ٹیگ کے محفوظات: نام

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور
جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ
تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام
ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی
کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ
باصر کاظمی

اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ
اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ
چاند ہے اور آسمان ہے صاف
رہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ
اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین
اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ
شعر کیا شاعری کے بارے میں
سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ
کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ
اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ
وہ ملے بھی تو بس یہ پوچھیں گے
کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ
صحبتِ اہلِ ذوق ہے باصِرؔ
اب سناؤ کلام آٹھ سے پانچ
باصر کاظمی

وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے

جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے
وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے
یہ بھی کٹ جائے گی جو تھوڑی بہت باقی ہے عمر
ہم یہی کرتے رہیں گے کام اپنے عام سے
اُس درِ انصاف کے درباں بھی ہیں منصف بہت
ہم جونہی فریاد سے باز آئے وہ دشنام سے
عاشقی میں لُطف تو سارا تجسس کی ہے دین
کر دیا آغاز میں کیوں آشنا انجام سے
خاک سے بنتی ہے جیسے خِشت ہم کچھ اِس طرح
دیکھ کیا سونا بناتے ہیں خیالِ خام سے
اِس طرح مل جائے شاید باریابی کا شرف
مشورہ ہے اب کے عرضی بھیج فرضی نام سے
یا تو وہ تصویر ہے پیشِ نظر یا کچھ نہیں
ہاتھ دھو دیدوں سے باصرؔ یہ گئے اب کام سے
باصر کاظمی

لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت

اُس کے لیے کچھ بھی کریں انجام شکایت
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
جو کچھ اُسے درکار ہے وہ سب ہے میسّر
کس بات کی کرتا ہے وہ گُلفام شکایت
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہِ دام شکایت
ہم نے ہی نہ خود کو کیا تیرے لیے تیار
تجھ سے نہیں کچھ گردشِ ایّام شکایت
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے تِرا نام شکایت
موقع ہی نہ پایا کبھی تنہائی میں ورنہ
کرتے نہ کبھی تجھ سے سرِ عام شکایت
ہم فرش نشیں خوش ہیں اِسی بات پہ باصرِؔ
پہنچی تو کسی طور لبِ بام شکایت
باصر کاظمی

اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام

کام سے بڑھ کر تھا جن کو جاہ و اکرام سے کام
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
جن کا کام بنانا چاہا اُن سے بگڑ گئی
اسی لیے اب ہم رکھتے ہیں اپنے کام سے کام
کوئی نہ کوئی نئی مصیبت روز کھڑی کرتے ہو
ایک بھی دن کرنے نہ دیا ہم کو آرام سے کام
ابھی تو اُس میں دیکھتے ہو دنیا بھر کے اوصاف
پوچھوں گا جس روز پڑے گا اُس گلفام سے کام
لوگ گلی کوچوں میں بچارے ہو جاتے ہیں خوار
تم تو فقط کہہ دیتے ہو بالائے بام سے کام
زاہد اس سے قبل کہ جانا ہو داتا کے پاس
ہو توفیق تو کچھ کر لو سَر گنگا رام سے کام
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصِر تیرے نام سے کام
تھوڑی دیر رُکے ہیں باصرؔ ٹھنڈی چھاؤں میں ہم
پیڑ گِنے وہ باغ ہے جس کا ہمیں تو آم سے کام
باصر کاظمی

اب آرام کریں گے

کتنا کام کریں گے
اب آرام کریں گے
تیرے دیے ہوئے دُکھ
تیرے نام کریں گے
کون بچا ہے جسے وہ
زیرِ دام کریں گے
اہلِ درد ہی آخر
خوشیاں عام کریں گے
رات بھی دن جیسی ہے
کب آرام کریں گے
نوکری چھوڑ کے باصرِؔ
اپنا کام کریں گے
باصر کاظمی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
کھینچتے ہر صبح کی مت شام کر
ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر
اے کہ تُو چاہے کرے شیروں کو زیر
اولاً چڑیاں چمن کی رام کر
جس طرف تیرا گزر ہو اے کلرک!
اُس سڑک کی کُل ٹریفک جام کر
اے دلِ نادان!سب کچھ جاں پہ سہہ
مت مچا تُو شور،مت کُہرام کر
جو بھی دے ماجِد جنم وُہ ہے عظیم
ہو سکے تو دیس کو خوش نام کر
ماجد صدیقی

کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے
کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے
لطف تو یہ ہے رہزن بھی یہ کہتا ہے
دیکھو امن نگر کا بھی ہے نام مرے
جانے کب یوسف ٹھہرایا جاؤں میں
اور زبانوں پر رقصاں ہوں دام مرے
جیسے کلمۂ خیر مخالف کے حق میں
رک جاتے ہیں بس ایسے ہی کام مرے
ہاتھ کبھی تو ہَوا کے لگے گی یہ خوشبو
بول کبھی تو ہوں گے ماجد عام مرے
ماجد صدیقی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
مجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگا
مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا
صیدِ تخریب ہوا میں، تو ہُوا عدل یہی
پُرسشِ شاہ کا اعزاز، مِرے نام لگا
دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو
مَیں کہ پختہ تھا عقیدے کا، بہت خام لگا
جب بھی دیکھا ہے تمنّاؤں کا یکجا ہونا
شام کے پیڑ پہ چڑیوں کا وُہ کہرام لگا
اُن کی جانب سے، کہ کھلیان ہیں جن کے ماجدؔ
مُجھ پہ خوشوں کے چرانے ہی کا، الزام لگا
ماجد صدیقی

پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
جگنو جگنو حرف نِکھارے روشن پھر بھی نام نہیں
پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں
پانی کی پھنکار یہی ہے تو کب خیر کناروں کی
دریا زور دکھائے گا یہ محض خیالِ خام نہیں
کس کسکے ہونٹوں پر پرکھیں روشن حرف دکھاوے کے
شہر میں ایسا کون ہے جس کی بغلوں میں اصنام نہیں
خوشوں ہی میں سحر ہے وُہ جو پر نہ مکّرر کُھلنے دے
فصلوں پر پھیلانے کو اب ہاتھ کسی کے دام نہیں
ایک سی چُپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو
کچھ ہو جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں
اَب وُہ دَور ہے برسوں جس میں اسکے سِکے چلتے ہیں
آج کے مشکیزوں میں ماجدؔپہلے جیسا چام نہیں
ماجد صدیقی

وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ڈرتا ہے کہ اُس پر کوئی الزام نہ آئے
وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے
آنگن میں شبِ تار کی چیخیں ہیں یہ کیسی
ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے
ہم خود ہی سمجھتے ہیں تصوّر میں کچھ ایسا
چندا تو کبھی چل کے سرِبام نہ آئے
اٹھا تھا جو ناؤکے الٹتے سرِ دریا
کانوں میں کہیں پھر وہی کہرام نہ آئے
فیضان بھی ایسا ہی عطا ہونا تھا ان سے
جو لوگ کہ لینے ہمیں دو گام نہ آئے
دیکھی تھی جو اس دل نے کسی موڑ پہ ماجدؔ
ایسی بھی کسی گھر میں کوئی شام نہ آئے
ماجد صدیقی

مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 142
بظاہر تو وہ ہم سے رام سا ہے
مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے
چمن پر کس نے پھر شب خون مارا
بپا شاخوں میں پھر کہرام سا ہے
بچیں کیوں کر نہ اُس عیّار سے ہم
کہ جس کا دیکھنا بھی دام سا ہے
ہماری برتری یہ ہے کہ ہم پر
کسی کی چاہ کا الزام سا ہے
ہمیں کیا یاد رکھیں گے وہ جن کو
ہمارا نام بھی دشنام سا ہے
نکل کر حلقۂ دامِ ہوس سے
زیاں ہے گو مگر آرام سا ہے
ماجد صدیقی

دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے در و بام سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کوئی تیر چھوٹے کمان سے کوئی تیغ نکلے نیام سے
دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے در و بام سے
بکمال شوخی و شر جسے مرے واسطے تھا بُنا گیا
میں نکل کے پھر مرے قاتلو! ہُوں کھڑا ہُوا اُسی دام سے
مرے آشناؤں کو دیکھئے ذرا چھیڑ کر مرے بعد بھی
پس و پیش میرے، دلوں میں ہیں بڑے وسوسے مرے نام سے
ہے رقم بہ فتح و ظفر ازل سے ورق ورق مرے دوش کا
نہ اُتار پاؤ گے یہ نشہ جسے نسبتیں ہیں دوام سے
ہے عزیز اپنی متاعِ جاں تو نہ ٹھہرئیے مرے سامنے
کہ ہوا کے رخش کو روکنے پہ تُلے ہیں آپ لگام سے
ماجد صدیقی

حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
تو میسّر ہو کسی شب تو یہ اقدام کروں
حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں
حرفِ روشن، تری اُمیدِ ملاقات ایسا
میں حمائل بہ گلُو کیوں نہ سرِ شام کروں
پر سلامت ہیں تو زخموں کو لئے ہر جانب
قصّۂ ضربتِ صیّاد بھی اب عام کروں
ساعتِ نحس جو غالب مرے حالات پہ ہے
ایسی آفت کو اکیلے میں کہاں رام کروں
قائلِ صنعتِ آذر ہوں ہنرمند ہوں میں
میں جو کرتا ہوں تو یوں مدحتِ اصنام کروں
مجھ کو درپیش مسافت ہے رُتوں کی ماجدؔ
سایۂ گل میں جو پہنچوں تو اب آرام کروں
ماجد صدیقی

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 128
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے
نو گرفتار وفا، سعی رہائی ہے عبث
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
خوش ہوا اے دل کی محبت تو نبھا دی تو نے
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے
اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے
سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے
کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فراز
غیر معروف سے، گمنام سے، پہلے پہلے
احمد فراز

ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 28
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں‌نے بھی جام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمد فراز

عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 136
مے کدے میں جو کوئی جام بدل جاتا ہے
عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے
شامِ فرقت وہ قیامت ہے کہ اللہ بچائے
صبح کو آدمی کا نام بدل جاتا ہے
ہم اسے پہلی محبت کی نظر کہتے ہیں
جس کے آغاز کا انجام بدل جاتا ہے
نامہ بر ان کی زباں کے تو یہ الفاظ نہیں
راستے میں کہیں پیغام بدل جاتا ہے
خواب میں رخ پہ آ جاتے ہیں ان کے گیسو
انتظامِ سحر و شام بدل جاتا ہے
تم جواں ہے کے وہی غنچہ دہن ہو یہ کیا
جب کلی کھلتی ہے تو نام بدل جاتا ہے
اے قمر ہجر کی شب کاٹ تو لیتا ہوں مگر
رنگ چہرے کا سرِ شام بدل جاتا ہے
قمر جلالوی

میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 127
یہ جو چَھلکے ہیں، نہیں قطرے مئے گلفام کے
میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے
کس سے شکوہ کر رہے ہیں آ دامن تھام کے
بندہ پرور سینکڑون ہوتے ہیں اک اک نام کے
ہیں ہمارے قتل میں بدنام کتنے نام کے
جو کہ قاتل ہے وہ بیٹھا ہے ہے کلیجہ تھام کے
یہ سمجھ لو رکھنی بات مجھے صیاد کی
ورنہ میں نے سینکڑوں توڑے ہیں حلقے دام کے
غفلت خوابِ جوانی عہدِ پیری میں کیا
صبح کو اٹھ بیٹھتے ہیں سونے والے شام کے
رہبروں کی کشمکش میں ہے ہمارا قافلہ
منزلوں سے بڑھ گئے ہیں فاصلے دو گام کے
دیدہ میگوں نہ دکھلا روئے روشن کھول کر
صبح کو پیتے نہیں ہیں پینے والے شام کے
مرگِ عاشق پر تعجب اس تعجب کے نثار
مرتکب جیسے نہیں سرکار اس الزام کے
اے قمر بزمِ حسیناں کی وہ ختمِ شب نہ پوچھ
صبح کو چھپ جائیں جیسے چاند تارے شام کے
قمر جلالوی

اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 36
اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا
اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا
سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا
شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا
طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا
سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر
اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا
کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی
چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام آ ہی گیا
رازِ الفت مرنے والے نے چھپایا تو بہت
دم نکلتے وقت لب پر ان کا نام آ ہی گیا
کر دیا مشہور پردے میں تجھے زحمت نہ دی
آج کا ہونا ہمارا تیرے کام آ ہی گیا
جب اٹھا ساقی تو واعظ کی نہ کچھ بھی چل سکی
میری قسمت کی طرح گردش میں جام آ ہی گیا
حسن کو بھی عشق کی ضد رکھنی پڑتی ہے کبھی
طور پر موسیٰ سے ملنے کا پیام آ ہی گیا
دیر تک بابِ حرم پر رک کے اک مجبورِ عشق
سوئے بت خانہ خدا کا لے کے نام آ ہی گیا
رات بھر مانگی دعا ان کے نہ جانے کی قمر
صبح کا تارہ مگر لے کر پیام آ ہی گیا
قمر جلالوی

ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 19
تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا
ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا
صیاد کا دل اس سے پگھلنا متعذر
جو نالہ کہ آتش فگنِ دام نہ ہو گا
جس سے ہے مجھے ربط وہ ہے کون، کہاں ہے
الزام کے دینے سے تو الزام نہ ہو گا
بے داد وہ اور اس پہ وفا یہ کوئی مجھ سا
مجبور ہوا ہے، دلِ خود کام نہ ہو گا
وہ غیر کے گھر نغمہ سرا ہوں گے مگر کب
جب ہم سے کوئی نالہ سرانجام نہ ہو گا
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
قاصد کو کیا قتل، کبوتر کو کیا ذبح
لے جائے مرا اب کوئی پیغام، نہ ہو گا
جب پردہ اٹھا تب ہے عدو دوست کہاں تک
آزارِ عدو سے مجھے آرام نہ ہو گا
یاں جیتے ہیں امیدِ شبِ وصل پر اور واں
ہر صبح توقع ہے کہ تا شام نہ ہو گا
قاصد ہے عبث منتظرِ وقت، کہاں وقت
کس وقت انہیں شغلِ مے و جام نہ ہو گا
دشمن پسِ دشنام بھی ہے طالبِ بوسہ
محوِ اثرِ لذتِ دشنام نہ ہو گا
رخصت اے نالہ کہ یاں ٹھہر چکی ہے
نالہ نہیں جو آفتِ اجرام، نہ ہو گا
برق آئینۂ فرصتِ گلزار ہے اس پر
آئینہ نہ دیکھے کوئی گل فام، نہ ہو گا
اے اہلِ نظر ذرے میں پوشیدہ ہے خورشید
ایضاح سے حاصل بجز ابہام نہ ہو گا
اس ناز و تغافل میں ہے قاصد کی خرابی
بے چارہ کبھی لائقِ انعام نہ ہو گا
اس بزم کے چلنے میں ہو تم کیوں متردد
کیا شیفتہ کچھ آپ کا اکرام نہ ہو گا
مصطفٰی خان شیفتہ

پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 7
بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا
عمر کٹتی ہے تصور میں رخ و کاکل کے
رات دن اور ہے، اے گردشِ ایام اپنا
واں یہ قدغن کہ نہ آوازِ فغاں بھی پہنچے
یاں یہ شورش کہ گزارا ہو لبِ بام اپنا
ان سے نازک کو کہاں گرمیِ صحبت کی تاب
بس کلیجا نہ پکا اے طمعِ خام اپنا
تپشِ دل کے سبب سے ہے مجھے خواہشِ مرگ
کون ہے جس کو نہ منظور ہو آرام اپنا
بادہ نوشی سے ہماری، جو لہو خشک ہوا
خونِ اغیار سے لبریز ہے کیا جام اپنا
لطف سمجھوں تو بجا، جور بھی سمجھوں تو درست
تم نے بھیجا ہے مرے پاس جو ہم نام اپنا
ذکرِ عشاق سے آتی ہے جو غیرت اس کو
آپ عاشق ہے مگر وہ بتِ خود کام اپنا
تاب بوسے کی کسے شیفتہ وہ دیں بھی اگر
کر چکی کام یہاں لذتِ دشنام اپنا
مصطفٰی خان شیفتہ

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 20
تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے
تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بےدرد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمھاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو، وہ تذکرۂ نا تمام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ، کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی

محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 7
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا
جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا
ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمد رسول تیرا مصحف کلام تیرا
ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا
محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا
یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا
کونین میں‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا
داغ دہلوی

یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 57
خموشی بول اٹھے ، ہر نظر پیغام ہو جائے
یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے
ستارے مشعلیں لے کر مجھ بھی ڈھونڈنے نکلیں
میں رستہ بھول جاؤں، جنگلوں میں شام ہو جائے
میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے
مثال ایسی ہے اس دورِ خرد کے ہوش مندوں کی
نہ ہو دامن میں ذرّہ اور صحرا نام ہو جائے
شکیبؔ اپنے تعارف کے لئے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
شکیب جلالی

ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 230
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
دھوئے دھبّے جامۂ احرام کے
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبر
دیکھیے کب دن پھریں حمّام کے
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 88
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے

دیوان ششم غزل 1914
سب کام سونپ اس کو جو کچھ کام بھی چلے
جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے
گل بکھرے لال میرے قفس پر خزاں کی باؤ
شاید کہ اب بہار کے ایام بھی چلے
خط نکلے پر بھی یار نہ لکھتا تھا کوئی حرف
سو اس کو اب تو لوگوں کے پیغام بھی چلے
سایہ سی اس کے پیچھے لگی پھرتی ہے پری
وہ کیا جو آگے یار کے دوگام بھی چلے
پھر صعوہ کے خرام کی بے لطفی دیکھیو
جب راہ دو قدم وہ گل اندام بھی چلے
اب وہ نہیں کہ تھامے تھمے اضطرار ہے
اک عمر ہم تو ہاتھ سے دل تھام بھی چلے
یہ راہ دور عشق نہیں ہوتی میر طے
ہم صبح بھی چلے گئے ہیں شام بھی چلے
میر تقی میر

ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا

دیوان چہارم غزل 1344
یاری کیے کسو کا کاہے کو کام نکلا
ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا
ہنگامے سے جہاں میں ہم نے جنوں کیا ہے
ہم جس طرف سے نکلے ساتھ ازدحام نکلا
پامالی کے خطر سے نکلا نہ کبک اودھر
جیدھر سے ناز کرتا وہ خوش خرام نکلا
جنگ زمانہ میں تو مبحث ہے عشق ہی کا
بے جا ہوا دل اپنا جب وہ مقام نکلا
جانا تھا تجھ کو ہم نے تو پختہ مغز ہو گا
دیکھا تو میر تیرا سودا بھی خام نکلا
میر تقی میر

یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے

دیوان سوم غزل 1294
دشمنوں کے روبرو دشنام ہے
یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے
محو زلف یار ہے عالم تمام
حسن کا بھی شہرہ جوش شام ہے
عشق کی ہے راہ کیا مشکل گذر
سر کا جانا جس میں ہر اک گام ہے
گر کہا ناکام ملنے کو کبھی
تو یہ کہتا ہے کہ مجھ کو کام ہے
روز و شب پھرتا ہوں اس کوچے کے گرد
کیا کہوں کیا گردش ایام ہے
چین دن کو ہے نہ شب کو خواب ٹک
اس کی دوری میں کسے آرام ہے
بزم میں پوچھا تو یوں انجان ہو
میر ان لوگوں میں کس کا نام ہے
میر تقی میر

ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا

دیوان سوم غزل 1099
سطح جو ہاتھوں میں تھا اس کے رخ گلفام کا
ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا
کچھ نہیں عنقا صفت پر شہرئہ آفاق ہوں
سیر کے قابل ہے ہونا پہن میرے نام کا
ہجر کی راتیں بڑی چھوٹی جو ٹک ہوتیں کہیں
اس میں کچھ نقصان ہوتا تھا مگر ایام کا
روئوں یاد زلف میں اس کی تو پھر روتا رہوں
صبح تک جاتا نہیں ہے مینھ آیا شام کا
تاب کس کو اپنا کچا سوت کچھ الجھا ہے میر
گم ہے سررشتہ ہمارے خواب اور آرام کا
میر تقی میر

کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا

دیوان سوم غزل 1060
ان دلبروں سے رابطہ کرنا ہے کام کیا
کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا
حیرت ہے کھولیں چشم تماشا کہاں کہاں
حسن و جمال ویسا ہے اس کا خرام کیا
کی اک نگاہ گرم جہاں ان سے مل گئے
عاشق کو دلبروں سے سلام و پیام کیا
شکر خدا کہ سر نہ فرو لائے ہم کہیں
کیا جانیں سجدہ کہتے ہیں کس کو سلام کیا
اس کنج لب پہ چپکے ہوئے منھ کو رکھ کے ہم
دلچسپ اس مقام میں حرف و کلام کیا
جس جاے اس کے چہرے سے کرتے ہیں گفتگو
مرآت و ماہ و گل کا ہے اس جا مقام کیا
کہتا ہے کون بدر میں نقصان کچھ رہا
پر منھ کھلے پہ اس کے ہے ماہ تمام کیا
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اس رو ومو سے لاگ
کیا جانوں پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
تسبیح تک تو میر نے رکھا کلال کے
وقت نماز اب بھی ہوئے تھے امام کیا
میر تقی میر

کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

دیوان دوم غزل 1052
کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پرشور اس غلام سے ہے
بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے
کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا
ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے
خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو
اقتدا اولیں امام سے ہے
شعر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ
اس کی پیدائش احتلام سے ہے
سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو
کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
میر تقی میر

عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے

دیوان دوم غزل 992
کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے
عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے
ناتوانی سے اگر مجھ میں نہیں ہے جی تو کیا
عشق جو چاہے تو مردے سے بھی اپنا کام لے
پہلوے عاشق نہ بستر سے لگے تو ہے بجا
دل سی آفت ہو بغل میں جس کے کیا آرام لے
اب دل نالاں پھر اس زلف سیہ میں جاچکا
آج یہ بیمار دیکھیں کس طرح سے شام لے
شاخ گل تیری طرف جھکتی جو ہے اے مست ناز
چاہتی ہے تو بھی میرے ہاتھ سے اک جام لے
دل کی آسائش نہیں امکان زلف یار میں
یہ شکار مضطرب ہے دم نہ زیر دام لے
عزت اے پیر مغاں کچھ حاجیوں کی ہے ضرور
آئے ہیں تیرے کنے ہم جامۂ احرام لے
کیا بلا مفتی کا لونڈا سر چڑھا ہے ان دنوں
آوے ہے گویا کہ مجھ پر قاضی کا اعلام لے
ہم نشیں کہہ مت بتوں کی میر کو تسبیح ہے
کام کیا اس ذکر سے ان کو خدا کا نام لے
میر تقی میر

کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے

دیوان دوم غزل 980
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے
تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار
سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے
دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک
برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے
محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو
رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے
یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی
کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے
لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ
مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے
وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے
پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے
جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور
ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے
وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی
آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے
سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک
کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے
دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
میر تقی میر

نامے کا اس کی مہر سے اب نام بھی نہیں

دیوان دوم غزل 872
مدت ہوئی کہ بیچ میں پیغام بھی نہیں
نامے کا اس کی مہر سے اب نام بھی نہیں
ایام ہجر کریے بسر کس امید پر
ملنا انھوں کا صبح نہیں شام بھی نہیں
پروا اسے ہو کاہے کو ناکام گر مروں
اس کام جاں کو مجھ سے تو کچھ کام بھی نہیں
روویں اس اضطراب دلی کو کہاں تلک
دن رات ہم کو ایک دم آرام بھی نہیں
کیا جانوں دل کو کھینچے ہیں کیوں شعر میر کے
کچھ طرز ایسی بھی نہیں ایہام بھی نہیں
میر تقی میر

یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل

دیوان دوم غزل 850
مار بھی آسان ہے دشنام سہل
یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل
جوں نگیں میں کی جگرکاوی بہت
کیا نکلتا ہے کسو کا نام سہل
جان دی یاروں نے تب آنکھیں لگیں
کن نے پایا آہ یاں آرام سہل
مدعی ہو چشم شوخ یار کا
کیا نگاہوں میں ہوا بادام سہل
تم نے دیکھا ہو گا پکپن میر کا
ہم کو تو آیا نظر وہ خام سہل
میر تقی میر

جہاں ٹک آن بیٹھے ہم کہا آرام کریے اب

دیوان دوم غزل 776
عجب صحبت ہے کیونکر صبح اپنی شام کریے اب
جہاں ٹک آن بیٹھے ہم کہا آرام کریے اب
ہزاروں خواہش مردہ نے سر دل سے نکالا ہے
قیامت جی پہ ہے دیدار کو ٹک عام کریے اب
بلا آشوب تھا گو جان پر آغاز الفت میں
ہوا سو تو ہوا اندیشۂ انجام کریے اب
بہت کی یاصنم گوئی ہوئے مشہور کافر ہم
وظیفہ کوئی دن اپنا خدا کا نام کریے اب
زباں خامہ کے ہلتے ہی ہزاروں اشک گرتے ہیں
حقیقت اپنے دل کی آہ کیا ارقام کریے اب
کہاں تک کام ناکام اس جفا جو کے لیے مریے
اگر تلوار ہاتھ آوے تو اپنا کام کریے اب
فسانہ شاخ در شاخ اس نہال حسن کے غم کا
کہاں اے میر بے برگ و نوا اتمام کریے اب
میر تقی میر

ماہ تمام یارو کیا ناتمام نکلا

دیوان دوم غزل 725
روکش ہوا جو شب وہ بالاے بام نکلا
ماہ تمام یارو کیا ناتمام نکلا
ہو گوشہ گیر شہرت مدنظر اگر ہے
عنقا کی طرح اپنا عزلت سے نام نکلا
تھا جن کو عاشقی میں دعواے پختہ مغزی
سودا انھوں کا آخر دیکھا تو خام نکلا
نومید قیس پایا ناکام کوہکن کو
اس عشق فتنہ گر سے وہ کس کا کام نکلا
کیونکر نہ مر رہے جو بیتاب میر سا ہو
ایک آدھ دن تو گھر سے دل تھام تھام نکلا
میر تقی میر

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

دیوان اول غزل 360
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ
ننگ ہستی ہوں مری جاے بجز نام نہیں
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا
عمر گذری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط
سو تو بیتابی دل بن مجھے آرام نہیں
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے
کچھ تو ہے میر کہ اک دم تجھے آرام نہیں
میر تقی میر

گئے گذرے خضر علیہ السلام

دیوان اول غزل 281
اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
گئے گذرے خضر علیہ السلام
دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئی
سخن یاں ہوا ختم حاصل کلام
مجھے دیکھ منھ پر پریشاں کی زلف
غرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام
سر شام سے رہتی ہیں کاہشیں
ہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام
قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہی
چلے بس تو واں جا کے کریے قیام
نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اور
نہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام
جہاں میر زیر و زبر ہو گیا
خراماں ہوا تھا وہ محشر خرام
میر تقی میر

خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر

دیوان اول غزل 220
ہو آدمی اے چرخ ترک گردش ایام کر
خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر
دنیا ہے بے صرفہ نہ ہو رونے میں یا کڑھنے میں تو
نالے کو ذکر صبح کر گریے کو ورد شام کر
مست جنوں رہ روز و شب شہرہ ہو شہر ودشت میں
مجلس میں اپنی نقل خوش زنجیر کا بادام کر
جتنی ہو ذلت خلق میں اتنی ہے عزت عشق میں
ناموس سے آ درگذر بے ننگ ہوکر نام کر
مر رہ کہیں بھی میر جا سرگشتہ پھرنا تا کجا
ظالم کسو کا سن کہا کوئی گھڑی آرام کر
میر تقی میر

غرض اس شوخ نے بھی کام کیا

دیوان اول غزل 132
کام پل میں مرا تمام کیا
غرض اس شوخ نے بھی کام کیا
سرو و شمشاد خاک میں مل گئے
تونے گلشن میں کیوں خرام کیا
سعی طوف حرم نہ کی ہرگز
آستاں پر ترے مقام کیا
تیرے کوچے کے رہنے والوں نے
یہیں سے کعبے کو سلام کیا
اس کے عیارپن نے میرے تئیں
خادم و بندہ و غلام کیا
حال بد میں مرے بتنگ آکر
آپ کو سب میں نیک نام کیا
دختر رز سے کیا تھا میرے تئیں
شیخ کی ضد پہ میں حرام کیا
ہو گیا دل مرا تبرک جب
ورد یہ قطعۂ پیامؔ کیا
’’دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتل عام کیا‘‘
عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا
میر تقی میر

