ٹیگ کے محفوظات: میم

ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 533
برما بہارِ جاں کو بدن کے بریم سے
ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے
کچھ دیر ہی رکھی ترے نعلین پر نگاہ
باہر نکل نکل پڑیں صدیاں فریم سے
پھر چل پڑے ٹھٹھرتی ہوئی روشنی کے ساتھ
کچھ پہلے گفتگو کی دریائے ٹیم سے
آباد صادقین کی رنگوں بھری زمیں
فرہنگِ تھور سے کہیں آہنگِ سیم سے
بٹوارہ ہو رہا تھا ہواؤں کا پارک میں
یہ اور بات پھول ہی باہر تھے گیم سے
ٹوٹے ہوئے مکان میں کھلتا ہوا گلاب
اک جھوپڑی کی جیسے ملاقات میم سے
اِک خامشی نگار کو روکے کہاں تلک
یہ شور،جائیدادِ سخن کے کلیم سے
منصورہم فقیرہیں ،کرتے نہیں کلام
عورت سے،مال و زر سے،حکومت سے فیم سے
منصور آفاق

یک ہزار ماہ سے عظیم رات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 140
روشنی کی روح میں مقیم رات
یک ہزار ماہ سے عظیم رات
سجدہِ گاہِ شام کی مجھے قسم
مہر نیم روز کی حریم رات
سہہ پہر نکھر رہی تھی ہر طرف
گار ہاتھا چاند راگ بھیم رات
نت نئی ترنگ سے کرے نزول
قرن ہا قرن سے قدیم رات
باغ میں گلاب بھی اداس تھا
چاند کے بغیر تھی یتیم رات
دل میں حمد حمد کے چراغ تھے
آنکھ میں تھی نور نور میم رات
بار بار آئے میرے صحن میں
وہ کریم اور وہ رحیم رات
منصور آفاق