ٹیگ کے محفوظات: ناخداؤں

آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا

ہم نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم اصولاً تو بچ ہی نکلے تھے
التجاؤں نے مل کے لوٹ لیا
رہزنوں کا نصیب کیا کہیے
رہ نماؤں نے مل کے لوٹ لیا
اک بہانہ تھی شورشِ طوفاں
ناخداؤں نے مل کے لوٹ لیا
کج کُلاہوں سے ہوشیار تھے ہم
خوش اداؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم زَباں دیکھتے رہے چپ چاپ
بے نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
راہ زنِ ہوش کچھ تو غم زدہ تھے
کچھ جفاؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو امینِ جمالِ یزداں ہیں
ان خداؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو کبھی وجہِ عشرتِ دل تھیں
ان فضاؤں نے مل کے لوٹ لیا
شکیب جلالی

جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی