ٹیگ کے محفوظات: میں

رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں

بلا سے گر شبِ ہجراں میں جل بجھیں آنکھیں
رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں
یہ ربطِ تارِ نگہ تو بہت ہی بودا ہے
نجانے ہم سے وہ کس وقت پھیر لیں آنکھیں
بجا کہ نظریں ہی ٹھہری ہیں اب زباں لیکن
وہ سامنے ہی نہ آئیں تو کیا کریں آنکھیں
اُتر گئی ہیں رگ وپے میں یوں تِری نظریں
کوئی بھی نقش بنانے لگوں بنیں آنکھیں
لگی ہے آنکھ ہماری ترے تصور میں
تری ہی شکل مقابل ہو جب کھلیں آنکھیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
تمام عمر بھی گر ڈھونڈتے پھرو باصرِؔ
کہاں ملیں گی جو ہیں اپنے دھیان میں آنکھیں
باصر کاظمی

میں

’’ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے ؟ میاں اس مصرعہ پر گرہ لگائو۔‘‘

یہ الفاظ تھے ڈی جے سائنس کالج کے صدر شعبۂ اردو شاہد عشقی کے۔ میں اپنی غزل کالج کے سالانہ مجلے ’’ مخزن‘‘ میں اشاعت کی غرض سے اُن کے پاس لے کر پہنچا تھا ۔ جب میں اس زمین میں ایک مطلع اور دو شعر انہیں سنا چکا تو کہنے لگے ۔ ’’ بھئی بچے اِدھر اُدھر سے چیزیں لا کر دے دیتے ہیں اس لیے مجھے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑتی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے غزل رکھ لی اور میں اُٹھ کر چلا آیا۔ آج بیس برس گزرنے کے بعد بھی یہی ایک مصرعہ ہے جس کے حصار سے باہر میں کوشش کے باوجود نہیں نکل پایا۔ دل ہے کہ کسی پل ٹھہرتا ہی نہیں۔ اضطراب ہے کہ ہر پل میرے وجود کو گھیرے رہتا ہے۔ ذمہ داریوں کے باب میں بظاہر چاق و چوبند نظر آنے والا ’میں‘ اندر سے ایک بالکل مختلف انسان ہوں، جو شاید آج پہلی بار خود سے باہر منکشف ہو رہا ہے۔ مگر یہ انکشاف بھی کتنا واضح ہو سکتا ہے جب کہ میں خود بھی نہیں جانتا کہ ’’ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے ‘‘

بچپن ہی سے تنہائی میری مجبوری نہیں ترجیح رہی ہے ۔ مطالعہ اور تفکر ، یہ دو میری محبوب ترین مصروفیات ہیں ۔ پڑھتے پڑھتے سوچنے لگنا اور سوچتے سوچتے کچھ اٹھا کر پڑھنا شروع کر دینا دو ایسی کیفیات ہیں جن سے میری شخصیت اور شاعری کا سارا تار و پود بُنا گیا ہے۔ کسی بھی بات کو بلا جواز و تحقیق مان لینا میری سرشت میں نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں کوئی پہلا انسان نہیں جو یہ سرشت لے کر پیدا ہوا ہو۔ جو سوالات میرے ذہن میں ہیں، وہ مجھ سے پہلے بھی اُٹھائے جاتے رہے ہیں۔ مگر مجھے اس سے کیا؟ میرے لیے تو میرے سوالات یکسر اچھوتے اور نئے ہیں اور ان کے جوابات کی تلاش میں سرگرداں رہنا سراسر میرا ذاتی مسئلہ ہے۔ ہر سوچنے والے انسان کے لیے یہ ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ اس لیے کہ ان سوالات کے کوئی standard جوابات نہیں ہوتے۔ کائنات کے اسرار و رموز ہر انسان پر الگ طرح سے منکشف ہوتے ہیں۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ یہ سوال اتنے بڑے ہیں کہ ان کا قائم رہنا ان کے جوابات حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ یہ نہ رہیں، تو انسان اور کائنات کے درمیان تعلق محضphysical نوعیت کا ہو کر رہ جائے۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے جو اس مجموعے کے قارئین کے لیے شاید کسی دلچسپی کا سامان مہیا نہ کر سکے، اس لیے اس سے گریز کرکے میں کچھ اور باتوں کی طرف آتا ہوں۔

