ٹیگ کے محفوظات: نالی

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق