ٹیگ کے محفوظات: نبھائے

تُو بُلائے گا بھی تَو آئے گا کون

رَوِشِ دِل تری بھُلائے گا کون
تُو بُلائے گا بھی تَو آئے گا کون
ہم نے کردی اگر نمائشِ غم
تیرے کوچے میں آئے جائے گا کون
بزمِ عشّاق میں ہے سنّاٹا
اُس نے پوچھا ہے کہ نبھائے گا کون
چَپّے چَپّے پر ایک قصرِ اَنا
دیکھنا یہ ہے اِن کو ڈھائے گا کون
میری ایذا پسندیوں کو ہے فکر
تم نہ ہو گے تو پھر ستائے گا کون
رنج و غم کو عزیز ہُوں ضامنؔ
ورنہ یوں روز آئے جائے گا کون
ضامن جعفری