شاعری میرے نزدیک کوئی آفاقی حیثیت کا حامل ہنر ہے، نہ ہی نصف پیغمبری! میں اسے صرف فنونِ لطیفہ کی ایک خوبصورت ترین صنف اور اظہار کا ایک پُر تاثیر ذریعہ مانتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اس صنف میں الفاظ کی موجودگی اسے پیچیدہ اور گہرے افکار کی ترسیل کے لیے دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ موثر بنا دیتی ہے۔ اس نظریے کے تحت میرے نزدیک شاعری کی بنیادی ضرورت شعریت ہے، اور شعریت عبارت ہے اظہار کے حُسن سے۔ اگر کسی شعر کو پڑھ کر یا سن کر میرے احساس میں ایک خوبصورت ہیجان برپا نہیں ہوتا تو مجھے اس شعر میں بیان کردہ بڑے خیال سے کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک مضمون کے نیا یا پرانا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اُس مضمون کا بیان کتنے شاعرانہ انداز سے ہوا ہے، یہ بات اس شعر کے اچھا یا بُرا ہونے، اور اس سے بھی قبل اُس کے شعر ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرتی ہے۔ مجھے اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے عام طور پر نقاد اور قارئین فوری طور پر خیال تک جست لگا دیتے ہیں اور اس بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتے کہ جس موزوں خیال کو وہ شعر سمجھ رہے ہیں اس میں شاعرانہ طرزِ اظہار ہے بھی یا نہیں؟ ولیؔ اور میرؔ سے آج اجملؔ سراج تک جن شعراء کے سینکڑوں اشعار مجھے ازبر ہیں، اُن میں یہ شاعرانہ طرزِ احساس ہی مجھے ایک ایسا common factorنظر آتا ہے جو کسی شعر کو میرے حافظے اور احساس کا حصہ بناتا ہے۔

میں نے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی اور نہ ہی میں اردو زبان سے گہری واقفیت کا دعوٰع کر سکتا ہوں۔ہاں لفظ اور تکنیک کے سلسلے میں ایک واضح conciousnessکا میں دعویدار ضرور ہوں اور میرے نزدیک یہ ذہنی بیداری کسی بھی شاعر کے احساس اور اظہار کے ارتقاء میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ میں بہت کم شعر کہتا ہوں۔ اس لیے کہ مجھے inspirationعام طور پر کسی تجربے سے حاصل ہوتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ تجربہ میرے احساس کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے میری شعر گوئی کم گوئی کی حدود سے باہر نہیں نکل پاتی۔

میری شاعری میرے ہونے کے جواز کی تلاشِ مسلسل کے دوران میرے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ میری شاعری میں موجود کوئی بھی کیفیت شاید نئی نہ ہو۔ اس لیے کہ اس کائنات میں کچھ بھی نیا نہیں۔ خود انسان کون سا نیا ہے؟ مگر اس انسان کا ذہن گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔ صلاحیت کے اعتبار سے نہیں بلکہ چیزوں کو perceiveکرنے کے اعتبار سے۔ اس لیے طرزِ احساس و اظہار ہی کسی شاعر کے اپنے عہد سے وابستگی کا اعلان ہوتا ہے۔ جدید حسّیت کی طویل بحث کے ضمن میں مجھے صرف اتنا ہی کہنا ہے۔

کسی بھی شاعر کی طرح حُسن میرے احساس کا اہم ترین جزوہے۔ مگر یہ حُسن اگر انسانی ہے تو اسے میرے احساس تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے مجھے ذہنی سطح پر متاثر کرنا لازمی ہے۔ ذہانت میرے نزدیک حسین ہونے کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔ کند ذہنی اور روایتی طرزِ فکر مجھ سے زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتی اور تعلق کی سطح پر اپنے اس رویے کی وجہ سے میں اکثر مشکلات کا شکار رہتا ہوں۔ دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہوتا ہوں کہ بعض اوقات کچھ لوگ اپنے پُرخلوص طرزِ عمل کے باوجود میرے نزدیک نہیں آپاتے۔ یہ میری ایک ایسی مجبوری ہے جس کے ہاتھوں میں اپنے آپ کو بالکل لاچار پاتا ہوں۔

