ٹیگ کے محفوظات: مہیا

تری مہندی تو سلامت ہے تو کیا کیا ہو نہیں سکتا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 9
یہ تو نے کیا کہا خونِ تمنا ہو نہیں سکتا
تری مہندی تو سلامت ہے تو کیا کیا ہو نہیں سکتا
پڑھے گر لاکھ ماہِ چرخ تم سا ہو نہیں سکتا
یہ صورت ہو نہیں سکتی یہ نقشہ ہو نہیں سکتا
کروں سجدے میں اے بت مجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا
خدا تو ہو نہیں سکتا میں بندہ ہو نہیں سکتا
قفس سے چھوٹ کر صیاد جائیں تو کیا جائیں
ہمیں تو آشیاں بھی اب مہیا ہو نہیں سکتا
گناہ گاروں کا مجمع سب سے آگے ہو گا اے واعظ
تجھے دیدار بھی پہلے خدا کا ہو نہیں سکتا
نہ دینا آشیاں کو آگ ورنہ جان دے دیں گے
ہمارے سامنے صیاد ایسا ہو نہیں سکتا
انہیں پر منحصر کیا آزما بیٹھے زمانے کو
قمر سچ تو یہ ہے کوئی کسی کا ہو نہیں سکتا
قمر جلالوی

دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے

دیوان چہارم غزل 1526
کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے
دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے
عشق کیا سو باتیں بنائیں یعنی شعر شعار ہوا
بیتیں جو وے مشہور ہوئیں تو شہروں شہروں رسوا تھے
کیا پگڑی کو پھیر کے رکھتے کیا سر نیچے نہ ہوتا تھا
لطف نہیں اب کیا کہیے کچھ آگے ہم بھی کیا کیا تھے
اب کے وصال قرار دیا ہے ہجر ہی کی سی حالت ہے
ایک سمیں میں دل بے جا تھا تو بھی ہم وے یک جا تھے
کیا ہوتا جو پاس اپنے اے میر کبھو وے آجاتے
عاشق تھے درویش تھے آخر بیکس بھی تھے تنہا تھے
میر تقی میر

چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 529
پھر دسترس سے دور ثریا دکھائی دے
چوکور اپنی کار کا پہیہ دکھائی دے
ہیٹر تو بالکونی کا بھی آن ہے مگر
کیوں اتنا سرد گھر کا رویہ دکھائی دے
سرکار نے فقیرکی خیرات لوٹ لی
گرتی کرنسیوں میں روپیہ دکھائی دے
کتنے دنوں سے خواب میں ملاح کے بغیر
دریا میں تیرتی ہوئی نیا دکھائی دے
منبر پہ بوجہل کی ہے اولاد جلوہ گر
منصب پہ خاندانِ امیہ دکھائی دے
دل نے ترے وصال کی ٹھائی ہوئی ہے دوست
جی میں ترے ملن کاتہیہ دکھائی دے
منصور ایک موت کاکوئی نہیں علاج
ہر چیز اس زمیں پہ مہیا دکھائی دے
منصور آفاق