ٹیگ کے محفوظات: میرزا

بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں

دیوان ششم غزل 1848
اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں
بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں
غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر
آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں
اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی
برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں
بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی
اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں
جانا کہ تن میں ہر جا نازک ہے اور دلکش
ہم رفتۂ سراپا اس کے بجا ہوئے ہیں
تھے غنچے جتنے زیر دیوار باغ طائر
شب باشی چمن سے شاید خفا ہوئے ہیں
صرفہ قمیص کا ہے کیا وقر اس گلی میں
ترک لباس کر واں شاہاں گدا ہوئے ہیں
خاموش اس کے در پر ہوکر فقیر بیٹھے
یعنی کہ عاشقی میں ہم بے نوا ہوئے ہیں
عہد شباب گذرا شرب مدام ہی میں
ہم کہنہ سال ہوکر اب پارسا ہوئے ہیں
اظہار کم فراغی ہردم کی بے دماغی
ان روزوں میر صاحب کچھ میرزا ہوئے ہیں
میر تقی میر

دیر و حرم میں ہو کہیں ہوہے خدا کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1723
بندہ ہے یا خدا نہیں اس دلربا کے ساتھ
دیر و حرم میں ہو کہیں ہوہے خدا کے ساتھ
ملتا رہا کشادہ جبیں خوب و زشت سے
کیا آئینہ کرے ہے بسر یاں حیا کے ساتھ
گو دست لطف سر سے اٹھا لے کوئی شفیق
دل کا لگائو اپنا ہے دست دعا کے ساتھ
تدبیر دوستاں سے ہے بالعکس فائدہ
ہے درد عاشقی کو خصومت دوا کے ساتھ
کی کشتی اس کی پاک زبردست عشق نے
جن نے ملائے ہاتھ ٹک ایک اس بلا کے ساتھ
اوباش لڑکوں سے تو بہت کرچکے معاش
اب عمر کاٹیے گا کسو میرزا کے ساتھ
کیا جانوں میں چمن کو ولیکن قفس پہ میر
آتا ہے برگ گل کبھو کوئی صبا کے ساتھ
میر تقی میر

رہتی ہے آرسی ہی دھری خودنما کے پاس

دیوان دوم غزل 823
عزت نہیں ہے دل کی کچھ اس دلربا کے پاس
رہتی ہے آرسی ہی دھری خودنما کے پاس
پہروں شبوں کو غم میں ترے جاگتے رہے
ہو آہنیں جگر سو کرے بے وفا کے پاس
راہ و روش رکھیں ہیں جدا دردمند عشق
زنہار یہ کھڑے نہیں ہوتے دوا کے پاس
کیا جانے قدر غنچۂ دل باغباں پسر
ہوتی گلابی ایسی کسو میرزا کے پاس
جو دیر سے حرم کو گئے سو وہیں موئے
آتا نہیں ہے جاکے کوئی پھر خدا کے پاس
کیا جانیے کہ کہتے ہیں کس کو یگانگی
بیگانے ہی سے ہم رہے اس آشنا کے پاس
میر اس دل گرفتہ کی یاں تو ملی نہ داد
عقدہ یہ لے کے جائوں گا مشکل کشا کے پاس
میر تقی میر

لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم

دیوان اول غزل 282
گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم
لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم
کام کیا آتے ہیں گے معلومات
یہ تو سمجھے ہی نہ کہ کیا ہیں ہم
تم ہی بیگانگی کرو نہ کرو
دلبرو وے ہی آشنا ہیں ہم
اے بتاں اس قدر جفا ہم پر
عاقبت بندئہ خدا ہیں ہم
سرمہ آلودہ مت رکھا کر چشم
دیکھ اس وضع سے خفا ہیں ہم
ہے نمک سود سب تن مجروح
تیرے کشتوں میں میرزا ہیں ہم
تیرے کوچے میں تا بہ مرگ رکھا
کشتۂ منت وفا ہیں ہم
خوف ہم کو نہیں جنوں سے کچھ
یوں تو مجنوں کے بھی چچا ہیں ہم
آستاں پر ترے ہی گذری عمر
اسی دروازے کے گدا ہیں ہم
ڈرتے ہیں تیری بے دماغی سے
کیونکہ پھر یار جی بلا ہیں ہم
کوئی خواہاں نہیں ہمارا میر
گوئیا جنس ناروا ہیں ہم
میر تقی میر