میری خوش قسمتی کہ اس مشکل رویے کے باوجود میرے گرد ایسے لوگ ہمیشہ رہے جو میرے مزاج کی ہر کیفیت کو خوش دلی کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ ان لوگوں میں سرِ فہرست میرے عزیز دوست اور خوبصورت آرٹسٹ یوسف تنویر کا نام ہے۔ ان کا دفتر میری ذہنی پناہ گاہ ہے۔ میری بیشتر غزلیں وہیں بیٹھ کر تخلیق ہوئیں اور انہوں نے میرے اولین سامع ہونے کا فرض بھی نہایت محبت کے ساتھ انجام دیا۔ میرے احباب میں مجھے شاعر تسلیم کرنے والے پہلے شخص عبدالرزاق معرفانی ہیں۔ انہوں نے اپنے احباب کی خوش ذوق نشستوں میں مجھ سے شعر سنے اور میری حوصلہ افزائی کی۔ ادبی دُنیا میں جن لوگوں نے میری رہنمائی و پذیرائی کی ان میں جونؔ ایلیا کو میں آج بھی اپنا استاد تسلیم کرتا ہوں۔ میری شاعری کی تمام تر خامیاں میری اپنی ناکامی پر دلیل ہیں۔

مگر اس سے قطع نظر میرے شعری ذوق کی تشکیل میں اولاً جونؔ صاحب کی شاعری کے مطالعے، اور بعد ازاں ان سے شعری مسائل پر بالمشافہ گفتگو کا بہت اہم کردار رہا۔ خواجہ رضیؔ حیدر میرے دوست ہی نہیں ، میرے بڑے بھائی کی جگہ ہیں۔ شعری سفر میں وہ میرے سمت نما ہیں اور میرے نزدیک اُن کی پسندیدگی میری کسی غزل کے باقی رہنے یا تلف کر دیے جانے کا سب سے بڑا جواز ہے۔ قیصرؔ عالم کی پُر مغز گفتگو نے ہمشہ میرے ذہن میں اکثر اٹھنے والی سوچوں کو channelize کرنے میں مدد دی جس کا شاید اُنہیں خود بھی علم نہیں، مگر جس کے لیے میں اُن کا ممنون ہوں۔ محترم نسیم درّانی، احمد ندیمؔ قاسمی، شمس الرحمن فاروقی، مبین مرزا، خالدؔ احمداور آصف فرخّی کا میں تہہِ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے میری غزلوں کو اپنے موقر جرائد میں شائع کر کے میرے بحیثیت شاعر تعارف میں اہم کردار ادا کیا۔ انور شعورؔ، محبؔ عارفی، نگارؔ صہبائی، رساؔ چغتائی، احمد جاویدؔ، احمد نویدؔ، ڈاکٹراسلم فرخی، ڈاکٹر آصف فرخی، صابر وسیمؔ، احسن ؔ سلیم، لیاقت علی عاصمؔ، اجملؔ سراج، عزمؔ بہزاد، جاذبؔ ضیائی، سعیدؔ آغا، انور جاوید ہاشمیؔ، قیصرؔ عالم، انیق احمد، شادابؔ احسانی، معراج صاحب، میر حامد علی کانپوری(مرحوم)، سلمان علوی، قمر اللہ دتہ، احمد جمال اور محمد علی احسان کے نام ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی رفاقت سے گزر کر میں یہ شعری مجموعہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

