ٹیگ کے محفوظات: نان

میں پتھر کے پان بنانے والا تھا

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا
میں پتھر کے پان بنانے والا تھا
خوابوں کی تاویل سمجھ سے باہر تھی
جب میں پاکستان بنانے والا تھا
میری موت نے رستہ روکا ورنہ میں
لیّہ کو یونان بنانے والا تھا
حق باہو، حق باہو کہہ کر ایک فقیر
باہو کو سلطان بنانے والا تھا
مجھ ایسا بہلول کہاں سے لاؤ گے
نار سے جو ناران بنانے والا تھا
شہزادی نے جس کی خاطر زہر پیا
اک دیہاتی، نان بنانے والا تھا
آپ نے میرا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو
میں خود کو شیطان بنانے والا تھا
دروازوں کی شاکھ بچانے کی خاطر
دیواروں کے کان بنانے والا تھا
آپ کی اک اک بات غزل میں ڈھال کے میں
آن کی آن میں تان بنانے والا تھا
افتخار فلک

رکھے نہ تم نے کان ٹک اس داستان پر

دیوان دوم غزل 805
آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر
رکھے نہ تم نے کان ٹک اس داستان پر
کچھ ہورہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر
یہ دلبری کے فن و فریب اتنی عمر میں
جھنجھلاہٹ اب تو آوے ہے اس کے سیان پر
محتاج کر خدا نہ نکالے کہ جوں ہلال
تشہیر کون شہر میں ہو پارہ نان پر
دیکھا نہ ہم نے چھوٹ میں یاقوت کی کبھو
تھا جو سماں لبوں کے ترے رنگ پان پر
کیا رہروان راہ محبت ہیں طرفہ لوگ
اغماض کرتے جاتے ہیں جی کے زیان پر
پہنچا نہ اس کی داد کو مجلس میں کوئی رات
مارا بہت پتنگ نے سر شمع دان پر
یہ چشم شوق طرفہ جگہ ہے دکھائو کی
ٹھہرو بقدر یک مژہ تم اس مکان پر
بزاز کے کو دیکھ کے خرقے بہت پھٹے
بیٹھا وہ اس قماش سے آکر دکان پر
موزوں کرو کچھ اور بھی شاید کہ میر جی
رہ جائے کوئی بات کسو کی زبان پر
میر تقی میر

ہرناں دے لئی آؤندیاں نئیں ہُن رُتّاں چُنگیاں چان دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 21
پتناں اُتّے میل دیاں جنگلاں دا سوہجھ ودھان دیاں
ہرناں دے لئی آؤندیاں نئیں ہُن رُتّاں چُنگیاں چان دیاں
دل دے اندر دِبکیاں دِسّن قہر دی محنت مگروں وی
سدھراں چُنجیں چوگا لے کے آہلنیاں وَل جان دیاں
انت نوں کاگت پُرزے بن کے بالاں ہتھوں کُھسیاں نیں
چاہواں اُچ اڈاریاں لا کے واواں وچ لہران دیاں
پنکھ پکھیرو آں دے وی پَر، پتّراں دے وانگوں جھَڑ گئے نیں
موراں نوں وی یاد نہ رہیاں جاچاں پَیلاں پان دیاں
ساڈے تن تے حالیں خورے کیہہ کیہہ بھاناں پان گیاں
سُکھ توں کھُنجیاں ایہہ راتاں ایہہ کھریاں منجیاں وان دیاں
جد وی شیشے اندر تکیٔے دِسّن وانگ سیاڑاں دے
مُکھ تے نگّھیاں نوہندراں لگیاں ماجدُ جان پچھان دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)