ٹیگ کے محفوظات: نادانی

چاند سی شکل تری مُوجبِ طغیانی ہے

بحرِ دل میں یہ جو کیفیتِ ہیجانی ہے
چاند سی شکل تری مُوجبِ طغیانی ہے
یہ شب و روز تو ہر روز بدلتے ہیں رنگ
اور کچھ بات ہے جو باعثِ حیرانی ہے
اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماں
کس قدر دیر میں صورت تِری پہچانی ہے
در و دیوار سے قائم تھا بھرم غربت کا
آج بے پردہ مری بے سروسامانی ہے
بے خودی پر ہی کھُلا کرتے ہیں اسرارِ جہاں
ہوش کہتے ہو جسے تم وہی نادانی ہے
میں جو مغموم ہُوا دل یہ پکارا باصرِؔ
میرے ہوتے تجھے کاہے کی پریشانی ہے
باصر کاظمی

ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے

دیوان سوم غزل 1267
سب شرم جبین یار سے پانی ہے
ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے
سمجھے نہ کہ بازیچۂ اطفال ہوئے
لڑکوں سے ملاقات ہی نادانی ہے
جوں آئینہ سامنے کھڑا ہوں یعنی
خوبی سے ترے چہرے کی حیرانی ہے
خط لکھتے جو خوں فشاں تھے ہم ان نے کہا
کاغذ جو لکھے ہے اب سو افشانی ہے
دوزخ میں ہوں جلتی جو رہے ہے چھاتی
دل سوختگی عذاب روحانی ہے
منت کی بہت تو ان نے دو حرف کہے
سو برسوں میں اک بات مری مانی ہے
کل سیل سا جوشاں جو ادھر آیا میر
سب بولے کہ یہ فقیر سیلانی ہے
میر تقی میر

اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی

دیوان دوم غزل 959
قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی
بائولے سے جب تلک بکتے تھے سب کرتے تھے پیار
عقل کی باتیں کیاں کیا ہم سے نادانی ہوئی
لوہو پانی ایک دونوں نے کیا میرا ندان
یعنی دل لوہو ہوا سب چشم سب پانی ہوئی
کیا چھپا کچھ رہ گیا ہے مدعاے خط شوق
رقعہ وار اب اشک خونیں سے تو افشانی ہوئی
آنکھ اٹھاکر ٹک جو دیکھا گھر کے گھر بٹھلا دیے
اک نگہ میں سینکڑوں کی خانہ ویرانی ہوئی
مرتبہ واجب کا سمجھے آدمی ممکن نہیں
فہم سودائی ہوا یاں عقل دیوانی ہوئی
چاہ کر اس بے وفا کو آخر اپنی جان دی
دوستی اس کی ہماری دشمن جانی ہوئی
بلبل اس خوبی سے گل ہے سِیَّما سیماے یار
تو عبث اے بے حقیقت غنچہ پیشانی ہوئی
شیخ مت یاد بتاں کو رات کا سا ذکر جان
یاصنم گوئی ہماری کیا خداخوانی ہوئی
غنچۂ گل ہے گلابی پھول ہے جام شراب
توڑتے تو توڑی توبہ اب پشیمانی ہوئی
چشم ہوتے ہوتے تر کچھ سب بھری رہنے لگی
اب ہوئی خطرے کی جاگہ کشتی طوفانی ہوئی
دل تڑپتا تھا نہایت جان دے تسکین کی
بارے اپنی ایسی مشکل کی بھی آسانی ہوئی
جب سے دیکھا اس کو ہم نے جی ڈھہا جاتا ہے میر
اس خرابی کی یہ چشم روسیہ بانی ہوئی
میر تقی میر

ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں

دیوان دوم غزل 869
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں
کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں
لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں
چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار
ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں
طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو
اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں
ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح
قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں
یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں
ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں
دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا
خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں
فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک
روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں
کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے
دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں
جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر
کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں
میر تقی میر

یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

دیوان اول غزل 3
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا
تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں
ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب
ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں
معتقد کون ہے میر ایسی مسلمانی کا
میر تقی میر