ٹیگ کے محفوظات: ناآگہی

پسِ خیال عجب سنسنی سی شہر میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
دھڑکتی گونجتی اِک خامشی سی شہر میں ہے
پسِ خیال عجب سنسنی سی شہر میں ہے
لب و زباں پہ نہیں ہے، نظر نظر میں تو ہے
کوئی تو بات ہے جو اَن کہی سی شہر میں ہے
چھپا سکے نہ جسے کوئی بھی اَپَھل جوڑا
کچھ اِس طرح کی حزیں بیدلی سی شہر میں ہے
جھٹک رہے ہوں جسے آہوانِ رم خوردہ
وفورِ خوف میں وہ کھلبلی سی شہر میں ہے
ہُوا جو اُس کی خبر بھی ہے اور خبر بھی نہیں
چہار سُو یہی ناآگہی سی شہر میں ہے
دہک رہے ہیں گلابوں سے بام و در ماجد
جو آنچ میں ہو وہی تازگی سی شہر میں ہے
ماجد صدیقی

تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 39
نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا
ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں
سبھی تھے جان کی کی جاں اور سبھی کو چھوڑ دیا
شعور ایک شعورِ فریب ہے سو تو ہے
غرض کہ آگہی، ناآگہی کو چھوڑ دیا
خیال و خواب کی اندیشگی کے سُکھ جھیلے
خیال و خواب کی اندیشگی کو چھوڑ دیا
جون ایلیا