میرے تلخاب کو وہ جام بنا دیتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 109
عرض سنتے ہی مرا کام بنا دیتا ہے
میرے تلخاب کو وہ جام بنا دیتا ہے
خاک و افلاک میں رشتہ ہے، شعور اتنا ہی
خاص کو ہم نسبِ عام بنا دیتا ہے
چھاؤں بھر دھوپ کی مہلت میں شجر میرے لئے
ایک خس خانۂِ آرام بنا دیتا ہے
ثبت و محکم بھی تغیّر کی حد و زد میں ہے
جب بھی چاہے وہ اسے خام بنا دیتا ہے
تجربہ جیسے کوئی نسخۂِ بینائی ہو
میرے دکھ کو مرا انعام بنا دیتا ہے
جو یہاں اایا یہاں سے کبھی نکلا ہی نہیں
شہر، رستوں کا عجب دام بنا دیتا ہے
اپنی قامت بھی ضروری ہے کہ پہچانے جاؤ
یوں تو نقاد بڑا نام بنا دیتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 59
ثبت ہیں دن کی راہ میں، نیلے سائے شام کے
جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے
انہونی سی آرزع، لپکے اٹھے ہاتھ سے
جاؤں اپنے دیس کو اڑتے بادل تھام کے
ڈیوڑھیوں کے بیچ سے، جاتا ہے یہ راستہ
بند کئے جا کھول کے، دروازے ایام کے
عمروں کے ملبوس پہ کل کے سکھ کی آس میں
کاڑھیں دکھ کی دیویاں سپنے عام عوام کے
کس تربیت کار نے پیدا کیں یہ سختیاں
کند ہوئے احساس پہ دندانے دشنام کے
جب سمتوں کی رات میں، میں بے حالت ہو گیا
چھلکے اک اک چیز سے لشکارے پیغام کے
آفتاب اقبال شمیم

آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 7
بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم
آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم
لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی
تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم
یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اُڑائیے
سر پر اُنڈیلئے، یہ بچا ہے جو جامِ غم
آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں
اُس کے بجائے بھیجئے نامہ بہ نامِ غم
مفرورِ معتبر ہیں ، ملیں گے یہیں کہیں
اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم
سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا
اب تو ہی رہ گیا ہے برائے طعامِ غم
آفتاب اقبال شمیم

سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 10
جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں
سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں
وہ تیرگی ہے رہِ بُتاں میں چراغِ رُخ ہے نہ شمعِ وعدہ
کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں
بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا
ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں
قریب آ اے مہِ شبِ غم ، نظر پہ کُھلتا نہیں کچھ اس دم
کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے ، کون سے نام بجھ گئے ہیں
بہار اب آکے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشنِ رنگ و نغمہ
وہ گل سرِ شاخ جل گئے ہیں ، وہ دل تہِ دام بجھ گئے ہیں
فیض احمد فیض

کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 28
یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے قاصد
کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے
ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن
رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے
ہوسِ‌ مطرب و ساقی میں‌پریشاں اکثر
ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے
شوق والوں‌ کی حزیں‌ محفلِ شب میں اب بھی
آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے
اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی
داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے
ناتمام ۔ لاہور
فیض احمد فیض

دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوقِ فضول و الفتِ ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرفِ ملامت سے شاد ہے
اے جانِ جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لبمی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں
دستِ فلک میں گردشِ ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیض غزل ابتدا کرو
وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں
تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں
یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ
یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں
پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید
گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں
فقیہہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں
کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں
نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب زیانِ چمن
کھلے نہ پھول ، اسے انتظام کہتے ہیں
کہو تو ہم بھی چلیں فیض، اب نہیں سِردار
وہ فرقِ مرتبہء خاص و عام ، کہتے ہیں
فیض احمد فیض

وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام
وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام
دیکھیے تنکے کی ناؤ کب کنارے جا لگے
موج ہے دہشت خروش اور سیل ہے وحشت خرام
شمع کے دامن میں شعلہ، شمع کے قدموں میں راکھ
اور ہو جاتا ہے ہر منزل پہ پروانے کا نام
زیست کی صہبا کی رو تھمتی نہیں، تھمتی نہیں!
ٹوٹتے رہتے ہیں نشّے، پھوٹتے رہتے ہیں جام
مجید امجد

ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 64
ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب، ایک ایک گلی کہرام
ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام
رت بدلی کہ صدیاں لوٹ آئیں، اف یاد، کسی کی یاد
پھر سیلِ زماں میں تیر گیا اک نام، کسی کا نام
دل ہے کہ اک اجنبیِ حیراں، تم ہو کہ پرایا دیس
نظروں کی کہانی بن نہ سکیں ہونٹوں پہ رکے پیغام
روندیں تو یہ کلیاں نیشِ بلا، چومیں تو یہ شعلے پھول
یہ غم یہ کسی کی دین بھی ہے، انعام، عجب انعام
اے تیرگیوں کی گھومتی رو، کوئی تو رسیلی صبح
اے روشنیوں کی ڈولتی لو، اک شام، نشیلی شام
رہ رہ کے جیالے راہیوں کو دیتا ہے یہ کون آواز
کونین کی ہنستی منڈیروں پر، تم ہو کہ غمِ ایام
بے برگ شجر گردوں کی طرف پھیلائیں ہمکتے ہات
پھولوں سے بھری ڈھلوان پہ سوکھے پات کریں بسرام
ہم فکر میں ہیں اس عالم کا دستور ہے کیا دستور
یہ کس کو خبر اس فکر کا ہے دستورِ دو عالم نام
مجید امجد

قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 37
بھرا ہے اشک ندامت سے جام پانی کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
زیارت در خیمہ نہ تھی نصیب فرات
سو آج تک ہے سفر ناتمام پانی کا
رگ گلو نے بجھائی ہے تیغ ظلم کی پیاس
کیا ہے خون شہیداں نے کام پانی کا
علم ہوا سر نیزہ جو ایک مشکیزہ
شجر لگا سر صحرائے شام پانی کا
اگر وہ تشنگئ لازوال یاد رہے
کبھی نہ آئے زبانوں پہ نام پانی کا
اُسے تلاش نہ کر دشت کربلا میں کہ ہے
ہمارے دیدۂ تر میں قیام پانی کا
عرفان صدیقی

شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 570
رات بھر نازل ہوں فٹ پاتھوں پہ چاند الہام کے
شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے
خواب گہ میں ایک آتش دان روشن تھا مگر
سرد لمحے کانپتے تھے جنوری کی شام کے
بانس کے کمرے میں دھڑکن بج رہی تھی گیت کی
لان میں چپ برف اوڑھے پیڑ تھے بادام کے
قید ہیں کتنے برس سے جانتا کوئی نہیں
دکھ کی غاروں میں مسافر منزلِ خوشگام کے
بن گئے اپنی محبت کی وہ شریں یادگار
جو نواحِ کوچہ ء گل میں شجر تھے آم کے
اپنا کیا تھا کس لئے ہوتے خدا کے ہم نفس
اپنے تو منصور سے بھی رابطے تھے نام کے
منصور آفاق

بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 562
خراب و خستہ و ناکام کو ترے غم نے
بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے
یہ جانتا ہی نہیں ہے فراق کے آداب
لگا دی آگ درو بام کو ترے غم نے
کھلے ہوئے ہیں درختوں کے بال وحشت سے
رلا دیا ہے عجب شام کو ترے غم نے
میں آنسوئوں کے گہر ڈھونڈتا تھا پہلے بھی
بڑھایا اور مرے کام کو ترے غم نے
بنا دیا ہے جہاں بھر میں معتبر کیا کیا
مجھ ایسے شاعرِ بے نام کو ترے غم نے
بدل دیا ہے یقیں کے گمان میں منصور
فروغِ ہجر کے الزام کو ترے غم نے
منصور آفاق

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق

کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 492
چراغ ہو گیا بدنام کچھ زیادہ ہی
کہ جل رہا تھا سرِ بام کچھ زیادہ ہی
ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے
کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی
میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے
مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی
ملال گن لئے ہیں ، درد کر لئے ہیں شمار
فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی
تمام عمر کی آوارگی بجا لیکن
لگا ہے عشق کا الزام کچھ زیادہ ہی
بس ایک رات سے کیسے تھکن اترتی ہے
بدن کو چاہیے آرام کچھ زیادہ ہی
سنبھال اپنی بہکتی ہوئی زباں منصور
تُو لے رہا ہے کوئی نام کچھ زیادہ ہی
منصور آفاق

اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 475
کسی کے ساتھ چلا آیا اختتام پہ بھی
اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی
اثر پذیری کے قصے میں کتنی باتیں ہیں
کلام پہ بھی ہے موقوف ہم کلام پہ بھی
دورد آیتِ الہام پہ کروڑوں ہوں
سلامتی ہو مرے مصرعِ دوام پہ بھی
مرے وجود میں مدغم وجود کیا کرتا
وہ میرے ساتھ جھگڑتا رہا ہے نام پہ بھی
رواں ہے اشہبِ دوراں خدا کی مرضی سے
ہیں پا رکاب میں اور ہاتھ ہیں لگام پہ بھی
ہے جنگ فلسفۂ فکر کے پہاڑوں پر
تصادم ایک نئے عالمی نظام پہ بھی
بپا ہے وادئ تاریخ میں بھی آویزش
لڑائی محنت و سرمایہ کے مقام پہ بھی
وطن بھی میرے ملالوں کی داستاں منصور
اداسیوں کی حکومت خرامِ شام پہ بھی
منصور آفاق

مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 137
منصور پر خدائی کے الزام کے سبب
مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب
بس رہ گئی ہے یاد میں بجھتی سی ریل کار
میں لیٹ ہو گیا تھا کسی کام کے سبب
مہکا ہوا ہے دیر سے میری گلی کا موڑ
خوشبو پہن کے چلتی ہوئی شام کے سبب
کر لوں گا آسمانوں پہ آباد بستیاں
میں پُر یقیں ہوں زینہء ایام کے سبب
چہرے تک آ گئی تھیں شعاعوں کی ٹہنیاں
جاگا ہوں آفتابِ لبِ بام کے سبب
کتنے سفید کتنے حسین و جمیل لوگ
چھوڑ آیا ایک حسن سیہ فام کے سبب
انجامِ گفتگو ہوا پھولوں کے درمیان
آغازِ گفتگو ہوا دشنام کے سبب
بیٹھا ہوں کوہِ سرخ کے پتھر تراشتا
دریائے سندھ ! آپ کے پیغام کے سبب
صحرا نے صادقین کی تصویر اوڑھ لی
اک نظمِ گردباد کے الہام کے سبب
جس کی مجھے تلاش تھی وہ درد مل گیا
ہوں کامیاب صحبتِ ناکام کے سبب
سورج پلٹ گیا ہے ملاقات کے بغیر
زلف سیہ کے بسترِ بدنام کے سبب
پروردگارِ اول و آخر سے پانچ وقت
ملتے ہیں لوگ کمرئہ اصنام کے سبب
شب ہائے زخم زخم گزارے خوشی کے ساتھ
لندن کی ایک غم زدہ مادام کے سبب
دینا پڑے گا شیخ کو میرا حساب بھی
کافر ہوا ہوں چہرئہ اسلام کے سبب
منصور آفاق

یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 97
ناریل کے درختوں کی شاخوں میں بادام کا پیڑ تھا
یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا
قمقموں سے پرویا ہوا، روشنی سے بھگویا ہوا
برف کے ڈھیر میں سرخ سا زخمِ ناکام کا پیڑ تھا
شاعری نہر کے ساتھ چلتی ہوئی چاپ تھی خواب کی
رات نظموں کی فٹ پاتھ تھی چاند الہام کا پیڑ تھا
میں ثمر باریوں کی توقع لئے دیکھتا تھا اسے
جو کرائے کے گھر میں لگایا ابھی آم کا پیڑ تھا
ایک دہکی ہوئی آگ کے تھے شمالی پہاڑوں پہ پھول
اک دہکتے چناروں میں کشمیر کے نام کا پیڑ تھا
جس کے پتوں سے تصویر کھینچی گئی میرے کردار کی
ٹہنیوں سے کئی جھوٹ لٹکے تھے، الزام کا پیڑ تھا
اک طرف نیکیوں کا شجر تھا سفیدی پھری قبر سا
اک طرف لمس افزا گناہِ سیہ فام کا پیڑ تھا
زلزلے بھی وبائیں بھی سیلاب بھی شاخ درشاخ تھے
ساری بستی پہ پھیلا ہوا کوئی آلام کا پیڑ تھا
سب پھلوں کے مگر مختلف ذائقے ، مختلف رنگ تھے
اپنی تفہیم کے باغ میں تازہ افہام کا پیڑ تھا
جس شجر کی جوانی کومیں چھوڑ آیا بہاروں کے بیچ
گالیاں چھاؤں میں چہچہاتی تھیں دشنام کا پیڑ تھا
کوئی انبوہ تھا اہلِ اسباب کا اس کی آغوش میں
کیا ہوس کار گلزار میں درہم و دام کا پیڑ تھا
برگ و بار اس پہ آئے ہوئے تھے نئی شاعری کے بہت
ایک دریا کے مبہم کنارے پہ ابہام کا پیڑ تھا
آگ ہی آگ تھی اس کی شاخوں میں پھیلی ہوئی لمس کی
باغِ فردوس میں ایک ممنوعہ مادام کا پیڑ تھا
اک جڑوں سے لپیٹی ہوئی موت کی بیل کی چیخ تھی
زندگی ، شورِ واہی تباہی تھی ، سرسام کا پیڑ تھا
جس سے منصور گنتے پرندے پھریں اپنی تنہائیاں
حسنِ تقویم کے صحن میں ایک ایام کا پیڑ تھا
منصور آفاق

کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 24
وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا
کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا
رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اْس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا
اب سامنے سورج کے برسات نہیں ہوتی
دکھ آنکھ نہیں بھرتے غم کام نہیں دیتا
موتی میری پلکوں کے بازار میں رُلتے ہیں
کوئی بھی جواہر کے اب دام نہیں دیتا
اوراقِ گل و لالہ لکھے ہوئے لے جائے
جو صبحِ غزل جیسی اک شام نہیں دیتا
کرداروں کے چہروں پر چھریاں ہیں ابھر آئیں
پھر بھی وہ کہانی کو انجام نہیں دیتا
بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے
یہ خواب دکھاتا ہے، آرام نہیں دیتا
منصور آفاق

بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 24
کچھ کرتے ہیں جو یاں وہی انگشت نما ہیں
بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا
ناچیز ہیں وہ کام نہیں جن پہ کچھ الزام
جو کام ہیں ان کا یہی انعام ہے گویا
ہے وقت راحیل اور وہی عشرت کے ہیں ساماں
آخر ہوئی رات اور ابھی شام ہے گویا
جب دیکھئے حالیؔ کو پڑا پائیے بیکار
کرنا اسے باقی یہی اک کام ہے گویا
الطاف حسین حالی

فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 249
علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے
مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے
غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے
نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے
ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے
باقی صدیقی

جہاں نے میکدوں کے نام بدلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 213
نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
جہاں نے میکدوں کے نام بدلے
وہی گلشن، وہی گلشن کے انداز
فقط صیاد بدلے، دام بدلے
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو صبح و شام بدلے
بدلنے کو ہیں میخواروں کی نظریں
بلا سے رُخ نہ دور جام بدلے
فضائے زیست باقیؔ خاک بدلی
نہ دل بدلا نہ دل کے کام بدلے
باقی صدیقی

بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 108
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جراتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لئے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری میکشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
باقیؔ مال شوق کا آنے لگا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
باقی صدیقی

زندگی کو ہیں اور کام بہت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 75
یاد آؤ نہ صبح و شام بہت
زندگی کو ہیں اور کام بہت
ابھی آزادی حیات کہیں
ابھی پیش نظر ہیں دام بہت
ضبط غم آخری مقام نہیں
اس سے آگے بھی ہیں مقام بہت
اے محبت تجھے بھی دیکھ لیا
سنتے آتے تھے تیرا نام بہت
بند کیجے بیاض غم باقیؔ
سن چکے آپ کا کلام بہت
باقی صدیقی

چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 57
چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا
وہم تھا لوگ مرا راستہ تکتے ہوں گے
آ کے دیکھا تو کسی لب پہ مرا نام نہ تھا
اس طرح باغ سے چپ چاپ گزر آئے ہیں
جیسے پھولوں کی مہک میں کوئی پیغام نہ تھا
عمر بھر اپنی ہی گردش میں رہے ہم باقیؔ
اس جگہ دل تھا جہاں اور کوئی دام نہ تھا
باقی صدیقی

ستارے جھلملا اٹھے سر شام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 14
لیا کس نے ابھی سے صبح کا نام
ستارے جھلملا اٹھے سر شام
فسون آرزو ٹوٹے نہ ٹوٹے
ہمارے سامنے ہے دل کا انجام
چلے جائیں گے خالی ہاتھ بھی ہم۔۔
مگر آئے تھے سن کر آپ کا نام
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو بدلا دور ایام
محبت اور اطوار زمانہ
کیا اپنی وفا کو ہم نے بدنام
تمنا داغ دے جائے نہ باقیؔ
ستارا ایک ٹوٹا ہے سرشام
باقی صدیقی