ٹیگ کے محفوظات: نباہ

آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا

ہر دم نہیں دماغ ہمیں تیری چاہ کا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
تو اور آئنے میں ترا عکس رُوبرُو
نظّارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا
ہے خانۂ خدا بھی وہاں بت کدے کی شکل
غلبہ ہو جس زمیں پہ کسی بادشاہ کا
گو شرع و دین سب کے لیے ایک ہیں مگر
ہر شخص کا الگ ہے تصور گناہ کا
اِک گوشۂ بِساط سے پورس نے دی صدا
میں ہو گیا شکار خود اپنی سپاہ کا
باصرؔ توعہد شِکنی کا موقع نہ دے اُسے
ویسے بھی کم ہے اُس کا ارادہ نباہ کا
باصر کاظمی

اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے
ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا
ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے
جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی
یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے
زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے
یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے
نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے
کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے
بڑھائیں مکر سے کیا ربط، جی جلانے کو
یہ ہم کہ جن کا یقیں ہی فقط نباہ میں ہے
نہ اور کچھ بھی سہی نام ہے ہمارے ہی
جلال جتنا بھی ماجدؔ مزاجِ شاہ میں ہے
ماجد صدیقی

ثبوت ورنہ سزا کو نہ کچھ گناہ میں تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
کھنچا تھا ہم سے وہی جس کی بارگاہ میں تھے
ثبوت ورنہ سزا کو نہ کچھ گناہ میں تھے
جہاں جہاں سے ملے رنج جس قدر بھی ہمیں
وفا کی راہ میں وہ سب کے سب نگاہ میں تھے
تھے سر بلند جو بد نیتی کی زد میں تھے
جو چاہکَن تھے گرفتار خود ہی چاہ میں تھے
قدم ہی ایک نہ تھے نوکِ تیغ پر اپنے
نجانے اور بھی کیا مرحلے نباہ میں تھے
نہ دسترس میں ہُوا حسن جب تلک اُس کا
عجیب وسوسے جذبات کی سپاہ میں تھے
بدن تھا اُس کا کہ اِک سلطنت بہم تھی ہمیں
مزے تھے اور ہی جو اُس جلال و جاہ میں تھے
گلہ ہے برق سے ماجدؔ نہ آشیاں سے ہمیں
شجر نحیف تھا خود جس کی ہم پناہ میں تھے
ماجد صدیقی

جو قید کر کے مجھے خود مری پناہ میں ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 89
کوئی بتائے کہ وہ کیسے اشتباہ میں ہے
جو قید کر کے مجھے خود مری پناہ میں ہے
مقابلہ ہے مرا دوپہر کی حدت سے
بس ایک شام کا منظر مری سپاہ میں ہے
تری تمام ریا کاریوں سے واقف ہوں
یقین کر کہ بڑا لطف اس نباہ میں ہے
مرے سلوک میں شامل نہیں ہے بے خبری
ہر ایک شخص کا منصب مری نگاہ میں ہے
وہ سادہ دل ہے اُسے کیا خبر زمانے کی
خبر جو ہو بھی تو کیا حرج انتباہ میں ہے
ضمیر سے تو ابھی تک ہے خاکداں روشن
یہی چراغ مرے خیمۂ سیاہ میں ہے
میں معترف ہوں روایت کی پاسداری کا
کجی تو حسبِ ضرورت مری کلاہ میں ہے
سپردگی مری فطرت کے ہے خلاف مگر
یہ انکسار ترے غم کی بارگاہ میں ہے
ترے لیے بھی کوئی فیصلہ میں کر لوں گا
ابھی تو شوق تمنا کی سیرگاہ میں ہے
عرفان ستار

اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 18
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا
حریمِ دل کو جلانے لگا تھا ایک خیال
سو گُل اُسے بھی بیک سرد آہ میں نے کیا
وہی یقین رہا ہے جوازِ ہم سفری
جو گاہ اُس نے کیا اور گاہ میں نے کیا
بس ایک دل ہی تو ہے واقفِ رموزِ حیات
سو شہرِ جاں کا اِسے سربراہ میں نے کیا
ہر ایک رنج اُسی باب میں کیا ہے رقم
ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا
یہ راہِ عشق بہت سہل ہو گئ جب سے
حصارِ ذات کو پیوندِ راہ میں نے کیا
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہُوا، نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
خرد نے دل سے کہا، تُو جنوں صفت ہی سہی
نہ پوچھ اُس کی کہ جس کو تباہ میں نے کیا
عرفان ستار

یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 17
اگر ہے شرط بچھڑنا تو رسم و راہ بھی کیا
یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا
نہ ہو جو ذوقِ تماشا یہاں تو کچھ بھی نہیں
نظر کی بزم بھی کیا دل کی خانقاہ بھی کیا
بہت سکون ہے بیداریوں کے نرغے میں
تو مجھ کو چھوڑ گئی خواب کی سپاہ بھی کیا
سب اپنے اپنے طریقے ہیں خود نمائی کے
قبائے عجز بھی کیا فخر کی کلاہ بھی کیا
یہ راہِ شوق ہے اس پر قدم یقین سے رکھ
گماں کے باب میں اس درجہ اشتباہ بھی کیا
نہیں ہے کوئی بھی صورت سپردگی کے سوا
ہوس کی قید بھی کیا عشق کی پناہ بھی کیا
مجھے تمہاری تمہیں میری ہم نشینی کی
بس ایک طرح کی عادت سی ہے، نباہ بھی کیا
کوئی ٹھہر کے نہ دیکھے میں وہ تماشا ہوں
بس اک نگاہ رُکی تھی، سو وہ نگاہ بھی کیا
عرفان ستار

لب سے کم ہی نباہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 162
دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے
گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے
ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے
اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے
جون ایلیا

رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ

دیوان ششم غزل 1819
لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ
رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ
ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک
دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ
کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ
جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ
اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ
اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ
جان و دل دونوں کرگئے تھے غش
دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ
اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ
سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا
کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ
کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم
رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ
منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما
جھائیں ہوتی ہے روے ماہ کے بیچ
میر بیمار ہے کہ فرق نہیں
متصل اس کے آہ آہ کے بیچ
میر تقی میر

ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر

دیوان پنجم غزل 1619
خندہ بجاے گریہ و اندوہ و آہ کر
ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر
کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج کو شوخ
آنکھوں میں جان آئی ہے ایدھر نگاہ کر
رحمت اگر یقینی ہے تو کیا ہے زہد شیخ
اے بیوقوف جاے عبادت گناہ کر
چھوڑ اب طریق جور کو اے بے وفا سمجھ
نبھتی نہیں یہ چال کسو دل میں راہ کر
چسپیدگی داغ سے مت منھ کو اپنے موڑ
اے زخم کہنہ دل سے ہمارے نباہ کر
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے طپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خوامخواہ کر
اس وقت ہے دعا و اجابت کا وصل میر
یک نعرہ تو بھی پیش کش صبح گاہ کر
میر تقی میر

یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی

دیوان سوم غزل 1291
ٹھوکر لگاکے چلنا اس رشک ماہ کو بھی
یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی
اس شاہ حسن کی کچھ مژگاں پھری ہوئی ہیں
غمزے نے ورغلایا شاید سپاہ کو بھی
کی عمر صرف ساری پر گم ہے مطلب اپنا
منزل نہ پہنچے ہم تو طے کرکے راہ کو بھی
سر پھوڑنا ہمارا اس لڑکے پر نہ دیکھو
ٹک دیکھو اس شکست طرف کلاہ کو بھی
کرتی نہیں خلش ہی مژگان یار دل میں
کاوش رہی ہے جی سے اس کی نگاہ کو بھی
خوں ریزی کے تو لاگو ہوتے نہیں یکایک
پہلے تو پوچھتے ہیں ظالم گناہ کو بھی
جوں خاک سے ہے یکساں میرا نہال قامت
پامال یوں نہ ہوتے دیکھا گیاہ کو بھی
ہر لحظہ پھیر لینا آنکھوں کا ہم سے کیا ہے
منظور رکھیے کچھ تو بارے نباہ کو بھی
خواہش بہت جو ہو تو کاہش ہے جان و دل کی
کچھ کم کر ان دنوں میں اے میر چاہ کو بھی
میر تقی میر

چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ

دیوان دوم غزل 941
لطف کیا ہر کسو کی چاہ کے ساتھ
چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ
وقت کڑھنے کے ہاتھ دل پر رکھ
جان جاتی رہے نہ آہ کے ساتھ
عشق میں ترک سر کیے ہی بنے
مشورت تو بھی کر کلاہ کے ساتھ
ہو اگرچند آسماں پہ ولے
نسبت اس مہ کو کیا ہے ماہ کے ساتھ
سفری وہ جو مہ ہوا تا دیر
چشم اپنی تھی گرد راہ کے ساتھ
جاذبہ تو ان آنکھوں کا دیکھا
جی کھنچے جاتے ہیں نگاہ کے ساتھ
میر سے تم برے ہی رہتے ہو
کیا شرارت ہے خیرخواہ کے ساتھ
میر تقی میر

سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

دیوان دوم غزل 936
یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز
دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ
دین میں اس کافر بے رحم کے
اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ
پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی
دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ
مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر
دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ
لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں
پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ
روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف
ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ
ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے
آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ
اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں
آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ
دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے
دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ
شیخ تونے خوب سمجھا میر کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر

تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں

دیوان اول غزل 295
یہ ترک ہوکے خشن کج اگر کلاہ کریں
تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
تمھیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کا
ہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ
سیاہ کردیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیف
ہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
ہواے میکدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلم
نماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کا
گذار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو تو
جو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہم
جو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میر
ادھر کو یار تامل سے گر نگاہ کریں
میر تقی میر