ٹیگ کے محفوظات: نابینا

موجزن برسوں سے ہے دریا ہے چشم گریہ ناک

دیوان دوم غزل 843
آج کل سے کچھ نہ طوفاں زا ہے چشم گریہ ناک
موجزن برسوں سے ہے دریا ہے چشم گریہ ناک
یوں نہ روئو تو نہ روئو ورنہ رود و چاہ سے
ہر قدم اس دشت میں پیدا ہے چشم گریہ ناک
دل سے آگے ٹک قدم رکھو تو پھر بھی دلبرو
سیر قابل دیدنی اک جا ہے چشم گریہ ناک
بے گداز دل نہیں امکان رونا اس قدر
تہ کو پہنچو خوب تو پردہ ہے چشم گریہ ناک
سوجھتا اپنا کرے کچھ ابر تو ہے مصلحت
جوش غم سے جیسے نابینا ہے چشم گریہ ناک
سبز ہے رو نے سے میرے گوشہ گوشہ دشت کا
باعث آبادی صحرا ہے چشم گریہ ناک
وے حنائی پامری آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں میر
یعنی ہر دم اس کے زیر پا ہے چشم گریہ ناک
میر تقی میر

جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 44
دَور ہی ایسا ہے، جو دیکھیں اُسے اُلٹا کہیں
جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں
شہرِ نو آباد کی یہ قُربتیں ، یہ دُوریاں
یعنی ہم برسوں کے ناواقف کو ہمسایا کہیں
اُن کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا باطن اور ہے
جاگتی آنکھیں جو دِکھلائیں اُسے سپنا کہیں
وُہ جو کر دے زندگی کا سارا منظر خواب گُوں
کوئی آئے بھی نظر ایسا جسے تجھ سا کہیں
روز فرمائش کرے صورت گر دُنیا کہ ہم
مصلحت کے چہرۂ یک چشم گو زیبا کہیں
اُن میں کرتا ہے جو نا مُعتبر کو مُعتبر
وُہ مدارِ قسمتِ انساں ، جسے پیسا کہیں
کوئی کیوں جانے کہ ہم کب آئے کب رخصت ہوئے
زندگی کر لی، اِسے اب زحمتِ بے جا کہیں
آفتاب اقبال شمیم

ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
مرنا اگر ضرور ہے تو جینا چاہئے
ہے مفت کی شراب اسے پینا چاہئے
چاہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھا کرے کوئی
اِس حکمراں کو خلقتِ نابینا چاہئے
دیکھیں کہ عکس کوئی بدلتا ہے کس طرح
اک اور آئینہ پسِ آئینہ چاہئے
بیٹھے رہیں مرقعِٔ ایام کھول کر
قربت میں کوئی ہمدمِ دیرینہ چاہئے
طے کر سکو گے راہِ محبت کی منزلیں !
دل میں بہت غرور بڑا کینہ چاہئے
آ اِس طرح سے حسن کو نا مطمئن کریں
اس زخمِ شاعری کو کبھی سینا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم