ٹیگ کے محفوظات: میدان

جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل

کیا بیاں کیجیے اب وسعتِ دامانِ غزل
جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل
آپ ہم لاکھ بگاڑا کریں اس کی صورت
کوئی قوت ہے پُراسرار نگہبانِ غزل
قطب تھا اُن میں کوئی اور ولی تھا کوئی
دیکھنے میں تو وہ تھے محض ثنا خوانِ غزل
چاہیے شعر کو اب بھی وہی سودا وہی درد
توسنِ طبع وہی اور وہی میدانِ غزل
میرِ محفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر
اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل
آتشِ عشق نے دی جرأتِ اظہار مجھے
شجرِ غم کا ثمر ہے مرا دیوانِ غزل
کام گو بند نہیں کوئی بھی غالب کے بغیر
نام سے اُس کے ہی روشن ہے خیابانِ غزل
ناسخ و ذوق و ظفر، مومن و حالی و امیر
ان کے پھولوں سے مہکتا ہے گلستانِ غزل
راہ شاعر کو دکھاتا ہے وہی داغِ فراق
آج بھی ہجر کا سامان ہے سامانِ غزل
سفرِ فکر میں اقبال رہا میرا انیس
اُس نے سیراب کیا میرا بیابانِ غزل
لخت ہائے جگرِ وحشی کو معمولی نہ جان
کوئی یاقوتِ غزل ہے کوئی مرجانِ غزل
عمر بھر ہم کو وفا پیشہ اُسی نے رکھا
ہم نے باندھا تھا لڑکپن میں جو پیمانِ غزل
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصِرؔ
مدرسہ میرا ہے ناصِر کا دبستانِ غزل
باصر کاظمی

دوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 25
درد کے موسم کا کیا ہو گا اثر انجان پر
دوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر
آج تک اس کے تعاقب میں بگولے ہیں رواں
ابر کا ٹکڑا کبھی برسا تھا ریگستان پر
میں جو پربت پر چڑھا، وہ اور اونچا ہو گیا
آسماں جھکتا نظر آیا مجھے میدان پر
کمرے خالی ہو گئے سایوں سے آنگن بھر گیا
ڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر
اب یہاں کوئی نہیں ہے کس سے باتیں کیجیے
یہ مگر چپ چاپ سی تصویر آتش دان پر
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے
تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
بس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں
نیلی چادر سی تنی ہے جو کھلے میدان پر
وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ
یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشندان پر
شکیب جلالی

کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1593
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ
پایہ اس کی شہادت کا ہے عرش عظیم سے بالاتر
جو مظلوم عشق موا ہے بڑھ کر ٹک میدان کے بیچ
یوں ہی نظر چڑھ رہتی نہیں کچھ حسرت میں تو چشم سفید
دیکھی ہے ہیرے کی دمک میں اس چشم حیران کے بیچ
وہ پرکالہ آتش کا ہے صبح تلک بھڑکا بھی نہ تھا
کیا جانوں کیا پھونک دیا لوگوں نے اس کے کان کے بیچ
وعدے کرو ہو برسوں کے تم دم کا بھروسا ہم کو نہیں
کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے یاں اک پل میں اک آن کے بیچ
تبعیّت سے جو فارسی کی میں نے ہندی شعر کہے
سارے ترک بچے ظالم اب پڑھتے ہیں ایران کے بیچ
بندے خداے پاک کے ہم جو میر نہیں تو زیر فلک
پھر یہ تقدس آیا کہاں سے مشت خاک انسان کے بیچ
میر تقی میر

