ٹیگ کے محفوظات: ناتواں

قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر

مزاج اپنا غلامی سے یہ بنا ہے کہ ہم
قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر
ہدف ہے گرچہ نشانے پہ ایک مدت سے
میں کیا کروں کہ مرا تیر ہے کماں میں اسیر
نہ کر سکا جو فراہم قفس مجھے صیاد
تو کر دیا مجھے میرے ہی آشیاں میں اسیر
رہا تو کر انہیں پھر دیکھ معجزے باصِرؔ
جو قوتیں ہیں تری خاکِ ناتواں میں اسیر
باصر کاظمی

پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1844
رابطہ باہم ہے کوئی دن کا یاں
پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں
گم ہوا ہوں یاں سے جاکر میں جہاں
کچھ نہیں پیدا کہاں میرا نشاں
پیری میں ہے طفل مکتب سا جہول
ہے فلک کرنے کے قابل آسماں
تو کہے واں ناگہاں بجلی گری
وہ نگاہ تند کرتا ہے جہاں
بھولے بھی میں یک نظر دیکھا نہیں
اس پہ ہے وہ بے دماغ و بدگماں
عشق نے تکلیف کی مالایطاق
بار امانت کا گراں میں ناتواں
کام کچھ آئی نہ دل کی بھی کشش
کھنچ رہا ہے ہم سے وہ ابرو کماں
کیا چھپی ہیں باتیں میرے عشق کی
داستاں در داستاں ہے داستاں
عشق میں کیونکر بسر کریے گا عمر
دل لگا ہے جس سے سو نامہرباں
جو زمیں پالغز تھی شاید کہ میر
ہو وہیں مسجود اس کا آستاں
میر تقی میر

میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر

دیوان پنجم غزل 1620
شوریدہ سر رکھا ہے جب سے اس آستاں پر
میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر
گھائل گرا رہا ہے فتراک سے بندھا ہے
کیا کیا ستم ہوئے ہیں اس صید ناتواں پر
لطف بدن کو اس کے ہرگز پہنچ سکے نہ
جا پڑتی تھی ہمیشہ اپنی نگاہ جاں پر
خاشاک و خار و خس کو کر ایک جا جلایا
کیا چشم شور برق خاطف تھی آشیاں پر
وہ باغباں پسر کچھ گل گل شگفتہ ہے اب
یہ اور گل کھلا ہے اک پھولوں کی دکاں پر
پرکالے آگ کے تھے کیا نالہ ہاے بلبل
شبنم سے آبلے ہیں گل برگ سی زباں پر
دل کیا مکاں پھر اس کا کیا صحن میر لیکن
غالب ہے سعی میں تو میدان لامکاں پر
میر تقی میر

ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد

دیوان پنجم غزل 1604
ہے عشق کا فسانہ میرا نہ یاں زباں زد
ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد
حسرت سے حسن گل کی چپکا ہوا ہوں ورنہ
طیران باغ میں ہوں میں خوش زباں زباں زد
مذکور عاشقی کا ہر چار سو ہے باہم
یعنی نہیں کہانی میری کہاں زباں زد
فرہاد و قیس و وامق ہر یک سے پوچھ لو تم
شہروں میں عشق کے ہوں میں ناتواں زباں زد
کیا جانے میر کس کے غم سے ہے چپ وگرنہ
حرف و سخن میں کیا ہی ہے یہ جواں زباں زد
میر تقی میر

پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز

دیوان چہارم غزل 1394
ہے زیرخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز
گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق
استادہ روے خاک پہ ہے آسماں ہنوز
اس تک پہنچنے کا تو نہیں حال کچھ ولے
جاتے ہیں گرتے پڑتے بھی ہم ناتواں ہنوز
پروانہ جل کے خاک ہوا پھر اڑا کیا
اے شمع تیری رہتی نہیں ہے زباں ہنوز
چندیں ہزار جانیں گئیں اس کی راہ میں
ایک آدھ تو بھی مر رہے ہیں نیم جاں ہنوز
مدت ہوئی کہ خوار ہو گلیوں میں مر گئے
قصہ ہمارے عشق کا ہے داستاں ہنوز
لخت جگر کے غم میں کہ تھا لعل پارہ میر
رخسار زرد پر ہے مرے خوں رواں ہنوز
میر تقی میر

کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح

دیوان چہارم غزل 1374
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح
جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر
عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح
جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد
کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح
اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو
کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح
اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی
قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح
نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے
ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح
دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے
ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح
کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک
غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح
جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ
کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح
میر تقی میر

خلل سا ہے دماغ آسماں میں

دیوان سوم غزل 1186
نئی گردش ہے اس کی ہر زماں میں
خلل سا ہے دماغ آسماں میں
ہوا تن ضعف سے ایسا کہے تو
کہ اب جی ہی نہیں اس ناتواں میں
کہا میں درد دل یا آگ اگلی
پھپھولے پڑ گئے میری زباں میں
متاع حسن یوسفؑ سی کہاں اب
تجسس کرتے ہیں ہر کارواں میں
بلاے جاں ہے وہ لڑکا پری زاد
اسی کا شور ہے پیر و جواں میں
بہت ناآشنا تھے لوگ یاں کے
چلے ہم چار دن رہ کر جہاں میں
تری شورش بھی بے کل ہے مگر میر
ملا دے پیس کر بجلی فغاں میں
میر تقی میر

ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں

دیوان سوم غزل 1185
رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں
شمع ہی سر نہ دے گئی برباد
کشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں
ہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھ
ننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں
جس چمن زار کا ہے تو گل تر
بلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں
نہیں مجنوں سے دل قوی لیکن
یار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں
بوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیم
خاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں
گو شب اس در سے دور پہروں پھریں
پاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں
وجہ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
مر گئے مر گئے نہیں تو نہیں
خاک سے منھ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں
اپنا شیوہ نہیں کجی یوں تو
یار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں
اس سرے کی ہے پارسائی میر
معتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں
میر تقی میر

یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے

دیوان دوم غزل 1024
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے
آیا ہے زیر زلف جو رخسار کا وہ سطح
یاں سانجھ کے تئیں بھی سحر کا سماں سا ہے
ہے جی کی لاگ اور کچھ اے فاختہ ولے
دیکھے نہ کوئی سرو چمن اس جواں سا ہے
کیا جانیے کہ چھاتی جلے ہے کہ داغ دل
اک آگ سی لگی ہے کہیں کچھ دھواں سا ہے
اس کی گلی کی اور تو ہم تیر سے گئے
گو قامت خمیدہ ہمارا کماں سا ہے
جو ہے سو اپنی فکر خروبار میں ہے یاں
سارا جہان راہ میں اک کارواں سا ہے
کعبے کی یہ بزرگی شرف سب بجا ہے لیک
دلکش جو پوچھیے تو کب اس آستاں سا ہے
عاشق کی گور پر بھی کبھو تو چلا کرو
کیا خاک واں رہا ہے یہی کچھ نشاں سا ہے
زور طبیعت اس کا سنیں اشتیاق تھا
آیا نظر جو میر تو کچھ ناتواں سا ہے
میر تقی میر

جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور

دیوان دوم غزل 811
چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور
جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور
وہ کیا یہ دل لگے ہے فنا میں کہ رفتگاں
منھ کرکے بھی نہ سوئے کبھو پھر جہاں کی اور
رنگ سخن تو دیکھ کہ حیرت سے باغ میں
رہ جاتے ہیں گے دیکھ کے گل اس دہاں کی اور
آنکھیں سی کھل ہی جائیں گی جو مر گیا کوئی
دیکھا نہ کر غضب سے کسو خستہ جاں کی اور
کیا بے خبر ہے رفتن رنگین عمر سے
جوے چمن میں دیکھ ٹک آب رواں کی اور
یاں تاب سعی کس کو مگر جذب عشق کا
لاوے اسی کو کھینچ کسو ناتواں کی اور
یارب ہے کیا مزہ سخن تلخ یار میں
رہتے ہیں کان سب کے اسی بد زباں کی اور
یا دل وہ دیدنی تھی جگہ یا کہ تجھ بغیر
اب دیکھتا نہیں ہے کوئی اس مکاں کی اور
آیا کسے تکدر خاطر ہے زیرخاک
جاتا ہے اکثر اب تو غبار آسماں کی اور
کیا حال ہو گیا ہے ترے غم میں میر کا
دیکھا گیا نہ ہم سے تو ٹک اس جواں کی اور
میر تقی میر

لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر

دیوان دوم غزل 802
رفتار میں یہ شوخی رحم اے جواں زمیں پر
لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر
آنکھیں لگی رہیں گی برسوں وہیں سبھوں کی
ہو گا قدم کا تیرے جس جا نشاں زمیں پر
میں مشت خاک یارب بارگران غم تھا
کیا کہیے آ پڑا ہے اک آسماں زمیں پر
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں لوگوں کی تیری رہ میں
ٹک دیکھ کر قدم رکھ اے کام جاں زمیں پر
خاک سیہ سے یکساں ہر ایک ہے کہے تو
مارا اٹھا فلک نے سارا جہاں زمیں پر
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
جوں ابر ہم نہ روئے اس بن کہاں زمیں پر
آتا نہ تھا فرو سرجن کا کل آسماں سے
ہیں ٹھوکروں میں ان کے آج استخواں زمیں پر
جو کوئی یاں سے گذرا کیا آپ سے نہ گذرا
پانی رہا کب اتنا ہوکر رواں زمیں پر
پھر بھی اٹھالی سر پر تم نے زمیں سب آکر
کیا کیا ہوا تھا تم سے کچھ آگے یاں زمیں پر
کچھ بھی مناسبت ہے یاں عجز واں تکبر
وے آسمان پر ہیں میں ناتواں زمیں پر
پست و بلند یاں کا ہے اور ہی طرف سے
اپنی نظر نہیں ہے کچھ آسماں زمیں پر
قصر جناں تو ہم نے دیکھا نہیں جو کہیے
شاید نہ ہووے دل سا کوئی مکاں زمیں پر
یاں خاک سے انھوں کی لوگوں نے گھر بنائے
آثار ہیں جنھوں کے اب تک عیاں زمیں پر
کیا سر جھکا رہے ہو میر اس غزل کو سن کر
بارے نظر کرو ٹک اے مہرباں زمیں پر
میر تقی میر

تیر و کماں ہے ہاتھ میں سینہ نشاں ہے اب

دیوان دوم غزل 770
وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب
تیر و کماں ہے ہاتھ میں سینہ نشاں ہے اب
اتنا بھی منھ چھپانا خط آئے پہ وجہ کیا
لڑکا نہیں ہے نام خدا تو جواں ہے اب
پھول اس چمن کے دیکھتے کیا کیا جھڑے ہیں ہائے
سیل بہار آنکھوں سے میری رواں ہے اب
جن و ملک زمین و فلک سب نکل گئے
بارگران عشق و دل ناتواں ہے اب
نکلی تھی اس کی تیغ ہوئے خوش نصیب لوگ
گردن جھکائی میں تو سنا یہ اماں ہے اب
زردی رنگ ہے غم پوشیدہ پر دلیل
دل میں جو کچھ ہے منھ سے ہمارے عیاں ہے اب
پیش از دم سحر مرا رونا لہو کا دیکھ
پھولے ہے جیسے سانجھ وہی یاں سماں ہے اب
نالاں ہوئی کہ یاد ہمیں سب کو دے گئی
گلشن میں عندلیب ہماری زباں ہے اب
برسوں ہوئے گئے اسے پر بھولتا نہیں
یادش بخیر میر رہے خوش جہاں ہے اب
میر تقی میر

دل نے جگر کی اور اشارت کی یاں گرا

دیوان دوم غزل 741
کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا
دل نے جگر کی اور اشارت کی یاں گرا
منظر خراب ہونے کو ہے چشم تر کا حیف
پھر دید کی جگہ نہیں جو یہ مکاں گرا
روح القدس کو سہل کیا یار نے شکار
اک تیر میں وہ مرغ بلند آشیاں گرا
پہنچایا مجھ کو عجز نے مقصود دل کے تیں
یعنی کہ اس کے در ہی پہ میں ناتواں گرا
شور اک مری نہاد سے تجھ بن اٹھا تھا رات
جس سے کیا خیال کہ یہ آسماں گرا
کیا کم تھا شعلہ شوق کا شعلے سے طور کے
پتھر بھی واں کے جل گئے جاکر جہاں گرا
ڈوبا خیال چاہ زنخداں میں اس کے میر
دانستہ کیوں کنوئیں میں بھلا یہ جواں گرا
میر تقی میر

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

دیوان اول غزل 472
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی