ٹیگ کے محفوظات: میہمان

طلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروش

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 53
اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش
طلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروش
کھلا جو پردہ روئے حقائقِ اشیاء
کھلی حقیقتِ رازِ نہانِ بادہ فروش
فسردہ طینتی و کاہلی سے ہم نے کبھی
شباب میں بھی نہ دیکھی دکانِ بادہ فروش
یقین ہے کہ مئے ناب مفت ہاتھ آئے
یہ جی میں ہے کہ بنوں میہمانِ بادہ فروش
قدح سے دل ہے مراد اور مے سے عشق غرض
میں وہ نہیں کہ نہ سمجھوں زبانِ بادہ فروش
عجب نہیں کہ کسی روز وہ بھی آ نکلیں
کہ ہے گزرگہِ خلق، آستانِ بادہ فروش
مے و سرود کے اسرار آپ آ کر دیکھ
نہ پوچھ مجھ سے کہ ہوں راز دانِ بادہ فروش
شراب دیکھ کہ کس رنگ کی پلاتا ہے
جز اس کے اور نہیں امتحانِ بادہ فروش
تری شمیم نے گلزار کو کیا برباد
تری نگاہ نے کھولی دکانِ بادہ فروش
عبث ہے شیفتہ ہر اک سے پوچھتے پھرنا
ملے گا بادہ کشوں سے نشانِ بادہ فروش
مصطفٰی خان شیفتہ

مگر آئے تھے میہمان سے لوگ

دیوان چہارم غزل 1423
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ
مگر آئے تھے میہمان سے لوگ
قہر ہے بات بات پر گالی
جاں بہ لب ہیں تری زبان سے لوگ
شہر میں گھر خراب ہے اپنا
آتے ہیں یاں اب اس نشان سے لوگ
ایک گردش میں ہیں برابر خاک
کیا جھگڑتے ہیں آسمان سے لوگ
درد دل ان نے کب سنا میرا
لگے رہتے ہیں اس کے کان سے لوگ
بائو سے بھی لچک لہک ہے انھیں
ہیں یہی سبزے دھان پان سے لوگ
شوق میں تیر سے چلے اودھر
ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ
آدمی اب نہیں جہاں میں میر
اٹھ گئے اس بھی کاروان سے لوگ
میر تقی میر

شور سے جیسے بان جاتا ہے

دیوان اول غزل 535
نالہ تا آسمان جاتا ہے
شور سے جیسے بان جاتا ہے
دل عجب جاے ہے ولیکن مفت
ہاتھ سے یہ مکان جاتا ہے
گاہے آتا ہوں آپ میں سو بھی
جیسے کوئی میہمان جاتا ہے
کیا خرابی ہے میکدے کی سہل
محتسب اک جہان جاتا ہے
جب سرراہ آوے ہے وہ شوخ
ایک عالم کا جان جاتا ہے
اس سخن ناشنو سے کیا کہیے
غیر کی بات مان جاتا ہے
عشق کے داغ کا عبث ہے علاج
کوئی اب یہ نشان جاتا ہے
گو وہ ہرجائی آئے اپنی اور
سو طرف ہی گمان جاتا ہے
میر تو عمر طبعی کو پہنچا
عشق میں جوں جوان جاتا ہے
میر تقی میر

آرزوے جہان ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 336
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
آرزوے جہان ہوتے ہیں
گوش دیوار تک تو جا نالے
اس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن
گھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا
روضے سب گلستان ہوتے ہیں
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض
خوبرو بدزبان ہوتے ہیں
غمزئہ چشم خوش قدان زمیں
فتنۂ آسمان ہوتے ہیں
کیا رہا ہے مشاعرے میں اب
لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
میر و مرزا رفیع و خواجہ میر
کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
میر تقی میر