ٹیگ کے محفوظات: نبھا

چاہا تو گھٹا لینا چاہا تو بڑھا لینا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 10
سادہ سی حقیقت کو افسانہ بنا لینا
چاہا تو گھٹا لینا چاہا تو بڑھا لینا
ہو اوجِ مکاں جس جا معیار بلندی کا
ہم خاک نشینوں کو اُس شہر سے کیا لینا
کیوں تاکتے رہتے ہو رستے میں حسینوں کو
اس شغل میں تم اپنی آنکھیں نہ گنوا لینا
کچھ سہل نہیں ایسا، اِس دار کے موسم میں
سر تان کے چلنے کا اقرار نبھا لینا
یہ یاریاں ، یہ رشتے مضبوط بس اتنے ہیں
پرسوں کی عمارت کو اک آن میں ڈھا لینا
موجود ہیں کھونے میں گنجائشیں پانے کی
یعنی ہو زیاں جتنا اُتنا ہی مزا لینا
آفتاب اقبال شمیم