ٹیگ کے محفوظات: نامراد

دل کو تھا اس سے اتحاد بہت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 48
سخن آتے ہیں اس کے یاد بہت
دل کو تھا اس سے اتحاد بہت
جب بھی چلتی ہے اس طرف سے ہوا
شور کرتے ہیں نامراد بہت
حُسن پر اس کے نکتہ چیں ہی رہے
تھا طبیعت میں اجتہاد بہت
درمیانِ ہجومِ مشّاقاں
اُس گلی میں رہے فساد بہت
اس کا روزِ سفر اور آج کی شام
درمیاں میں ہے امتداد بہت
مجھ سے اک بادیہ نشیں نے کہا
شہر والے ہیں بدنہاد بہت
زخمِ دل کو بناؤ زخمہ ءِ ساز
بستیوں سے ملے گی داد بہت
جونؔ اسلامیوں سے بحث نہ کر
تُند ہیں یہ ثمود و عاد بہت
جون ایلیا

فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے

دیوان دوم غزل 982
مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے
بلا انداز ہے اس کا قیامت ناز ہے اس کا
اٹھے فتنے ہزار اس سے ہوئے لاکھوں فساد اس سے
نزاکت جیسی ہے ویسا ہی دل بھی سخت ہے اس کا
اگرچہ شیشۂ جاں ہے پہ بہتر ہے جماد اس سے
کسے ہیں بند ان نے کیسے کس درویش سے ملیے
جو ایسے سخت عقدوں کی طلب کریے کشاد اس سے
بھلا یوں گھٹ کے مریے کب تلک دل خوں ہوا سارا
جو کوئی دادگر ہووے تو کریے جاکے داد اس سے
لگے ہی ایک دو رہتے ہیں مہلت بات کی کیسی
ہوا ہے دشمنوں کو کچھ قیامت اتحاد اس سے
پہنچ کر تہ کو ہم تو محض محرومی ہی پاتے ہیں
مراد دل کو پہنچا ہو گا کوئی نامراد اس سے
لیے ہی میان سے رہتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا
نکالا ہے کہاں کا تونے اے ظالم عناد اس سے
ادھر توبہ کرے ہے میر ادھر لگتا ہے مے پینے
کہاں تک اب تو اپنا اٹھ گیا ہے اعتماد اس سے
میر تقی میر