نہیں معلوم کہ ابھی میری سوچ کو وقت کے اس بے کراں سمندر کے کتنے اُتارچڑھائو دیکھنا ہیں۔ کیسے کیسے تیز دھار لمحے میرے خیمۂ خواب کی طنابوں کے درپے ہیں۔ اس کٹھن سفر میں ’’ تکرارِ ساعت‘‘ میرے لیے کسی ایسے لمحے کا انتظار ہے جو مجھ پر مجھے ظاہر کر دے، اور میرے وجود کو ایک دائمی اثبات سے ہم آہنگ کر دے۔ آئیے اور اس خاص ساعت کے انتظار میں میرے ساتھ ہو جائیں۔

عرفانؔ ستار

عرفان ستار

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

میں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

سالہا سال میں گر ہم نے رسائی پائی

کسی شے تک تو فقط اس کے نواحی دیکھے

اس کے پوشیدہ مناظر کے حواشی دیکھے

یا کوئی سلسلہ ءِ عکسِ رواں تھا اِس کا

ایک روئے گزراں تھا اس کا

کوہِ احساس پر آلام کے اشجار بلند

جن میں محرومئ دیرینہ سے شادابی ہے

برگ و باراں کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسی افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں

کبھی ارمانوں کے آوارہ سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے ہیں سستاتے ہیں

اور پھر شوق کے صحراؤں کو اڑ جاتے ہیں

شوق کے گرم بیاباں کہ ہیں بے آب و گیاہ

ولولے جن میں بگولوں کی طرح گھومتے ہیں

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے ہیں

دُور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس میں انہی صحراؤں کے خواب

ان کہستانوں کی روحیں ۔۔ سرو رو بستہ ہیں

اولّیں نقش ہیں آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور امیدوں کے جنین

اور بگولوں کے ہیولے

کسی نقّاش کی حسرت میں ملول

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

کون اس دشتِ گریزاں کی خبر لاتا ہے!

ن م راشد

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 29
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پُو چھتا ہوں کہ “ جاؤں کدھر کو مَیں“
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں
ہے کیا، جو کس@ کے باندھیے میری بلا ڈرے
کیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں
لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ بے ننگ و نام ہے‘
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں
چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں
پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں
اپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کا
سمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو میں
غالب خدا کرے کہ سوارِ سمندرِ ناز
دیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 26
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو
کیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہو
تا گردشِ فلک سے یوں ہی صبح و شام ہو
ساقی کی چشمِ مست ہو اور دورِ جام ہو
بے تاب ہوں بلا سے، کن@ آنکھوں سے دیکھ لیں
اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو
کیا شرم ہے، حریم ہے، محرم ہے رازدار
میں سر بکف ہوں، تیغِ ادا بے نیام ہو
میں چھیڑنے کو کاش اسے گھور لوں کہیں
پھر شوخ دیدہ بر سرِ صد انتقام ہو
وہ دن کہاں کہ حرفِ تمناّ ہو لب شناس
ناکام، بد نصیب، کبھی شاد کام ہو
گھس پل کے چشمِ شوق قدم بوس ہی سہی
وہ بزمِ غیر ہی میں ہوں اژدہام@ میں
اتنی پیوں کہ حشر میں سرشار ہی اٹھوں
مجھ پر جو چشمِ ساقئ بیت الحرام ہو
پیرانہ سال غالب میکش کرے گا کیا
بھوپال میں مزید جو دو دن قیام ہو
@ کَ ن @ ایک املا ازدحام بھی ہے نوٹ: غلام رسول مہر کو اس پر شک ہے کہ یہ غزل غالب کی نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں

دیوان سوم غزل 1205
کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں
مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں
ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں جو کہیے
روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں
گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے
جیسے اسیر تازہ بیتاب ہو قفس میں
جانکاہ ایسے نالے لوہے سے تو نہ ہوویں
بیتاب دل کسو کا رکھا ہے کیا جرس میں
اب لاغری سے دیں ہیں ساری رگیں دکھائی
پر عشق بھر رہا ہے ایک ایک میری نس میں
اے ابر ہم بھی برسوں روتے پھرا کیے ہیں
دریا بندھے پڑے ہیں وادی کے خار و خس میں
کیا میر بس کرے ہے اب زاری آہ شب کی
دل آگیا ہے اس کا ظالم کسو کے بس میں
میر تقی میر