ٹیگ کے محفوظات: نجانے

اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا

چاندنی بجھ گئی، چاند جانے کہاں کھو گیا
اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا
کون کہتا ہے تیری کہانی مکمل ہوئی؟
ذکر میرا بتا اے فسانے کہاں کھو گیا
ڈھونڈنے کو تو نکلا تھا گم گشتہ منزل کو میں
مجھ سے  میرا پتہ ہی نجانے کہاں کھو گیا
یا خدا! میں تو تھا ہی سراسر گماں کا گماں
وہ جو نکلا تھا مجھ کو گنوانے کہاں کھو گیا
نیند رکھی تھی پلکوں پہ جانے کہاں گم ہوئی
خواب رکھا تھا اپنے سرہانے کہاں کھو گیا
یاور ماجد

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 104
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چُپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سُنانے آئے
عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم
کون یہ بوجھ اُٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فراز
نیند کس وقت نجانے آئے
احمد فراز