لاگ جی کی جس سے ہو دشمن ہے اپنی جان کا

دیوان پنجم غزل 1543
عشق ہو حیوان کا یا انس ہو انسان کا
لاگ جی کی جس سے ہو دشمن ہے اپنی جان کا
عاشق و معشوق کی میں طرفہ صحبت سیر کی
ایک جی مارے ہے مرہون ایک ہے احسان کا
میں خردگم عشق میں اس لڑکے کے آخر ہوا
یہ ثمر لایا نہ دیکھا چاہنا نادان کا
مرنا اس کے عشق میں خالی نہیں ہے حسن سے
رشک کے قابل ہے جو کشتہ ہے اس میدان کا
گر پڑیں گے ٹوٹ کر اکثر ستارے چرخ سے
ہل گیا جو صبح کو گوہر کسی کے کان کا
ہر ورق ہر صفحے میں اک شعرشورانگیز ہے
عرصۂ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
کیا ملاوے آنکھ نرگس اس کی چشم سرخ سے
زرد اس غم دیدہ کو آزار ہے یرقان کا
بات کرتے جائے ہے منھ تک مخاطب کے جھلک
اس کا لعل لب نہیں محتاج رنگ پان کا
کیا کہوں سارا زمانہ کشتہ و مردہ ہے میر
اس کے اک انداز کا اک ناز کا اک آن کا
میر تقی میر

اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں

دیوان چہارم غزل 1462
عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں
اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں
کس امید پہ ساکن ہووے کوئی غریب شہر اس کا
لطف نہیں اکرام نہیں انعام نہیں احسان نہیں
ہائے لطافت جسم کی اس کے مر ہی گیا ہوں پوچھو مت
جب سے تن نازک وہ دیکھا تب سے مجھ میں جان نہیں
کیا باتوں سے تسلی ہو دل مشکل عشقی میری سب
یار سے کہنے کہتے ہیں پر کہنا کچھ آسان نہیں
شام و سحر ہم سرزدہ دامن سر بگریباں رہتے ہیں
ہم کو خیال ادھر ہی کاہے ان کو ادھر کا دھیان نہیں
جان کے میں تو آپ بنا ہوں ان لڑکوں میں دیوانہ
عقل سے بھی بہرہ ہے مجھ کو اتنا میں نادان نہیں
پائوں کو دامن محشر میں ناچاری سے ہم کھینچیں گے
لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں
چاہت میں اس مایۂ جاں کی مرنے کے شائستہ ہوئے
جا بھی چکی ہے دل کی ہوس اب جینے کا ارمان نہیں
شور نہیں یاں سنتا کوئی میر قفس کے اسیروں کا
گوش نہیں دیوار چمن کے گل کے شاید کان نہیں
میر تقی میر

ولے اس کی نایابی نے جان مارا

دیوان چہارم غزل 1342
اگرچہ جہاں میں نے سب چھان مارا
ولے اس کی نایابی نے جان مارا
قیامت کو جرمانۂ شاعری پر
مرے سر سے میرا ہی دیوان مارا
رہائی ہے اس صیدافگن سے مشکل
گیا سانجھ تو صبح پھر آن مارا
لگا آتشیں نالہ شب اپنے دل کو
اس انداز سے جیسے اک بان مارا
قیامت کا عرصہ ہے اے میر درہم
مرے شور و زاری نے میدان مارا
میر تقی میر

آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے

دیوان اول غزل 606
اپنا سر شوریدہ تو وقف خم چوگان ہے
آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے
عالم مری تقلید سے خواہش تری کرنے لگا
میں تو پشیماں ہو چکا لوگوں کو اب ارمان ہے
ہر چند بیش از بیش ہے دعویٰ تو رونے کا تجھے
پر دیدئہ نمناک بھی اے ابرتر طوفان ہے
اس بے دمی میں بھی کبھو دل بھر اٹھے ہے دم ترا
آ ٹک شتابی بے وفا اب تک تو مجھ میں جان ہے
ہر لحظہ خنجر درمیاں ہر دم زباں زیر زباں
وہ طور وہ اسلوب ہے یہ عہد یہ پیمان ہے
اس آرزوے وصل نے مشکل کیا جینا مرا
ورنہ گذرنا جان سے اتنا نہیں آسان ہے
بس بے وقاری ہوچکی گلیوں میں خواری ہوچکی
اب پاس کر ٹک میر کا دو چار دن مہمان ہے
میر تقی میر

دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے

دیوان اول غزل 491
بے یار شہر دل کا ویران ہورہا ہے
دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے
اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں
ہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہورہا ہے
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی
آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہورہا ہے
ٹک زیر طاق نیلی وسواس سے رہا کر
مدت سے گرنے پر یہ ایوان ہورہا ہے
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے
یعنی ہزار جی سے قربان ہورہا ہے
حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو
سنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہورہا ہے
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی
ایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہورہا ہے
قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو
دشوار جان دینا آسان ہورہا ہے
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم
اک روز میر صاحب طوفان ہورہا ہے
میر تقی میر

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

دیوان اول غزل 9
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن
اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا
پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد
تاحشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ
محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز
تاحشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی
جب تک جیے گا میر پشیمان رہے گا
میر تقی میر

اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 354
وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے
اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے
کچھ عشق کے نصاب میں کمزور ہم بھی ہیں
کچھ پرچۂ سوال بھی آسان چاہیے
تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور
سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیے
اب تک کس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں لوگ
امید کے لیے کوئی امکان چاہیے
ہو گا یہاں نہ دست و گریباں کا فیصلہ
اس کے لیے تو حشر کا میدان چاہیے
آخر ہے اعتبارِ تماشا بھی کوئی چیز
انسان تھوڑی دیر کو حیران چاہیے
جاری ہیں پائے شوق کی ایذا رسانیاں
اب کچھ نہیں تو سیرِ بیابان چاہیے
سب شاعراں خریدۂ دربار ہو گئے
یہ واقعہ تو داخلِ دیوان چاہیے
ملکِ سخن میں یوں نہیں آنے کا انقلاب
دو چار بار نون کا اعلان چاہیے
اپنا بھی مدتوں سے ہے رقعہ لگا ہوا
بلقیس شاعری کو سلیمان چاہیے
عرفان صدیقی

میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 64
زرتاب ترا قریۂ ویران کر دیا
میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا
اس بار یوں ہوا کہ اندھیروں کی فوج کو
دو چار جگنوؤں نے پریشان کر دیا
کمزور طائروں کو لہو کی ترنگ نے
شاہیں بچوں سے دست و گریبان کر دیا
دست ستم کا دل پہ کوئی بس نہ چل سکا
تھوڑا سا مریے جسم کا نقصان کر دیا
سینے پہ نیزہ، پشت پہ دیوار سنگ تھی
تنگ آکے ہم نے جنگ کا اعلان کر دیا
وہ آفتیں پڑیں کہ خدا یاد آگیا
ان حادثوں نے مجھ کو مسلمان کر دیا
وہ درد ہے کہ دل سے نکلتا نہیں سو آج
ہم نے سپرد خانہ بہ مہمان کر دیا
عرفانؔ ، بزم بادہ و گل تھی زمین شعر
تم نے تو اس کو حشر کا میدان کر دیا
عرفان صدیقی

عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پکارتا ہے مگر دھیان میں نہیں آتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
بس ایک نام ہے اپنا نشاں، جو یاد نہیں
اور ایک چہرہ جو پہچان میں نہیں آتا
میں گوشہ گیر ہوں صدیوں سے اپنے حجرے میں
مصافِ بیعت و پیمان میں نہیں آتا
مجھے بھی حکم نہیں شہر سے نکلنے کا
مرا حریف بھی میدان میں نہیں آتا
میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں
کہ جمع ہو کے بھی میزان میں نہیں آتا
مرے خدا، مجھے اس آگ سے نکال کہ تو
سمجھ میں آتا ہے، ایقان میں نہیں آتا
عرفان صدیقی

ایک بزنس جس میں بس نقصان ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 593
اچھے بزنس مین کی پہچان ہے
ایک بزنس جس میں بس نقصان ہے
دوڑتی پھرتی ہوئی بچی کے پاس
دور تک اک گھاس کا میدان ہے
صبح تازہ کی اذاں کے واسطے
میرے کمرے میں بھی روشن دان ہے
پتھروں سے مل نہ پتھر کی طرح
سنگ میں بھی روح کا امکان ہے
چند ہیں ابرِ رواں کی چھتریاں
باقی خالی دھوپ کادالان ہے
اتنا ہے پاکیزگی سے رابطہ
میرے گھر کا نام پاکستان ہے
موت آفاقی حقیقت ہے مگر
زندگی پر بھی مرا ایمان ہے
جتنی ممکن ہے جگہ دامن میں دے
روشنی منصور کی مہمان ہے
منصور آفاق