے تو ہیںؓ مگر
مولاؑ کا یہ فقیر ضرورت کہاں سے لائے
عرفان صدیقی

لکھنؤ میں بھی بتوں کا قد و قامت ہے وہی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 236
ہر جگہ فتنۂ محشر کی علامت ہے وہی
لکھنؤ میں بھی بتوں کا قد و قامت ہے وہی
بات کرنے لگے سناٹے تو معلوم ہُوا
اَب بھی خاموش زَبانوں میں کرامت ہے وہی
کون ہم خانہ خرابوں کو کرے گا برباد
جو اِس آشوب میں غارت ہے سلامت ہے وہی
آستیں پر کوئی دھبّہ تو نہیں ہے، لیکن
اُس کی آنکھوں میں بہرحال ندامت ہے وہی
کم سے کم ایک رَوایت تو اَبھی زِندہ ہے
سر وہی ہوں کہ نہ ہوں، سنگِ ملامت ہے وہی
موجِ خوں ہو کہ ترے شہر کی دِلدار ہَوا
یار، جو سر سے گزر جائے قیامت ہے وہی
عرفان صدیقی

اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 452
آب رواں میں پھر نئی شامت دکھائی دی
اُس جیسی ایک اور قیامت دکھائی دی
اس کے خیال بھی تھے پرانے ، بہت قدیم
اس کے لباس میں بھی قدامت دکھائی دی
تقریبِ گل میں سرو کئی آئے تھے مگر
ہر سمت تیری رونقء قامت دکھائی دی
پہلے بدن کا معجزہ دیکھا نگاہ نے
پھر گفتگو میں ایک کرامت دکھائی دی
میں نے بھلا دیں ساری گذشتہ کی تلخیاں
تھوڑی سی اُس نظر میں ندامت دکھائی دی
جاری ہے ٹوٹ پھوٹ وجود و شہود میں
کوئی کہیں بھی شے نہ سلامت دکھائی دی
منصور چپ کھڑی تھی کہیں شام کی کرن
چھیڑا توزندگی کی علامت دکھائی دی
منصور آفاق