ٹیگ کے محفوظات: ناکارہ

اور ہر پارہ اس کا آوارہ

دیوان ششم غزل 1873
دل ہے میری بغل میں صد پارہ
اور ہر پارہ اس کا آوارہ
عرق شرم رو سے دلبر کے
رفتہ ثابت گذشتہ سیارہ
خواری عشق اپنی عزت ہے
کی ہے ہموار ہم نے ہموارہ
کام اس سے پکڑ کمر نہ لیا
ہیچ کارہ بھی ہے یہ ناکارہ
ٹوٹتیں پھوٹتیں نہ کاش آنکھیں
کرتے ان رخنوں ہی سے نظارہ
گو مسیحا مزاج آوے طبیب
عشق میں مرگ بن نہیں چارہ
کیا بنے اس سے میر میں مسکین
وہ جفاپیشہ و ستم کارہ
میر تقی میر

ہر پارہ اس کا پاتے ہیں آوارہ دردمند

دیوان پنجم غزل 1603
رکھتا ہے دل کنار میں صدپارہ دردمند
ہر پارہ اس کا پاتے ہیں آوارہ دردمند
تسکین اپنے دل کی جو پاتا نہیں کہیں
جز صبر اور کیا کرے بے چارہ دردمند
اسلامی کفری کوئی ہو ہے شرط درد عشق
دونوں طریق میں نہیں ناکارہ دردمند
قابل ہوئی ہیں سیر کے چشمان خوں فشاں
دیکھیں ہیں آنکھوں لوہو کا فوارہ دردمند
کیا کام اس کو یاں کے نشیب و فراز سے
رکھتا ہے پاؤں دیکھ کے ہموارہ دردمند
اس کارواں سراے کے ہیں لوگ رفتنی
حسرت سے ان کا کرتے ہیں نظارہ دردمند
سو بار حوصلے سے اگر رنج کش ہو میر
پھر فرط غم سے مر رہے یک بارہ دردمند
میر تقی میر

اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے

دیوان اول غزل 521
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے
باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے
ہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے
جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے
ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے
راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر
روے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے
کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں
چشم کو میری آکر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا
آئی نسیم صبح جو ایدھر پھیلا عنبر سارا ہے
کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا
مدت گذری دیکھتے ہم کو میر بھی اک ناکارہ ہے
میر تقی میر