ٹیگ کے محفوظات: نارسائی

خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
جہاں جس کی دُہائی دے رہا ہے
خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے
چُرا کر خضر کا جامہ ہمیں وہ
سلگتی جگ ہنسائی دے رہا ہے
پڑی زد جرم کی جس پر وہ چُپ ہے
جو مجرم ہے صفائی دے رہا ہے
بگولہ گھیر کر ہر ذِی طلب کو
ثمر تک نارسائی دے رہا ہے
وہ لاوا جو سِلے ہونٹوں کے پیچھے
دہکتا ہے سُنائی دے رہا ہے
وہ دے کر زر دریدہ عصمتوں کو
اُنہیں اُن کی کمائی دے رہا ہے
تناؤ ساس کے تیور کا ماجدؔ
دُلہن کو ’منہ دِکھائی‘ دے رہا ہے
ماجد صدیقی

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 19
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا
ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا
ملے تو ایسے،رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا
نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
پروین شاکر

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 118
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوہء نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
باوفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں جون
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
جون ایلیا

نارسائی

درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے

کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں،

مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے

یا مبتلا خود فریبی میں شاید

کہ ان کرم خردہ جڑوں سے

وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے!

میں مہمان خانے کے سالون میں

ایک صوفے میں چپ چاپ دبکا ہوا تھا،

گرانی کے باعث وہاں دختران عجم تو نہ تھیں

ہاں کوئی بیس گز پر

فقط ایک چہرہ تھا جس کے

خد وخال کی چاشنی ارمنی تھی!

زمستاں کے دن تھے،

لگاتار ہوتی رہی تھی سر شام سے برفباری

دریچے کے باہر سپیدے کے انبار سے لگ گئے تھے

مگر برف کا رقص سیمیں تھا جاری،

وہ اپنے لباس حریری میں

پاؤں میں گلھاے نسریں کے زنگولے باندھے،

بدستور ایک بے صدا، سہل انگار سی تال پر ناچتی جا رہی تھی!

مگر رات ہوتے ہی چاروں طرف بے کراں خامشی چھا گئی تھی

خیاباں کے دو رویہ سرو و صنوبر کی شاخوں پہ

یخ کے گلولے، پرندے سے بن کر لٹکنے لگے تھے،

زمیں ان کے بکھرے ہوےبال و پر سے

کفّ آلود سا ساحل بنتی چلی جا رہی تھی!

میں اک گرم خانے کے پہلو میں صوفے پہ تنہا پڑا سوچتا تھا،

بخاری میں افسردہ ہوتے ہوے رقص کو گھورتا تھا،

اجازت ہے میں بھی ذرا سینک لوں ہاتھ اپنے

(زباں فارسی تھی تکلم کی شیرینیاں اصفہانی! )

تمہیں شوق شطرنج سے ہے ؟

(اٹھا لایا میں اپنے کمرے سے شطرنج جا کر )

بچو فیل____

اسپ سیاہ کا توخانہ نہیں یہِ___

بچاؤ وزیر____

اور لو یہ پیادے کی شہ لوِ_

اور اک اور شہ!

اور یہ آخری مات !

بس ناز تھا کیا اسی شاطری پر ؟

میں اچھا کھلاڑی نہیں ہوں

مگر آن بھر کی خجالت سے میں ہنس دیا تھا !

ابھی اور کھیلو گے ؟

لو اور بازیِ__

یہ اک اور بازی ۔۔۔

یونہی کھیلتے کھیلتے صبح ہونے لگی تھی !

موذن کی آواز اس شہر میں زیر لب ہو چکی ہے

سحر پھر بھی ہونے لگی تھی !!

وہ دروازے جو سال ہاسال سے بند تھے

آج وا ہو گئے تھے !

میں کرتا رہا ہند و ایراں کی باتیں :

اور اب عہد حاضر کے ضحاک سے۔۔۔

رستگاری کا رستہ یہی ہے

کہ ہم ایک ہو جایں ،ہم ایشیائی !

وہ زنجیر ، جس کے سرے سے بندھے تھے کبھی ہم

وہ اب سست پڑنے لگی ہے ،

تو آو کہ ہے وقت کا یہ تقاضا

کہ ہم ایک ہو جایں____ہم ایشیائی !

میں روسی حکایات کے ہرزہ گو نو جوانوں کے مانند یہ بے محل وعظ کرتا رہا تھا !

اسے صبحدم اس کی منزل پہ جب چھوڑ کر آ رہا تھا ،

وہ کہنے لگی :

اب سفینے پہ کوئی بھروسہ کرے کیا

سفینہ ہی جب ہو پر و بال طوفاں؟

یہاں بھی وہاں بھی وہی آسماں ہے ،

مگر اس زمیں سے خدایا رہائی

خدایا دہائی!!

ٹھکاناہے لوطی گری،رہزنی کا !

یہاں زندگی کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں ،

فقط شاخساریں

ابھی اپنی افتاد کے حشر سے ہیں گریزاں !

یہ بچپن میں ،میں نے پڑھی تھی کہانی

کہا ساحرہ نے :کہ اےشہزادے

رہ جستجو میں

اگر اس لق و دق بیاباں میں

دیکھا پلٹ کر،

تو پتھر کا بت بن کے رہ جاے گا تو!

جہاں سب نگاہیں ہو ماضی کی جانب

وہاں راہرو ہیں فقط عازم نارسائی!

تو دن بھر یہی سوچ تھی

کیا ہمارے نصیبے میں افتاد ہے

کوئی رفعت نہیں ؟

کوئی منزل نہیں ہے ؟

ن م راشد

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر