ٹیگ کے محفوظات: مے

کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 73
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں
کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل
کچھ زہر ملا ہوا مے میں
بدمست جہان ہو رہا ہے
ہے یار کی بو ہر ایک شے میں
ہیں ایک ہی گل کی سب بہاریں
فروردیں میں اور فصلِ دَے میں
ہے مستئ نیم خام کا ڈر
اصرار ہے جامِ پے بہ پے میں
مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں
بزمِ جم و بارگاہِ کے میں
اب تک زندہ ہے نام واں کا
گزرا ہے حسین ایک جے میں
ہوتی نہیں طے حکایتِ طے
گزرا ہے کریم ایک طے میں
کچھ شیفتہ یہ غزل ہے آفت
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
مصطفٰی خان شیفتہ

میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 100
وہ کون اور کہاں ہے ابھی یہ طے ہی نہیں
میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں
بغیر اُس کے کہاں کثرتیں اکائی بنیں
کہ سا زِ ہفتِ نوا میں وہ ایک لے ہی نہیں
فریبِ نشّہ بھی نشّے کی ایک صورت ہے
کہ پی رہا ہوں پیالے میں گرچہ مے ہی نہیں
نکال دے جو سمندر کو اپنے ساحل سے
سرِشتِ آب میں وہ موج پے بہ پے ہی نہیں
میں کائنات ہوں اپنے وجود کے اندر
مرے قریب یہ دنیا تو کوئی شے ہی نہیں
آفتاب اقبال شمیم

عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 275
میں لگا دوں آئینے گلیوں میں کیسے سینکڑوں
عکس ابھریں گے وہاں ہر ایک شے سے سینکڑوں
کم نہیں دکھ تیرے جانے کا مگر جانِ بہار
زخم میرے دل میں پہلے بھی ہیں ایسے سینکڑوں
اس کی آنکھوں نے کسے لوٹا ہے اس کو کیا خبر
اس کو رستے میں ملیں گے میرے جیسے سینکڑوں
روح کی حیرت زدہ آواز آتی ہی نہیں
وائلن کے تار لرزاں مجھ میں ویسے سینکڑوں
اک اکیلا تشنہ لب ہوں میں کنویں کے آس پاس
پھرتے ہیں منصور بے خود تیری مے سے سینکڑوں
منصور آفاق