ٹیگ کے محفوظات: میلا

اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 111
جس کو باوصفِ ستم اپنا کہا
اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا
دَمبدم ہوں ضو فشاں اُس روز سے
جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا
عاق ہو کر رہ گئے پل میں سبھی
پیڑ نے پتّوں سے جانے کیا کہا
برق خود آ کر اُسے نہلا گئی
جس شجر کو ہم نے تھا میلا کہا
قولِ غالب ہے کہ اُس سے قبل بھی
ایک شاعر نے سخن اچّھا کہا
اک ہماری ہی زباں تھی زشت خُو
اُس نے تو ماجدؔ نہ کچھ بے جا کہا
ماجد صدیقی