ٹیگ کے محفوظات: ناؤ

مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ

میں بُھول جاؤں نہ رکھ رکھاؤ ، نئے خُداؤ!
مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ!
مِری حِماقت پہ قہقہے کیوں لگا رہے ہو؟
قفس ہے اپنا نیا پڑاؤ ، نئے خُداؤ!
میں کُوفیوں کی طرح نہیں ہوں کہ چھوڑ جاؤں
مِری محبّت ہے سبز ناؤ! نئے خُداؤ!
غریبِ شہرِ اجل کی خاطر نئے سُروں میں
بھجن پُرانا کوئی سُناؤ ، نئے خُداؤ!
خُدا پرستوں کو بیچنے میں بقا ہے سب کی
ہمیں بھی بیچو ، شرف کماؤ ، نئے خُداؤ!
نئے خُداؤں کا اِنتخاب آج ہو رہا ہے
بتاؤ کیسے کریں چناؤ؟ نئے خُداؤ!!
میں اِس سے پہلے کہ خُودکُشی کو حیات بخشوں
مِری، محبّت سے جاں چُھڑاؤ ، نئے خُداؤ!
افتخار فلک

ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 83
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی
ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی
اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی
شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی
بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا الاؤ کبھی
اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
پروین شاکر

سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 432
رات کے پچھلے پہر ، دور الاؤ کوئی
سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی
ہار جاؤں گا تو دنیاسے بھی اٹھ جاؤں گا
بس لگانا ہے مجھے آخری داؤ کوئی
ٹوٹ جانے میں بھلا کونسی اچھائی ہے
نرمگی کوئی، سرِ شاخ جھکاؤ کوئی
لوگ کہتے ہیں کہ باہو کے ہے دوہوں میں شفا
بیٹھ کے میرے سرہانے ذرا گاؤ کوئی
چاند کے روپ میں اک طنزِ مسلسل کی طرح
سینہ ء شب میں سلگتا ہوا گھاؤ کوئی
لوگ مرجاتے ہیں ساحل کی تمنا لے کر
اور سمندر میں چلی جاتی ہے ناؤ کوئی
کاش بچپن کی بہشتوں سے نہ باہر آؤں
روک لے عمر کے دریا کا کٹاؤ کوئی
لڑکھڑانا ہے نشیبوں میں ہمیشہ منصور
روک سکتا نہیں پانی کا بہاؤ کوئی
منصور آفاق